ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

حمزہ علی عباسی شوبزسےدور،مستقبل سے متعلق اہم فیصلہ

4 weeks ago

ایسا مشہور ہونے کیلئے نہیں کررہا

ایک ماہ قبل مستقبل کے  اہم فیصلے سے متعلق ٹویٹ کرنے والے حمزہ علی عباسی نے بالآخراعلان کردیا کہ وہ فی الحال شوبز سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔

اداکارحمزہ علی عباسی نے اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کرتے ہوئےشوبزکی دنیا سےکنارہ کشی اختیارکرلی ۔ نوعمری میں ایک ملحد سے باعمل مسلمان ہونے تک کا سفر طے کرنے والے حمزہ علی عباسی نے اس دوران جو کچھ سیکھا وہ مداحوں سے اپنی ویڈیوز میں شیئرکریں گے۔ اداکار کا کہنا ہے کہ موت کے بعد کی زندگی سے متعلق سوچا، اب زندگی خدا کے بارے میں بات کرتے ہوئے گزارنا چاہتا ہوں۔

تقریبا ایک ماہ قبل اداکارحمزہ علی عباسی نے ٹوئٹر پرلکھا تھا کہ ’’ایک دہائی سے زائد کا سفراپنے اختتام کوپہنچا۔اس ماہ کے اختتام پرمیں ایک اہم اعلان کروں گا، امید ہے کہ میری آواز بہت سوں تک پہنچے گی‘‘۔ حمزہ نے اس ٹویٹ کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ رواں ماہ یعنی اکتوبرکےآخرتک سوشل میڈیا استعمال نہیں کروں گا۔

 

 

سوشل میڈیا صارفین نے یہ ٹویٹ پڑھتے ہی قیاس آرائیاں شروع کردیں۔ ایک دہائی سے زائد کا ذکرسن کر بہت سوں کو لگا کہ حمزہ اداکاری چھوڑرہے ہیں تو کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے قیاس کے گھوڑوں کو سیاست کے میدان تک دوڑادیا۔

اب ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے بعد حمزہ علی عباسی نے 23 منٹ سے زائد دورانیے کی ایک ویڈیو شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ ’’ یہ ہے وہ بات جو میں شیئرکرنا چاہتا تھا، اب تک کیلئے اتنا ہی‘‘۔

ویڈیو کے آغازمیں حمزہ علی عباسی نے واضح کیا کہ میں میڈیا کی حد تک ایکٹنگ سے کنارہ کشی اختیارکررہا ہوں کیونکہ اس میں اس میں غیر سنجیدہ ڈرامے ، کمرشلز اور ویڈیو کرنی پڑتی ہیں اورمیں نہیں چاہتا کہ ایک طرف تو میں اتنی سنجیدہ باتیں کروں اور دوسری طرف یہ سب کروں۔

اداکار نے کہا کہ ایکٹنگ سے لمبے عرصے کیلئے کنارہ کشی اختیارکررہا ہوں تو کوئی یہ نہ سوچے کہ میں مشہور ہونے کیلئے ایسا کر رہا ہوں۔ ایسا بہت پہلے سے سوچ رہا تھا۔ ڈرامہ سیریل ’’ الف ‘‘ اس لیے کیا کیونکہ اس میں اللہ سے متعلق پیغام ہے ورنہ شاید مولا جٹ میری آخری فلم ہوتی۔

اس ویڈیومیں حمزہ عباسی نے اپنی نوعمری کے دور سے متعلق اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ بتانے سے قبل بیک اسٹوری بتانا چاہتا ہوں۔ 14، 15 سال کی عمرمیں ذہن میں سوالات جنم لیتے تھے کہ یہ دنیا کیوں ہے، کوئی اس کا بنانے والا ہے یا نہیں، کیا موت پر زندگی ختم ہوتی ہے ۔ اس دور میں یہ سوالات بہت تنگ کرتے تھے۔ مذہبی طبقہ فکر سے مجھے اطمینان بخش جواب نہیں ملے تو نوعمری میں ہی ملحد ہوگیا، اس دوران امریکہ گیا۔ سائنس مجھے اسلام کی طرف واپس لائی اور میں اس نتیجے پرپہنچا کہ اس کائنات کو بنانے والا کوئی ہے۔

اداکارنے کہا کہ 12، 13 سال کے طویل سفر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ موت کے بعد اصل زندگی شروع ہونے والی ہے اورکوئی اس بارے میں نہیں سوچتا کہ زندگی کے تمام مقاصدتوموت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتے ہیں۔

 

 

حمزہ نےبتایا کہ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچا کہ زندگی کا مقصد کیا ہونا چاہیے،جس گھرمیں پیدا ہوا وہاں اتنے ذریعہ معاش موجود ہیں کہ زندگی گزر جائے گی، اپنے ایوارڈز بے معنی لگے کیونکہ اکیڈمی ایوارڈز بھی مل جائے تو لوگ بھول جائیں گے۔ اس لیے سوچا 2 چیزیں کروں تو موت کے وقت اطمینان رہے گا ایک انسانیت کی خدمت اور زندگی خدا کے بارے میں بات کر کے گزارنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اداکاری سے لمبےعرصے تک کنارہ کشی کی وجہ یہ نہیں کہ اداکاری اسلام میں حرام ہے۔ حرام بدکاری ہے، اداکاری نہیں۔ یہ اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ ایسا کام زیادہ بنتا نہیں جو اخلاقی لحاظ سے ٹھیک ہو۔ اب میں ساری زندگی خدا کے بارے میں بات کرتے ہوئے گزارناچاہتا ہوں۔ سیاست بھی فرض ہے کیونکہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا چاہیے، لیکن انتخابی سیاست میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ وہاں پارٹی کے دفاع میں جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔

مستقبل کے ارادے بتاتے ہوئے حمزہ نے مزید کہا کہ کئی ماہ سے کوشش کررہا تھا، پہلے اپنی اصلاح کی اور اب مقصد بنا رہا ہوں کہ د ین کے بارے میں بات کرنی ہے، اس حوالے سے بہت سے میڈیم ہیں۔ میں ویڈیوز بناؤں گا جس میں لوگوں کے سوالوں کے جواب دوں گا، اس کے علاوہ فلم ڈرامہ یا کچھ بھی بناؤں ، ان میں کوئی غیراخلاقی چیزیا بدکاری کا عنصر شامل نہیں ہوگا۔ اسلام اور ملک کیلئے تخلیق کروں گا۔

حمزہ علی عباسی نے سننے والوں کو پیغام دیا کہ مجھ سے اختلاف کریں لیکن میری نیت پر شک مت کیجئے گا۔ میری باتیں ایک مخصوص طبقے کواچھی نہیں لگیں گی ۔ اس حقیقت کو سنجیدگی سے لیں کہ مرنے کے بعد خدا کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔موت سب سے بڑی حقیقت ہے، اپنی زندگی کا پھر سے جائزہ لیں، مجھے آس پاس والوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ انہیں احساس ہے کہ کل کو جوابدہ ہوناہے۔مسلمان خدا کے ساتھ وعدہ کرتا ہے، اس کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری نہیں کریں گے، اصلاح نہیں کریںگے تو تب تک اس ملک میں خوشحالی نہیں آسکتی۔

اداکارنے آخرمیں ایک بار پھرکہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے دین کا ادنیٰ طالبعلم زندگی گزاروں گا، جو جواب مجھے ملے انہیں شیئرکروں گا۔ علماء سے ، لوگوں سے سیکھوں گا ۔ خدا، اسلام موت اور آخرت کی جوابدہی کو اپنی زندگی کا محور بناکر زندگی گزاروں گا۔

 

یاد رہے کہ حمزہ علی عباسی کی پہچان صرف اداکاری نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر وہ مذہبی حوالے سے بھی سرگرم رہتے ہیں جبکہ ایک پہلو ان کی حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے سیاسی وابستگی بھی ہے۔

حمزہ اور نیمل 25 اگست کو اسلام آباد میں ایک سادہ سی تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھے ۔ نیمل نے شادی سے کافی عرصہ قبل ہی شو بز چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

سال 2006 میں تھیٹر سے اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے حمزہ علی عباسی کے معروف ڈراموں میں ڈیبیو ڈرامہ میرے درد کو جو زباں ملے،پیارے افضل، ٹیلی فلمز ایک تھا راجہ ایک تھی رانی اور گلو ویڈز گولی، من مائل اور حال ہی میں آن ائرہونے والا ڈرامہ سیریل ’’الف ‘‘شامل ہے۔

ڈرامہ ’’الف ‘‘ دراصل عمیرہ احمد کے ناول پرمبنی ہے جس میں حسن جہاں نامی ایک اداکارہ کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ حسن جہاں کا کردار کبریٰ خان اور ان کے بیٹے قلب مومن کا کردار حمزہ علی عباسی نے نبھایا ہے۔ فلم ڈائریکٹر اور پارٹیز کا شوقین قلب مومن اس ڈرامے میں پوری طرح سے تبدیل ہوتے ہوئے مذہب کی جانب مائل ہوتا دکھایا جائے گا۔

حمزہ کے مقابل سجل علی ہیں جو مومنہ نامی اداکارہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ڈرامے کے ڈائریکٹرحسیب حسن ہیں جبکہ اسے ثناء شاہنواز اور ثمینہ ہمایوں نے پروڈیوس کیا ہے۔

فلمی سفر کی بات کی جائے توڈاکیومینٹریز کے علاوہ ان کی معروف فلموں میں ، میں ہوں شاہد آفریدی، وار، جوانی پھر نہیں آنی، ہو من جہاں، پرواز ہے جنوں، جوانی پھرنہیں آنی 2 شامل ہیں جبکہ حمزہ علی عباسی کی آنے والی فلم “مولا جٹ ” ہے جو سال 1979 میں ریلیز ہونے والی مولاجٹ کا سیکوئل ہے۔ حمزہ اس فلم میں نوری نتھ کے روپ میں نظر آئیں گے جب کہ ان کے ساتھی اداکاروں میں فواد خان اور ماہرہ خان شامل ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں