Tuesday, August 4, 2020  | 13 Zilhaj, 1441
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

میرے پاس تم ہومیں آگے کیا ہوگا؟

SAMAA | - Posted: Dec 10, 2019 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 10, 2019 | Last Updated: 8 months ago

خلیل الرحمان قمر کا تحریرکردہ ڈراما سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘ ہر قسط کے ساتھ مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کررہا ہے۔ ڈرامے کی ہرقسط کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پرتجزیوں وتبصروں کا ایک طوفان امڈ آتا ہے۔

تاحال ڈرامے کی 17 قسطیں آن ائرہوچکی ہیں،سوشل میڈیا صارفین کو بےچینی سے اگلی قسط کا انتظاررہتا ہے۔ ڈرامے میں منفی کردارادا کرنے والے اداکارعدنان صدیقی (شہوار ) نے حال ہی میں سیلیب لائف اسٹائل کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں آخری قسط کے چند مناظر کے حوالے سے بتاتے ہوئے دلچسپ گفتگو کی۔

عدنان صدیقی نے کہا کہ شوٹنگ کیلئے جاتے ہوئے ہمیشہ لگتا کہ امتحان دینے جا رہا ہوں کیونکہ لائنز اتنی مشکل نہیں لیکن مخصوص انداز سے ہٹ کر بولتا تو وہ بات نہ بنتی جس طرح سے خلیل الرحمان نے اس ڈرامے کو لکھا۔

ایک سوال کے جواب عدنان نے کہا کہ ڈرامے کا مشکل ترین سین کون سا تھا، یہ میں ابھی نہیں بتاسکتا کیونکہ ابھی ایسے سین آن ائرآنے ہیں۔ اداکار نے ڈرامے کے مرکزی کردار دانش (ہمایوں سعید ) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے چند مناظر ایسے شوٹ کروائے کہ میں بھی رو پڑا۔ آخری قسط میں دانش نے اپنے ابا کا ذکر ایسے کیا کہ میرے آنسو نکل آئے۔ مجھے یقین ہے کہ اس وقت اس کے دماغ میں اس کے والد ہوں گے جن کا انتقال ہوچکا ہے اور میرے دماغ میں میرے والد صاحب تھے۔

عدنان صدیقی نے پرمزاح انداز میں ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ ڈرامہ ہمایوں سعید کی پروڈکشن ہے تو ہمدردیاں سمیٹنے والا کردار وہی کرے گا، میں تو کرنے سے رہا۔ لیکن مان لیں کہ ڈرامے میں ہیرو وہ ہےاور لگ میں رہا ہوں۔

اداکار نےڈرامے کے ڈائریکٹراداکارندیم بیگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرفیکشنسٹ ہیں اور سوچ کرآتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ شوٹنگ کے دوران کوئی غلطی ہو تو ندیم صاحب غصہ بھی ایسے دکھاتے کہ ہنسی آجاتی۔

پسندیدہ ڈائیلاگ کے سوال پرعدنان نے وہ سین دہرایا جب فون پر شہوار ، مہوش کو ملازمت کی آفر کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اسے آفس میں کرنا کیا ہوگا ۔ ” تمہاراکام یہ ہے کہ تمہیں کوئی کام نہیں کرنا، بس میرے سامنے بیٹھی رہنا، چائےکافی دینا اور جب میں سگریٹ پیوں تو مجھے سگریٹ نہیں پینے دینا”۔

عدنان صدیقی نے خوشی سے بتایا کہ ابھی لاہورسے واپسی پر ایک خاتون نے مجھے اسموکنگ کرتے دیکھ کر کہا، شہوارسگریٹ نہیں پینا۔ یعنی ہرجگہ ہرکوئی اس ڈرامے کی بات کرتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے مجھے خواتین سے زیادہ مرد حضرات سے گالیاں پڑرہی ہیں۔ مجھے ہفتے (ڈرامہ نشر ہونے کا دن ) کا تب پتہ لگتا ہے جب ڈرامے کے بعد میرے دوست کی بیوی کا گالیوں بھرامیسج آتا ہے۔

اداکارنے اس ڈرامے کی مقبولیت سے متعلق بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ کہانی پرانی ہے لیکن لکھنے کا انداز، عکسبندی اور اداکاری کمال کی ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ایسی کوئی ماں نہیں جو اپنے بچوں کو چھوڑ کے چلی جائے ۔ ایسا ہوتا ہے، ایدھی جائیں اولڈ ہومزجائیں، بچے تو کیا لوگ اپنے والدین کو بھی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

ڈرامے کی کہانی دراصل مادہ پرست عورت اورمرد کی بیوفائی پر مبنی ہے۔ مہوش (عائزہ خان ) شوہردانش (ہمایوں سعید ) اور بیٹے کو چھوڑکردولت کی لالچ میں شہوار(عدنان صدیقی ) کے پاس چلی جاتی ہے۔

مصنف خلیل الرحمان قمر نے ایک انٹرویومیں کہا کہ یہ ڈرامہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپے، آخری سین لکھتے ہوئے آنسو بہہ رہے تھے۔ یہ بہت سارے ،مردوں کی سچی کہانی ہے جن کا میں نے مشاہدہ کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube