ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

فلمساز جامی کا میڈیا کی اہم شخصیت پرجنسی زیادتی کاالزام

1 month ago

پاکستان کے معروف فلم میکر جامی مور نے کئی ٹوئٹس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ می ٹو مومنٹ کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ 13 برس قبل میڈیا کی ایک اہم شخصیت کے ہاتھوں خود زیادتی کا نشانہ بن چکے ہیں لیکن انہوں نے اس شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا۔

گزشتہ روز ہدایت کار جامی نے ٹوئٹر پر کئی ٹوئٹس کیں۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس واقع کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا تاہم کسی نے ان کا یقین نہیں کیا۔

انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے کس طرح اپنا علاج تلاش کیا اور اپنا خیال رکھنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ اب میں اس واقعے کے بارے میں لکھ رہا ہوں کیونکہ می ٹو مہم موومنٹ پر لوگ اعتراض اٹھارہے ہیں اس لیے وہ اپنا ذاتی تجربہ شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں۔

حال ہی میں پیش آنےوالے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جس میں کالج کے پروفیسر نے ہراساں کیے جانے کے مبینہ الزام میں خودکشی کی تھی، جامی نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ یہ لوگ مہم کو نقصان پہنچاتے ہیں میں 13 برس بعد آج بات کررہا ہوں اور 99 فیصد بچ جانے ہمیشہ سچ بولتے ہیں ۔

جامی نے می ٹی مہم کی مکمل حمایت کرتے ہوئے لکس اسٹائل ایوارڈ میں ایک اداکار جس پر جنسی ہراسانی کا الزام تھا کو نامزد کرنے پر اعتراض کیا تھا۔

جامی نے یہ بھی کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جو میں ابھی لکھ رہا ہوں یہ خودکشی سے کم نہیں ہے لیکن اس سے پہلے کہ می ٹو مہم کو کو نقصان پہنچے یہ اہم ہے۔

ردعمل

بہت سے لوگوں نے ٹویٹس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ اداکار علی گل پیر نے جواب دیتے ہوئے کہا مجھے امید ہے کہ انصاف ملے گا۔

فریحہ الطاف نے کہا یہ سن کر مجھے بہت افسوس ہوا۔

بہت سے دیگر صارفین نے جامی کی حمایت اور اظہارِ یکجہتی میں ٹویٹ کیا جبکہ کئی لوگوں نے زیادتی کرنے والے شخص کا نام ظاہر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔

پاکستان کی اہم نیوز ویب سائٹوں نے جامی کے ٹویٹس سے خبریں بنائیں تاہم بعدازاں ان خبروں میں ردو بدل کرکے خبر کی شدت کو کم کیا گیا ۔

جامی کا کام

جمشید محمود رضا عرف جامی نے آرٹ سینٹر کالج آف ڈیزائن میں فلم سازی کی تعلیم حاصل کی۔انہوں نے پہلی بار “پل دو پل” میں ہدایت کاری کی جس کے میوزک سین نے سب کو حیران کردیا تھا۔

انہوں نے اسٹرنگز ، عاطف اسلم ، علی ظفر ، فیوژن ، شفقت امانت علی ، علی عظمت اور ہادیقہ کیانی جیسے فنکاروں کے ساتھ بھی کام دیا ہے۔

انہوں نے 2002 میں کمرشل بنانا شروع کئے اور ملک میں بڑے ملٹی نیشنل کلائنٹ جیسے یونی لیور ، پی اینڈ جی ، نوکیا ، تانگ ، نیسلے ، سونی ایرکسن ، موٹرولا اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ساتھ کام کیا۔

انہوں نے فلم 021 (2014) اور مور (2015) جیسی فلموں میں ہدایتکاری کی جسے خوب پذیرائی ملی۔

 

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
JAMI MOOR , RAPE , Sexual harassment , ME too , pakistan , media tycoon