Friday, September 18, 2020  | 29 Muharram, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

دھمکیاں نظر انداز، زندگی تماشہ 24 جنوری کو ریلیز ہوگی

SAMAA | - Posted: Jan 18, 2020 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 18, 2020 | Last Updated: 8 months ago

معروف اداکار و ہدایت کار سرمد کھوسٹ نے نئی فلم ’’زندگی تماشہ‘‘ کو مرکزی فلم سینسر بورڈ سے کلیئرنس کے بعد دھمکیوں کے باوجود 24 جنوری کو ملک بھر میں ریلیز کرنے کا اعلان کردیا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ فلم سینسر بورڈ کے ایک رکن نے بتایا کہ زندگی تماشہ کو تینوں سینسر بورڈز سے نمائش کی اجازت مل گئی، سندھ، پنجاب اور مرکزی سینسر بورڈز نے فلم کو کلیئر کردیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سینسر بورڈ کے تمام ممبران نے فلم کا دو مرتبہ جائزہ لیا، چند مناظر کو ہٹانے کے بعد فلم کو تمام اراکین سینسر بورڈ نے کلیئر کردیا۔ اراکین سینسر بورڈ کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ فلم متنازع نہیں ہے۔

سندھ فلم سینسر بورڈ کے رکن نے واضح کیا کہ تاحال ڈسٹری بیوٹرز کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔ انہیں امید ہے کہ جلد مل جائے گا۔

اداکار و ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کے نام اپنے کھلے خط کے ذریعے فلم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی جانب ان کی توجہ دلائی تھی۔

ٹویٹر پر جاری اپنے کھلے خط میں سرمد کھوسٹ نے مزید لکھا کہ فلم سینسر بورڈ سے کلیئر ہونے کے باوجود اس کی ریلیز روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سرمد کھوسٹ نے واضح کیا کہ میں ہر ایک کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اپنی فلم ملک بھر میں ریلیز کرنے کیلئے میرے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں، زندگی تماشہ اپنے نام کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فلم کسی فرد واحد یا ادارے کو نشانہ بنانے، اس پر انگلی اٹھانے یا تذلیل کی نیت سے نہیں بنائی گئی۔

سرد کھوسٹ نے واضح کیا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حالات کیسے ہیں، یہ فلم 24 جنوری کو ملک بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔

سرمد کھوسٹ نے اپنے خط میں بتایا ہے کہ فلم کو پاکستان کے تینوں سینسر بورڈز نے کلیئر کردیا ہے اور اس کا ورلڈ پریمیئر بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں کیا گیا۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ فلم کی ریلیز کیلئے 24 جنوری کی تاریخ رکھی گئی ہے، تاہم صرف ڈھائی منٹ کے ٹریلر کی بنیاد پر قائم مفروضے کے تحت فلم کے مصنف، پروڈیوسر اور میرے خلاف ایک شکایت درج کرائی گئی ہے۔

خط میں انہوں نے پاکستانی سنیما کیلئے اپنی خدمات کا بھی ذکر کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اپنی نئی فلم کے بڑے پردے پر نمائش کی راہ میں حائل رکاٹوں سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔

سرمد کھوسٹ کا کہنا ہے کہ قانون پسند شہری ہونے کے تحت اور اس میں کسی بھی طرح کی جارحیت یا بدنیتی نہ ہونے کے یقین کے ساتھ میں نے فلم ایک اور جائزے کیلئے دوبارہ سینسر بورڈ میں جمع کرائی، جسے شکایتیں دور کرنے کیلئے چند مناظر ہٹانے کے بعد ایک بار پھر کلیئرنس مل گئی۔ میں نے فلم کی پروموشن مہم کا آغاز کردیا اور اب جب اس کی ریلیز میں صرف ہفتے رہ گئے ہیں، چند گروہ اس کی نمائش روکنے کیلئے پھر سرگرم ہوگئے ہیں، اس بار وہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی بھی استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم کو دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے، یہ ایک قومی ادارے جیسا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سینسر کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔

سرمد کا خط میں مزید کہنا ہے کہ فنی اور تخلیقی سوچ و اظہار کو چند شدت پسندوں کی جانب سے روکا نہیں جانا چاہئے، لیکن مجھے خوف ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔

اکتوبر میں بھی فلم پر تنقید کے بعد یوٹیوب سے اس کا ٹریلر ہٹادیا گیا تھا، جسے کچھ ترامیم کے بعد دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا۔

ٹریلر یوٹیوب سے ہٹانے کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہدایتکار کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ٹریلر میں موجود کچھ مناظر پر چند لوگوں کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد کیا گیا۔ پہلے ٹریلر کے مطابق فلم کا مرکزی موضوع توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال تھا۔

زندگی تماشہ نے اس وقت لوگوں کی توجہ حاصل کی جب بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسے کامیابی ملی۔ سرمد کھوسٹ کی ہدایت میں بننے والی فلم کم جی سیوک ایوارڈ بھی جیت چکی ہے، جو 2017ء میں انتقال کرنے والے فیسٹیول کے کو فاؤنڈر اور ایگزیکٹو پروگرامر کے نام سے منسوب ہے۔

یہ ایوارڈ زندگی تماشہ کے ساتھ فیسٹیول میں پیش کی جانیوالی بھارتی ہدایتکار پرادیپ کورباہ کی فلم مارکیٹ کو مشترکہ طور پر دیا گیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
SARMAD KHOOSAT, ZINDAGI TAMASHA, Central Board of Film Censors, SINDH, PUNJAB, ACTOR, DIRECTOR
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube