Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

معین اخترجیسافنکارایک بارپیداہوتا ہے

SAMAA | - Posted: Apr 22, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 22, 2020 | Last Updated: 6 months ago

چار دہائیوں تک ٹی وی اسکرین پر راج کرنے والے عظیم فنکار معین اختر کی پہچان پھلجڑیوں، شگوفوں، چٹکلوں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اداکاری بھی تھی، ان کی نویں برسی آج 22 اپریل کو منائی جارہی ہے۔

جو کردار نبھایا، امر کر دکھایا، یہ جملہ کسی پر فٹ بیٹھتا ہے تو وہ معین اختر ہیں، ہاف پلیٹ کے مرزا صاحب ہوں، یا نٹ کھٹ روزی، لیجنڈری اداکارکا ہر کردار آج بھی ذہنوں میں جوں کا توں ہے۔

چوبیس دسمبر 1950ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے 1966ء میں پی ٹی وی پر یوم دفاع پاکستان پروگرام سے فنی سفر شروع کیا اور چھا گئے۔

ان کے کریڈٹ پر بچاؤ معین اختر سے، بے بیا معین اختر، ہاف پلیٹ اور لوز ٹاک سمیت سبھی پروگرامز بےمثل ہیں لیکن ڈرامہ سیریل “روزی” میں نبھائے جانے والے کردارنے ان کوامرکردیا۔

معین اختر کا شمارپاکستان کے ان فنکاروں میں کیا جاتا تھا جن کے ساتھ کام کرکے بھارتی فنکار بھی فخر محسوس کرتے تھے۔

پیروڈی میں تو معيین اختر کا کوئی مقابلہ نہ تھا، یہ ان کے فن کا ہی کمال ہے کہ انور مقصود جیسے بڑے رائٹر معین اختر کے بنا اپنی کہانیوں کو ادھورا سمجھتے تھے۔

انور مقصود نے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ معین اخترجیسا فنکار ایک بارہی پیدا ہوتا ہے اپنے پروگرام لوزٹاک کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے معین سے کہا تھا کہ اپنی طرف سے کھانسنا بھی مت۔۔ اپنی طرف سے سانس لینا بھی گوارا نہیں کرنا اور 389 اقساط میں معین نے وہی کیا جو اسکرپٹ میں لکھا تھا اور یہ کوئی بڑا ایکٹر ہی کرسکتا ہے۔

ہنسنے ہنسانے والے معین اختر 22 اپریل 2011ء کو دل کے دورے کے باعث کراچی میں ابدی نیند سو گئے لیکن ان کی یادیں آج بھی لبوں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube