Saturday, September 19, 2020  | 30 Muharram, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

فنکار و ہدایت کار کبھی ریٹائر نہیں ہوتے

SAMAA | - Posted: Dec 7, 2019 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 7, 2019 | Last Updated: 10 months ago

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری 12ویں عالمی اردو کانفرس کے تیسرے دن ”پاکستان میں فنون کی صورت حال“ کے عنوان سے سیشن میں فلم، تھیٹر اور ٹی وی کے نامور فنکاروں سمیت معروف رائٹرز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ٹی وی ڈراموں کے ڈائریکٹرز اور فنکار کبھی ریٹائر نہیں ہوتے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا تجربہ بڑھتا جاتا ہے۔

نامور فنکاروں قوی خان، منور سعید، خالد انعم، شیما کرمانی، حسینہ معین، ایوب خاور، کیف غزنوی اور شاہد رسام نے گفتگو میں حصہ لیا جبکہ اس سیشن کی نظامت کے فرائض نور الحسن نے انجام دیے۔

شرکائے گفتگو نے کہ کہ آج کا ڈرامہ اس لئے خوشحال ہے کہ پیسے زیادہ مل رہے ہیں تاہم اس کا معیار کم ہوا ہے، ٹی وی ڈراموں پر سنسر شپ بھی نہیں ہے، جو چاہا لکھ دیا یہ سوچے بغیر کہ جو مکالمے بولے جارہے ہیں وہ گھر کے تمام افراد اکٹھے دیکھ سکتے ہیں یا نہیں۔

قوی خان نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میں نے فلمیں بنانے میں بہت نقصان اٹھایا، ایک بار خیال آیا کہ نقصان پورا کرنے کیلئے ”منجھی کتھے ڈانواں“ فلم بنائی جائے اور یہ فلم خوب چلی اور اسے پسند بھی کیا گیا مگر اس فلم کی کامیابی میں ڈسٹری بیوٹرز اتنے مگن ہوگئے کہ مجھے پیسے دینا ہی بھول گئے لیکن چونکہ میں نقصان اٹھانے کا عادی تھا، اس لئے زیادہ محسوس نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں فلم بنانے میں بہت وقت لگتا ہے جبکہ مغرب میں جو فلمیں بنائی جارہی ہیں وہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں مکمل ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ فلم سے وابستہ ہر شخص اپنے کام خود کرتا ہے اور وقت کو ضائع نہیں کرتا۔

منور سعید نے کہا کہ سارا مسئلہ معاشی ہے، گھر کو چلانے کیلئے رقم کی ضرورت پڑتی ہی ہے، 50 سال پہلے جب ہم نے کام شروع کیا تھا تو اس وقت اداکاری کو ہم اپنا کیریئر نہیں بناسکتے تھے، اس لئے اداکاری کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کیا کرتے تھے مگر اب چونکہ ٹیلی وژن 24 گھنٹے چل رہا ہے اور بے شمار چینلز ہیں لہٰذا اب اسے کیریئر بنایا جا سکتا ہے۔

حسینہ معین نے کہا کہ آج کے ڈرامے اپنی تہذیب کو بھول چکے ہیں، کئی مکالمے تہذیب کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں۔

شیما کرمانی نے کہا کہ آج کے دور میں تھیٹر پر مزاح کا مزاج ہی بدل گیا ہے اور انسانوں کے رنگ و روپ اور ذات کو نشانہ بناکر اس گفتگو کو مزاح کا نام دیا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ذمہ داری ڈائریکٹرز کی بھی ہے کہ وہ ان پر نظر رکھیں کہ ان کے ڈرامے میں کسی کی بھی تذلیل کا پہلو نہ آنے پائے۔

ثمینہ احمد کا کہنا تھا کہ ہم مشکل پسند ہونے کے بجائے روز بہ روز آرام طلب ہورہے ہیں، اصل مارکیٹنگ تو وہ ہے کہ جب کوئی چیز مارکیٹ میں نہ بِک رہی ہو اور آپ اسے فروخت کرکے دکھائیں، اسی طرح فنون سے وابستہ مارکیٹنگ کے افراد کا یہ کام ہے کہ وہ کلاسیکل کام کو آگے بڑھائیں اور عام عوام تک پہنچائیں۔

خالد انعم نے کہا کہ جب تک پروفیشنلز کو کام نہیں دیا جائے گا، فنون کا معاملہ درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض ڈائریکٹرز کی طرف سے بچوں کے پروگرام میں ہاٹ گرل رکھنے کی فرمائش بھی کی جاتی ہے۔

ایوب خاور بولے کہ ایکٹریس کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر اسے کردار غلط لگے تو وہ اسے کرنے سے منع کر دے۔

شاہد رسام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ کئی لوگ کہتے ہیں کہ کلاسیکل موسیقی کو وہ مقام نہیں مل سکا جو اس کا حق ہے، مگر یہ کہنے والوں سے کوئی یہ تو سوال کرے کہ انہوں نے خود اس معاملے میں اپنا کیا کردار ادا کیا۔

کیف غزنوی نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں جو کام کیے گئے وہ اس زمانے کے لحاظ سے درست سمجھے گئے مگر اب چونکہ ٹیکنالوجی کی رفتار بہت تیز ہوچکی ہے لہٰذا کچھ سال یا کچھ ماہ پہلے کی ہوئی چیز آج مناسب نہیں لگ رہی، جنریشن گیپ اب 20، 25 سال کا نہیں بلکہ صرف 3 سال کا رہ گیا ہے۔

کتابوں کی رونمائی

تیسرے روز مختلف کتابوں کی رونمائی بھی منعقد ہوئی۔

اس موقع پر انعام ندیم کی کتاب ”دوزخ نامہ“ پر غازی صلاح الدین نے، قاسم بگھیو کی کتاب ”لسانیات تا سماجی لسانیات“ پر رؤف پاریکھ نے، فراست رضوی کی کتاب ”سلامِ فلسطین“ پر اشفاق حسین نے اور نوید احمد کی کتاب ”کلیات احمد نوید“ پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے خیالات کا اظہار کیا۔

کتابوں کی رونمائی کی تقریب کی نظامت جمال مجیب نے کی۔ مقررین نے ان کتابوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا۔

انعام ندیم کی کتاب ”دوزخ نامہ“ پر غازی صلاح الدین نے کہا کہ کئی انگریزی لکھنے والے لوگ بھی بہتر انداز میں اُردو جانتے ہیں، اردو شاعری میں وہ آواز موجود ہے جو مظلوموں کی ہے، یہ کتاب بنگلہ زبان سے انگریزی اور اردو میں ترجمہ ہوئی ہے، اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ بیرون ملک لوگ جو بہتر انداز میں انگریزی جانتے ہیں وہ اُردو کو بھی بہتر لکھ پڑھ سکتے ہیں۔ کتاب کے مصنف انعام ندیم نے کہا کہ یہ انگریزی کی کتاب تھی اس کا ترجمہ کرتے ہوئے ایسا لگا کہ جیسے یہ ہماری ہی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہو، لیکن اس کتاب کا ترجمہ کرنا میرے لئے اعزاز سے کم نہیں۔

قاسم بگھیو کی کتاب ”لسانیات تا سماجی لسانیات“ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رؤف پاریکھ نے کہا کہ بگھیو ماہرِ لسانیات ہیں اور ان کا شمار چند ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے لسانیات میں پی ایچ ڈی کیا ہے۔ قاسم بگھیو سندھی، اردو، انگریزی زبانوں میں لکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں ایک مسئلہ سامنے آیا ہے کہ لسانیات میں سیاست زیادہ شامل ہوچکی ہے، جس کا لوگوں نے بھرپور فائدہ بھی اٹھایا ہے، ہمارے ملک میں زبان پر منصوبہ بندی نہیں کی جارہی جو کہ ضروری ہے۔

فراست رضوی کی کتاب سلامِ فلسطین پر تبصرہ کرتے ہوئے اشفاق حسین نے کہا کہ فلسطین ہماری رگوں میں شامل ہے اور ہمارے اردو ادب میں زندہ ہے، سلامِ فلسطین کتاب میں جو شاعری کی گئی ہے وہ ہمارے دلوں کی آواز ہے۔

احمد نوید کی کتاب ”کلیات احمد نوید“ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ احمد نوید کی شاعری کا میں پہلا گواہ ہوں اور میرا زمانہ طالب علمی سے ادب سے تعلق ہے تب سے ہی انہیں جانتا ہوں۔

سندھی ادب کو کوئی خطرہ نہیں

عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز کے ’’جدید سندھی ادب‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشوروں نے کہا کہ سندھی ادب کو کوئی خطرہ نہیں لیکن چیلنجز ضرور درپیش ہیں، ان کا مقابلہ کرنا ہے تاکہ ادب مزید ترقی کرسکے۔

مقررین میں ممتاز بخاری، مظہر جمیل، نورالہدیٰ شاہ، ریاضت برڑو، پروفیسر نور احمد جنجہی شامل تھے جبکہ ڈاکٹر قاسم راجپر نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔

مقررین نے کہا کہ سندھی ناول، کہانی اور شاعری بہت مضبوط وسعت اختیار کررہے ہیں، دیگر ادب کی طرح سندھی ادب بھی دباؤ کا شکار رہا مگر سندھی زبان میں لکھی گئی کہانیوں نے معاشرے پر گہرا اثر چھوڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھی زبان و ادب کی مثال یہ ہے کہ دیگر زبانوں کے مقابلے سندھی زبان و ادب نے تیز رفتاری سے ترقی نہیں کی، سندھی زبان سے اردو میں تراجم ہوئے تاہم ان میں سب سے بڑا کام شاہ لطیف کے تراجم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اردو اور سندھی نے ایک دوسرے کو بہت کچھ دیا، سچل سرمست اردو میں شاعری کرتے تھے، مرزا قلیچ بیگ کے زمانے بھی تراجم ہوئے۔

دانشوروں نے کہا کہ ڈرامہ بنیادی طور پر اربن مزاج کا کام ہے، سندھی ڈرامے کی کہانی میں سندھی لکھنے اور سوچنے والے کو ذہنی طور پر اربنائز ہونا چائے، مڈل کلاس سماج میں جدت لاتا ہے، زبان اور ادب میں بھی جدت آنی چاہئے۔

 

میرا تعلق موسیقی سے تھا اب نہیں، نعیم بخاری

ایک اور پروگرام بعنوان نعیم بخاری کے ساتھ منقعد ہوا جس کی میزبانی ارشد محمود نے کی۔

میزبان ایک سوال کے جواب میں دانشور نعیم بخاری نے کہا کہ میرا تعلق موسیقی سے تھا، اب نہیں ہے جس پر محفل زعفران زار ہوگئی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ منو بھائی سے میرا تعلق بہت گہرا اور پرانا ہے وہ بہت اچھے کہانی کار اور ڈرامہ نویس تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ منو بھائی موقع کی مناسبت سے کہانی لکھتے بھی تھے اور بناتے بھی تھے، ان کی شاعری میں سوال ہیں، انہوں نے شاعری میں ضیاء الحق پر ایسی تنقید کی جو ضیاء کی سمجھ میں ہی نہیں آئی کہ انہوں نے کیا کہا۔

نعیم بخاری نے کہا کہ ملک میں پہلا احتساب کا قانون نواز شریف کے زمانے میں بنا، اس پر منو بھائی نے جو شاعری میں تنقید کی وہ بعد میں سچ ثابت ہوئی۔

اپنی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے نعیم بخاری نے اپنے اساتذہ کے قصے بھی سنائے۔ انہوں نے احمد فراز، فیض احمد فیض اور منیر نیازی کے واقعات سنائے۔

ان کا کہنا تھا کہ منیر نیازی کمال کے انسان تھے، احمد فراز اپنے بارے میں تنقید برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

نعیم بخاری نے اپنی ذاتی زندگی کے کچھ قصے بھی سنائے جس کے باعث ہال وقفے وقفے سے قہقہوں سے گونجتا رہا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
URDU CONFERENCE, KARACHI, ARTS COUNCIL, DRAMA, FILM, MOVIE, AUTHOR, SINDH
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube