Wednesday, July 8, 2020  | 16 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

حریم شاہ کااعلان اور رمضان ٹرانسمیشن کی اونچی دکان

SAMAA | - Posted: Apr 16, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 16, 2020 | Last Updated: 3 months ago

انعامات کے بغیر پکوان کہیں پھیکا نہ رہ جائے

ماہ رمضان قریب آتے ہی ٹی وی چینلزمیں ایک مسابقتی دوڑشروع ہوجاتی ہے، ہرایک کی خواہش ہوتی ہے کہ میزبانی کیلئے سب سے بڑا نام ان کے پاس ہو کیونکہ معروف شخصیات اورایک سے ایک انعامات کے ساتھ یہ رمضان شوزریٹنگ بھی خوب دیتے ہیں۔

ایسے میں ایک خبرنے عوام کی بھرپور توجہ حاصل کی اور وہ ہے ٹک ٹاک سے شہرت حاصل کرنے والی حریم شاہ کی جانب سے رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کااعلان۔

ٹوئٹرپرحریم نے 2 روز قبل اس خبرکی تصدیق کرتے ہوئے فالوورز سے مشورہ بھی مانگ لیا کہ انہیں کن موضوعات پربات کرنی چاہیئے۔ گوکہ حریم کی جانب سے متعلقہ چینل کا نام فی الحال نہیں بتایا گیا لیکن غیر مصدقہ اطلاعات کےمطابق وہ غالبا لاہورکے چینل 24 پریہ پروگرام کریں گی۔

حریم شاہ کے اس اعلان پرسوشل میڈیا پربھی خاصاشدیدردعمل دیکھنے میں آیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں رمضان ٹرانسیمشن کا تصورشوبزستاروں سے جوڑ دیا گیا ہے، پورا سال ٹی وی اور بڑی اسکرین پرمحظوظ کرنے والے بیشتراداکار ماہ رمضان میں عوام کو دینی تعلیمات کے حوالے سے گفتگو کرتے نظرآتے ہیں۔ چند نمایاں نام ساحر لودھی، جویریہ سعود، احسن خان، عائشہ خان، شائستہ لودھی ،جگن کاظم اوردیگرہیں۔

گزشتہ سال کی ٹرانسمیشن میں چند نئے چہروں کااضافہ بھی ہوا جن میں شادی کے بعد امریکا منتقل ہوجانے والی اداکارہ ریما خان ، جیو نیوز کی اینکررابعہ انعم،عامرلیاقت حسین کی پہلی اہلیہ بشریٰ عامرجنہوں نے احسن خان کے ہمراہ میزبانی کی۔ اس فہرست میں عامرلیاقت کی دوسری اہلیہ طوبیٰ کا نام بھی شامل ہے۔

اب کی بارنیا کیا؟

اہم بات یہ ہے کہ اس بارصورتحال ذرا مختلف ہے۔عالمی وبا قرار پانے والے کرونا وائرس کے باعث روایتی رمضان ٹرانسمیشن کا انعقاد ممکن نہیں جس میں گیمز اورانعامات جیتنا سرفہرست ہیں، توریٹنگ کی اس دوڑ میں آگے رہنے کیلئے ٹی وی چینلزایسا کیا کررہے ہیں کہ ناظرین ٹی وی دیکھتے ہوئے چینل تبدیل کرنے پرمجبورنہ ہوں۔

اس حوالے سےجاننےکیلئے سماء ڈیجیٹل نے مذہبی نشریات کےحوالے سے بڑے نام ڈاکٹرعامرلیاقت سے بات کی توان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال ایکسپریس چینل پر ٹرانسمیشن کریں گے تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ "میرے آئیڈیاز چوری کرلیےجاتے ہیں، اس لیے فارمیٹ نہیں بتاؤں گا، یہ ایک سرپرائز ہے"۔

گزشتہ کئی سال سے اے آروائی سے منسلک معروف میزبان وسیم بادامی کا بھی کچھ ایسا ہی کہنا تھا کہ اس سوال کا جواب انتظامیہ کی مشاورت سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ پیمرا کی ہدایات کے بعد وسیم کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ابھی تبصرہ نہیں کرسکتا۔

موصول تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی پراداکار احسن خان شیف وردہ کے ہمراہ پروگرام کریں گے جبکہ فہد مصطفیٰ اپنا پروگرام "جیتوپاکستان" اور وسیم بادامی "شانِ رمضان " کیلئے ایک بار پھر تازہ دم ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ شرکاء کی غیرموجودگی میں طےشدہ فارمیٹ کے تحت پروگرام کیسے ہوگا؟ اس ضمن میں پروگرام اسپانسرز کرنے والی کمپنیزکا کردارانتہائی اہم ہے جن کے پیش نظر اپنی پبلسٹی ہوتی ہے۔

[caption id="attachment_1905002" align="alignnone" width="511"] تصویر: جیتو پاکستان ایپ[/caption]

 انعامات کی برسات کرنے والی کمپنیاں کہاں گئیں؟

سماء ڈیجیٹل نے اس حوالے سے تقریبا تمام گیم شوزکو اسپانسرزفراہم کرنے والی ملک کی معروف ایجنسی سے رابطہ کیا توحیران کن تفصیلات سامنے آئیں۔ کئی ملین بجٹ رکھنے والی نمایاں کمپنیز نے تو کٹوتی کی ہی ہے،ان کے علاوہ مصالحہ جات، کوکنگ آئل، مشروب سازکمپنیوں سے تاحال اسپانسرشپ کیلئے دلچسپی ہی ظاہرنہیں کی۔ بڑی کمپنیاں 30 ، 30 موٹرسائکلیں توآرام سے سے دیتی تھیں جبکہ گھی تیل بنانے والی کمپنی تک گاڑی کاانعام رکھتی تھی۔ معروف گھی کی برانڈ اورروایتی لال مشروب بنانے والی 2 بڑی کمپنیاں بھی اس دوڑ سے باہر ہیں جوکہ سحر وافطارکے لیے دسترخوان کا اہتمام کرتی تھیں۔

فہدمصطفیٰ کے پروگرام "جیتو پاکستان " کی جان ہی شرکاء مانے جاتے ہیں توان کے بغیرپروگرام کیسے کیا جائے گا؟ ایجنسی کے ایک عہدیدار نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ فی الحال معاملات فائنل کیے جارہے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ پروگرام کو اسپانسرز دیے جارہے ہیں،اس پروگرام کیلئے ہمارے پاس سب سے زیادہ کلائنٹس ہیں۔

ایجنسی کے مطابق ایکسپریس پرعامر لیاقت کے شوکے اسپانسرز کیلئے ابھی بات چل رہی ہے جبکہ وسیم بادامی کے شو "شانِ رمضان " کیلئے بھی معاملات جاری ہیں کیونکہ سلیبرٹیز اور شرکاء شاید ہی شو کا حصہ ہوں۔ ایجنسی کے مطابق انعامات نعتیہ مقابلوں اورکوئز کمپٹیشن کیلئے مختص کیے جارہے ہیں۔ (پیمرا کی جانب سے جاری ہدایات میں ایسے مقابلوں کا انعقاد ویڈیولنک کے ذریعے کروانے کوکہا گیا ہے)۔

پیمرا کا موقف

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے پیمرا کے ایک اعلیٰ عہدیدارکا کہنا تھا کہ چینلزکو وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا، شرکاء کو بلانا کسی صورت ممکن نہیں، اینکرزبھی 6، 6 افراد کا پینل بلا کربیٹھ جاتے ہیں جو کہ موجودہ صورتحال میں قطعی قابل قبول نہیں، اسٹوڈیو میں موجود ہرشخص کا ٹیسٹ کروایا جائے اور رمضان ٹرانسمیشن سے وابستہ تمام افراد اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔

پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کیلئے جاری کردہ ہدایات

اگر 2 افراد رمضان ٹرانسمیشن کر رہے ہوں گے تو وہ ایسے بیٹھیں کہ درمیانی فاصلہ ایک میٹرسےکم نہ ہو۔ اسی طرح سے ہر 2 اشخاص کے درمیان آن آف اسکرین فاصلہ ایک میٹرسے کم نہ ہو۔

ایک وقت میں صرف ایک ہی مہمان سیٹ پرآسکتا ہے۔

پروگرام میں موٹربائیکس،ٹی وی گاڑیوں سمیت دیگرتحفے تحائف نہیں ہوں گے کیونکہ موجودہ صورتحال میں دنیا کو بھوک اور بیروزگاری کا سامنا ہے، ایسے اقدامات کا انتہائی منفی اثرپڑے گا۔

کوئز، نعت اور تقاریر وغیرہ کے مقابلوں کو صرف ویڈیو لنک یا دیگر جدید ٹیکنالوجیزکے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے عوامی اجتماعات پر پابندی کے باعث اسٹوڈیوز میں رمضان سٹی/ بڑے بڑے سیٹ نہیں لگائے جائیں گے۔

انتظامیہ پر متعلقہ شو کے اسٹاف کوکرونا کے پھیلاؤ سے بچاؤ کیلئے مکمل حفاظتی کٹس فراہم کی جائیں گی۔

رمضان ٹرانسمیشن کیلئے استعمال ہونے والے اسٹوڈیوز،آلات، گیجٹس روزانہ کی بنیاد پر جراثیم سے پاک کیے جائیں گے۔

داخلی راستوں اور اسٹوڈیوز کے اندربھی ہاتھ دھونے اور سینیٹائزرکا انتظام کیاجائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube