Saturday, September 19, 2020  | 30 Muharram, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

چمکیلی کی چمک سے اتنی کھٹک کیوں؟

SAMAA | - Posted: Dec 18, 2019 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 18, 2019 | Last Updated: 9 months ago

گزشتہ روزلاہورکی سول کورٹ میں دائر کی جانے والی ایک درخواست سے گلوکاری کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھنے والے ابرارالحق کے گیتوں کو متنازع قرار دینے کی ہیٹ ٹرک مکمل ہوگئی۔

نچ پنجابن اور پروین کے بعد گلوکار کا نیا چیلنج ’’چمکیلی ‘‘ ہے۔

ابرار کے اس گانے کی ویڈیو دیکھیں تو بظاہرتو ایسا کچھ نہیں جس سے کسی کے نازک جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ ہو لیکن لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل رانا عدنان اصغر صاحب کا معاملہ تھوڑا مختلف نکلا جو یہ عرضی لیکرعدالت پہنچے کہ اس گانے میں ’’ویمن ایمپاورمنٹ‘‘ کی آڑ لیکر مردوں کی توہین کی گئی ہے۔

درخواست گزارکا کہنا ہے کہ 7 دسمبر کو ریلیز کیے جانے والے گانے میں مردوں کی دل آزاری اور تضحیک پرابرارالحق قوم سے معذرت کریں اور چمکیلی کو یو ٹیوب سے ہٹا دیا جائے۔

دراصل ابرار کے گانوں میں پائے جانے والے روایتی دھوم دھڑکے کے ساتھ اس ویڈیو کی تھیم کے مطابق دلہا کے بجائے بارات جیپ سوار دلہن لیکر پہنچی ہے جو گانے میں پرمزاح انداز کے ساتھ اپنی برتری جتا رہی ہے۔ عدنان اصغر کو اعتراض ہے کہ جٹی دلہن خود کیوں دلہا بیاہنے جا پہنچی۔ گانے کی ویڈیو میں مہوش حیات اور شاہ ویرجعفری نے پرفارم کیا ہے۔

پی آئی سی پر وکلاء حملے سے گانے کا کیا تعلق؟

سماء ڈیجیٹل نے موقف جاننے کیلئے درخواست گزار سے رابطہ کیا تو گانے کی تھیم پراعتراض اٹھاتے ہوئے عدنان اصغر نے کہا کہ گانے میں بارہا استعمال کیے جانے والے الفاظ سے مرد کی تضحیک کی گئی جس پر سول کورٹ کے جج محمد ضیاءالرحمان کی عدالت میں دیوانی دعویٰ دائر کیا ہے۔

درخواست میں ابرارالحق کےعلاوہ کمشنرلاہور، پیمرا اورآل پاکستان نیوز پیپرسوسائٹی کوفریق بنایا گیا ہے جنہیں 21 دسمبر کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔

عدنان اصغرکے مطابق ’’ماہیا نکا (چھوٹا) جیا‘‘ اور ’’میں لینے آئی ہوں ‘‘ بار بار کہہ کر مرد ذات کی توہین کی جارہی ہے، پاکستانی معاشرے کی اخلاقیات یہ نہیں ہیں کہ دلہن خود دلہا کو لینے جائے۔ معاشرے میں مردوں کا کردار ویسے ہی کم ہورہا ہے تو اس طرح کے گانے سے مزید بگاڑہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی سی کے بعد وکلا برادری کو فیصلہ کن حالات کا سامنا ہے تو میں نے سوچا کہ تھوڑا ریلیکسیشن کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ سماء ڈیجیٹل کی جانب سے اس ’’ریلکسیشن ‘‘ سے متعلق استفسار پرعدنان اصغر کا کہنا تھا کہ اس سے مزاح اور لطف اندوز ہونے کا عنصر پیدا ہوگا، کچھ نئی چیزآجائے گی۔

عدنان اصغرکو ایک اور پہلو یہ بھی نظرآتا ہے کہ ’’ابھی گانا بنا ہے، اب اس پر فلم بھی بنائی جائے گی جس میں لڑکی بھارتی اور لڑکا پاکستانی ہوگا، انڈین لڑکی کاکے کو بیاہنے آئے گی تو معاشرے پر اس کا اچھا اثر نہیں پڑے گا‘‘۔

سال 2004 سے وکالت کرنے والے عدنان اصغر نے اس مقدمے کیلئے 4 وکلاء کے پینل کی خدمات حاصل کی ہیں جن میں معظم بٹ، محمد سجاد رانا ، طارق شاہ اور طارق گجر شامل ہیں۔

اس بار گانا تبدیل نہیں کروں گا: ابرارالحق

سماء ڈیجیٹل نے ابرارالحق سے رابطہ کیا تو ان کا شکوہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں برداشت کی انتہائی کمی ہو گئی ہے،لوگ برداشت نہیں کرتے حالانکہ آرٹ کی مختلف اصناف کو اسی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے، اس کا دیگر چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔

گلوکار نے کہا کہ اپنے گانے نچ پنجابن پر اعتراض کے بعد اسے’’ نچ مجاجن‘‘ کیا، ’‘نی پروین‘‘ پراس وقت کےچیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیکر مجھے بلایا اور کہا کہ گانے میں ’’پروین ‘‘ نام کیوں استعمال کیا، جس کا یہ نام ہے اس کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔ حالانکہ ڈراموں فلموں میں بھی کیریکٹرز کے نام رکھے جاتے ہیں ، پھرتو اس پربھی اعتراض کیا جانا چاہیے۔

ابرار نے شکوہ کیا کہ میرے گانے کا تو انتظارکیا جاتا ہے کہ ادھرآئے اورادھرہم اسے متنازع بنائیں ۔ مجھے انتہائی دکھ ہے کہ کوک اسٹوڈیو میں ’’بلو کا گھر‘‘ اتنے عرصے بعد آیا اوراسے یو ٹیوب سے ہٹا دیا گیا حالانکہ وہ 11 ملین ہٹس لے چکا تھا۔

عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کل اسلام آباد میں تھا،آج ہی لاہور پہنچا ہوں اور فی الحال یہ میرے علم میں نہیں ہے۔ ایک دوست بتا رہا تھا کہ ن لیگ کےوکیل نے درخواست دائر کی ہے جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور خود انہوں نے 2 شادیاں کررکھی ہیں تو اگرمردانگی 2 شادیوں سے ہی ہوتی ہے تو یہ کوئی بات نہیں آئی۔

معاملے میں سیاسی پہلو سے متعلق سوال پر ابرار نے کہا کہ ہاں بالکل ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ میں پی ٹی آئی سے وابستہ ہوں۔

گلوکار نےعدالت میں اپنے ممکنہ موقف سے متعلق بتاتے ہوئے واضح کیا کہ اس بارمیں مقابلہ کروں گا اورگانا تبدیل نہیں کروں گا، تبدیل کروں بھی کیا یہ تو اسی تھیم کے گردگھومتا ہے۔ میں کہوں گا کہ گانے کو گانے کے طور پرہی لیں، جس طرح مختلف ڈراموں میں ہوتا ہے تو یہی معاملہ اس گانے کا بھی ہے، پلیزاسے اتنا مشکل نہ بنائیں۔

اس سے قبل کوک اسٹوڈیو سیزن 12 میں ابرار الحق کا گانا “بلو ” نئے انداز سے پیش کیا گیا تھا جسے گایا تو خود ابرار نے لیکن کرمان انٹرٹینمنٹ لیمٹڈ کی جانب سے کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے دعوے پرکوک اسٹوڈیو نے اس گانے کی ویڈیو یو ٹیوب سے ہٹا دی تھی۔

ابرارالحق کی پہلی البم ’’بلو دے گھر‘‘ سال 1995 میں ریلیز ہوئی تھی جس کی 40 اعشاریہ 3 ملین کاپیاں فروخت ہوئیں اور ان کے نام کا ڈنکا گھر گھر بجنے لگا، البم کی اس قدر مقبولیت پر ابرار کو ’’کنگ آف پاکستانی پوپ ‘‘ کہا گیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube