ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

طیفااور چھنو میرے دوست ہیں،آپ گانا سنیں:علی گل پیر

SAMAA | - Posted: Nov 29, 2019 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 29, 2019 | Last Updated: 2 months ago

کیا علی گل پیرنے یوٹرن لے لیا؟

علی گل پیر نے اپنے نئے گانے ’’کر لے جو کرنا ہے ‘‘ کو ’’چھنو ‘‘ کی موت قرار دیتے ہوئے ’’طیفے ‘‘ کو طنز کا خوب رگڑا لگایا جس سے سمجھنے والے بخوبی سمجھ گئے کہ ان کا اشارہ کس کی جانب ہے۔

گلوکار کا یوٹرن کہیں یا دیکھنے والوں کی کم فہمی؟ سماء کے پروگرام ’’نیا دن ‘‘ میں بات کرتے ہوئے علی گل پیر نے انکشاف کیا چھنو ان کا دوست کمیل اور طیفا دوسرا دوست زبیر ہے۔

یاد رہے کہ گانے میں علی گل پیر نے پاکستان کےمعروف گلوکار اور فیشن انڈسٹری کی خاصی مشہور شخصیت کو بری طرح سے نشانہ بنایا ہے۔ طیفا کے علاوہ علی گل پیر نے لکس اسٹائل ایوارڈ کا بھی ذکرکیا جب گلوکار کو بلانے پر بہت سی معروف شخصیات نے ایوارڈ شو کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ اس کے علاوہ انڈیا جا کر رنبیرکی خوشامد تک کرنے کا طعنہ دے ڈالا۔

علی گل پیر نے گانے کو ’’چھنو کی موت ‘‘ کہتے ہوئے اپنی جدو جہد کا تذکرہ کیا اور واضح کیا کہ نوٹس سے میں نہیں ڈرتا، تمہاری انا ایک لطیفے سے ٹوٹ گئی۔ پی آر کے بھوکے مشہور ہونے کیلئے پرانے گانوں کا سہارا لیتے ہو۔ گانے میں خود کو انقلابی ، دادو کا ہاری کہنے والےعلی گل پیر دھمکی آمیز الفاظ کے ساتھ چیلنج دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہاں میں جیل جانے کیلئے بھی تیار ہوں، کرلو جو کرنا ہے۔

اسی حوالے سے علی گل پیر سے نمائندہ نیا دن نے سوال کیا کہ طیفا بھی کہہ دیا، چھنو بھی کہہ دیا تواشارہ کس کی جانب تھا یا پھر ڈائریکٹ نام ہی لینے میں کیا قباحت تھی؟ اس پر انہوں نے کہا کہ میں اپنے دوست کمیل کو چھنو کہتا ہوں ، زبیر کو طیفا کہتا ہوں اور ہم دوستوں کی لڑائی ہوتی ہے تو انجوائے کرتے ہیں۔ ایک آرٹسٹ اپنے گانے کے بارے میں کتنا بتا سکتا ہے، آپ لوگ گانا سنیں اوراس میں جو بھی باتیں کی گئی ہیں وہ انجوائے کریں۔

 

علی گل پیر نے نیا گانا  ’’ چھنو کی موت ‘‘ قرار دے دیا

 

گانا تخلیق کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے علی گل پیر نے کہا کہ موجودہ سیاسی و معاشرتی ماحول میں عدم برداشت بہت بڑھ چکی ہے اور ہم ایک دوسرے کی بات نہیں سننا چاہتے۔ دنیا بھرمیں جہاں گیا ایک بات محسوس کی کہ دیگر سوسائٹیز میں آرٹ کی ترویج کی جاتی ہے، اس حوالے سے پابندیاں عائد نہیں کی جاتیں کیونکہ آرٹ ہی سوسائٹی کو بتاتا ہے کہ اپ کی اصلیت کیا ہے اور ہمیں بھی جب تک اصلیت نہیں پتہ چلے گی ہم بہتر نہیں ہوں گے، انہی ساری باتوں کی وجہ سے مجھے محسوس ہوا کہ ایسا گانا بنایا جائے جس میں آرٹسٹ کی طرف سے کہوں ’’ کر لے جو کرنا ہے‘‘۔

گانے پر تنقید بھی ہوئی، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علی نے کہا کہ ہمیشہ مسائل کو اجاگر کرنے والے گانے بنائے، تنقید ہوتی تو اتنا اچھا کام نہ کرپاتا، مجھے انسٹا پربہت اچھا رسپانس ملا ہے اور اس گانے پر بغیر کسی مارکیٹنگ کے 24 گھنٹے میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے اسے دیکھا۔

علی گل پیر نے یہ ویڈیو کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری میں شوٹ کی، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لیاری بہت ہی اچھی جگہ ہے، صبح 5 سے شام 5 تک وہاں شوٹ کی اور ایسا لگا جیسے کسی کے گھر مہمان آئے ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے ویڈیو کے دوران خود سے ہمارے ساتھ پرفارم کیا۔

گلوکار نے لیاری کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کو ہمیشہ نظرانداز کیاگیا، لوگوں کو چاہیے کہ وہاں جائیں اور ان کی ثقافت کلچر جانیں۔

علی گل پیرنے مزید بتایا کہ اس گانے کا بجٹ ایک اوسط درجے کی ویڈیو سے بھی کم تھا کیونکہ ویڈیو شوٹ کرنے کیلئے بڑے بڑے سیٹ نہیں لگاتا، بنیادی آئیڈیا اچھا ہونا چاہیے ورنہ کروڑوں روپے کی فلمیں بھی بیکار بنائی جاتی ہیں۔

 
WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube