Tuesday, September 22, 2020  | 3 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

وقار ذکاء کےغیر شائستہ ہیڈفون شو کے پیچھےچھپا بڑا مقصد

SAMAA | - Posted: Apr 9, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 9, 2020 | Last Updated: 6 months ago

کرونا وائرس کی وباء کے باعث ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے ایسے میں شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات عوام کو کرونا سے بچاؤ کی جہاں آگاہی فراہم کررہی ہیں وہیں ان کی تفریح کیلئے سوشل میڈیا لائیو سیشن بھی کر رہے ہیں تاکہ گھروں پر رہنے والی عوام کو انٹرٹینمنٹ فراہم کیا جاسکے۔

وی جے اور میزبان وقا ذکاء نے بھی گھر میں رہنے والے اپنے مداحوں کی تفریح کیلئے یوٹیوب پر ہیڈفون شو کے نام سے ایک لائیو سیشن شروع کیا ہے جس میں بے باک انداز میں گفتگو کی جاتی ہے ، ہیڈفون شو سے مراد ایسا شو جو فیملی شو نہیں ہوتا جس میں گالیاں ، غیر اخلاقی گفتگو اور گندے مذاق کیے جاتے ہیں جسے آپ ہیڈ فون لگا کر خود سن سکتے ہیں ۔

وقار ذکاء نے سماء ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس شو کا ایک مقصد چھچھور پن اور بے باک موضوع پر گفتگو کے ذریعے لوگوں کواکھٹا کرنا اور ساتھ ہی انہیں ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے ۔

کرونا وائرس

کرونا وائرس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب پی ایس ایل چل رہا تھا میں اس وقت سے کہہ رہا تھا لاک ڈاون کیا جائے لیکن لوگوں نے مجھ پر تنقید کی اب وائرس ملک میں آگیا اور اب لاک ڈاون کا کوئی فائدہ نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کھانوں کی چیزوں میں ٹھیک صفائی نہیں ہوتی جس کے باعث یہاں بیماریاں بھی زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ باہر کے ممالک میں ڈینگی ، ملیریا اتنا نہیں ہوتا،جتنا یہاں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے اعصاب اتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو کرونا ہوگا اور انہیں پتا بھی نہیں ہوگا ،ہمیں لاک بہت پہلے کرنا چاہیے تھا اب ختم کردیں جو ہونا تھا وہ ہوگیا ۔

ہیڈ فون شو

انہوں نے کہا کہ میری ذاتی تحقیق کے مطابق برصغیر میں ڈپریشن اتنا بڑھ گیا ہے کہ اگر گندے لطیفے اور چھچھور پن نہ ہوں تو لوگ برباد ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 70 فیصد لوگوں کو چھچھور پن پسند ہے اگر نہ ہوتا تو رمضان میں افطار کے وقت گیم شو کی ریٹنگ سب سے زیادہ نہ ہوتی ۔

انہوں نے کہا کہ میرا امیج ہمیشہ سے ایسا ہے جو کرتا ہوں وہ سب کے سامنے کرتا ہوں ، اس طرح کے بولڈ اور بے باک شوز کی ڈیمانڈ عوام کرتی ہے اگر میں نہیں کروں گا تو کوئی اور کرے گا ہم دوکان دار کی طرح ہیں عوام کی ڈیمانڈ پر چیزیں رکھنی ہیں اگر کوئی نہیں رکھنا چاہتا نہ رکھے ۔

وقار ذکاء کا کہنا تھا کہ چھچھور پن کی وجہ سے عوام جمع ہوتی ہے میری کوشش ہے کہ لوگوں کو اس کے ذریعے صحیح بات بتاوں۔ یہ پی ٹی وی کا زمانہ نہیں ہے اب کنٹرول عوام کے پاس ہے ۔سوشل میڈیا نے اس انڈسٹری کو وسعت دے دی ہے جس کو جو دیکھنا ہے وہ اپنا من پسند پروگرام سوشل میڈیاپر جا کر دیکھ سکتا ہے، اگر میں ایسا نہیں شو نہیں کروں گا تو یہ لوگ اس طرح کا بھارتی مواد دیکھیں گے اگر وہ نہیں دیکھیں گے تو فحش فلمیں دیکھیں گے ۔

ہیڈ فون شو سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میرا شو ٹرینڈنگ نمبر ون آنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام یہ چاہتی ہے اس شو کی وجہ سے پہلی بار ‘کرپٹوکرنسی کو لیگل کرو’ ٹاپ ٹرینڈ میں آیا، اس لیے میں نے یہ رسک لیا کہ میں گندی بات کرکے لوگوں کو اکٹھا کروں اور پھر انہیں ٹیکنالوجی سے متعلق چیزیں بتاؤں۔ اس شو کا مقصد ان تمام لوگوں کو جمع کرکے ان کو کرپٹو کرنسی سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے ۔

فلاحی کام

وقا ذکاء فاونڈیشن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل صدقہ اور ڈجیٹل خیرات کا نظریہ پیش کیا جائے گا اور اسی ضمن میں ہیڈفون شو سے آنے والی آمدنی لوگوں کی مدد کیلئے استعمال کیا جارہی ہے ۔

کرپٹو کرنسی

انہوں نے کہا کہ آج تک پاکستان میں صرف آٹا چور چینی چور ہی ٹرینڈنگ کرتا ہے لیکن کوئی بھی اس پر بات نہیں کرتا کہ ملک میں پیسا کیسے آئے گا پیسے کیلئے ہمیں کرپٹو مائننگ مشین لگانا ہوگی ، اگر میں ڈائریکٹ اس کی بات کروں گا تو کوئی اس کو نہیں سنے گا لیکن میں گالیاں دوں گا اور گندہ لطیفہ سناؤں گا تو لوگ جمع ہوجائیں گے پھر میں انہیں یہ بھی سمجھا سکتا ہوں کیونکہ بوریت سے بھرپور موضوع کو سمجھانے کیلئے چھچھور پن کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں پوری دنیا کی معیشت گرے گی کیونکہ تمام صنعتیں بند کردی گئیں ہیں، اوپر سے آئی ٹی سے متعلق کام پر ہماری توجہ نہیں ہے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو مائننگ مشین امریکہ اور چائنا میں ہے۔

وقار ذکاء نے حکومت کو چلینج کرتے ہوئے کہا کہ مجھے چترال کے علاقے میں کرپٹو مائننگ مشین لگانے دیں یہ ایک نارمل کمپوٹر ہے جس میں 1 کروڑ کی لاگت آئے گی اور اس سے 10 ہزار ڈالر مہینہ آمدنی ہوگی اگر کوئی آئی ٹی ماہر یہ کہہ دے کہ وقار ذکاء غلط بول رہا تو مجھ پر پابندی لگادی جائے۔

میں پورنوگرافی اور خود لذتی کے خلاف ہوں ایک تو یہ غلط کام ہے اور اس سے نوجوان نسل تباہ ہورہی ہیں لیکن اس سے روکنے کیلئے کوئی بات نہیں کررہا، لاک ڈاؤن میں فحش فلمیں دیکھنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔

میں لوگوں کو اسی لیے ٹیکلنالوجی کی طرف لارہا ہوں تاکہ یہ فحش فلموں سے دور رہیں جس کی وجہ سے نوجوان ڈپریشن اور چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں ،میں نوجوانوں کو اپنے شو میں موقع دیتا ہوں کہ اپنا بزنس اپنے نام سے پروموٹ کریں ، آج تک کسی مشہور شخصیت نے اپنے پلیٹ فارم پر کسی کو اس طرح موقع نہیں دیا ۔

انہوں نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کوئی میرے گھر راشن نہیں دیتا ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا مقصد صرف پاکستان کو ٹیکنالوجی کے طرف لانا ہے لیکن میں دو سال محنت کرکے دیکھ رہا ہوں کہ کوئی اس موضوع کو سننا نہیں چاہتا اس لیے میں آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ گالیوں اور بولڈ الفاظ کے ذریعے ان تک اپنی بات پہنچائی جا سکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube