ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

محبوب سے براہ راست مخاطب ہونے والا شاعر جون ایلیا

1 week ago

شاعری کے فارمولے توڑ کر بڑی بات سادگی سے کہنے والے جون ايليا کی آج سترہويں برسی منائی جا رہی ہے۔ وہ 2002 ميں انتقال کر گئے تھے۔

يہ اک جبر ہے، اتفاق نہيں
جون ہونا کوئی مذاق نہيں

 

ان کی شاعری میں اشعار ميں فلسفہ، تنقيد، مزاح کا پہلو بھی باکمال تھا۔ عربی، فارسی، سنسکرت، انگريزی پر جون ايليا کو کمال حاصل تھا۔

جون صرف غزل نہيں کہتے تھے بلکہ خود غزل بن جاتے تھے، يعنی جو شعر کہا، ويسا انداز اپناليا۔ جون ايليا کے شعری مجموعوں ميں شايد، گويا، گمان، ليکن اور فرنود شامل ہيں۔ یہ شاعر 14 دسمبر 1937 کو ہندوستان کے قصبے امروہہ ميں پيدا ہوئے۔ جون معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے چھوٹے بھائی تھے۔

جون ایلیا ایک ایسے منفرد اور یگانہ شاعر ہیں جس کا انداز نہ تو پہلے گزرنے والے کسی شاعر سے ملتا ہے اور نہ ہی بعد میں آنے والا کوئی شاعر ان کے لہجے کی تقلید کر سکا۔ وہ اپنے سلسلے کے آپ ہی موجد اور آپ ہی خاتم ہیں۔ جون ایلیا کو اقدار شکن اور باغی بھی کہا جاتا ہے۔

جون ایلیا کی شاعری سے متعلق ایک بات جسے کبھی نظر انداز نہیں کی جا سکت، وہ یہ ہے کہ انہوں نے ترقی پسند، جدیدیت اور وجودیت جیسی تحریکوں سے وابستہ شاعروں کی اس روش سے خود کو الگ کیا جس میں ذات و کائنات کے مسائل حاوی ہوتے تھے۔

انہوں نے میر و مومن کے بعد ایک بار پھر عشق و محبت جیسے موضوعات کو شاعری کا عنصر بنایا اور غم ہجراں، وصال اور درد و الم سے شرابور نظمیں، غزلیں و قطعات صفحہ قرطاس پر اتار دیئے۔

اردو ادب کے صفِ اول کے شعرا ميں شمار ہونے والے جون ايليا 8 نومبر 2002 کو کراچي ميں انتقال کرگئے تھے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں