ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

میرے لیے اب مسکرانا بھی مشکل ہے، رحمہ علی

1 month ago

پاکستان کے لیجنڈری اداکارعابد علی جگر کے عارضے کے باعث 5 ستمبر کو انتقال کرگئے تھے۔ ان کی بیٹی رحمہ علی نے گزشتہ روز اپنی سالگرہ پر ملنے والے پیغامات کے جواب میں اپنے احساسات شیئر کیے ہیں ۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹا گرام اسٹوریز میں رحمہ نے لکھا کہ میری سالگرہ میرے لیے ہمیشہ سے بہت اہم رہی ہے۔ میں اس کے لیے بہت بہت زیادہ پرجوش ہوتی ہوں کیونکہ زندگی میں باقی تمام چیزیں بہت ہی فضول ہیں، اس لیے میں اپنی سالگرہ پرسب بھول کر صرف خوش ہوتی ہوں۔ لیکن آج میں ہمیشہ سے زیادہ ڈپریشن کا شکارہوں اورایسا محسوس کررہی ہوں جو میں بیان بھی نہیں کرسکتی۔

حال ہی میں والد کے انتقال کا صدمہ سہنے والی رحمہ نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ہاں، وہ شخصیت جو ہمیشہ آپ کو بتاتی رہی کہ ڈپریشن سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے ، ان دنوں خود اس کے تاریک سائے میں ہے۔

 

وہ 5 ستمبرکو چل بسے تھے، اس لیے میرے لیے مسکرانا بھی مشکل ہے۔ ان کی برسی ہمیشہ میری سالگرہ سے 10 دن پہلے گزرے گی، میرا نہیں خیال کہ میں دوبارہ کبھی بھی اپنی سالگرہ منانے کے قابل ہوں گی، لیکن سالگرہ کی مبارکباد دینے پر آپ سب کا شکریہ۔

 

دو سال سے کلینیکل ڈپریشن کا شکار ہوں، رحمہ علی

 

یاد رہے کہ سترہ مارچ 1952 کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے 67 سالہ عابد علی کو پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف ترین ڈرامے “وارث” سے شہرت حاصل ہوئی جس کے مصنف امجد اسلام امجد ہیں۔ عابد علی نے شروعات ڈرامہ جھوک سیال سے کی جس میں پہلی اہلیہ حمیرا چوہدری نے ان کے مقابل ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔

 

رحمہ علی کی اچانک شادی اور 10 سال کے طویل سفر کی کہانی

 

عابد علی نے سال 2018 میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیارکی تھی۔

رحمہ عابد علی کی چھوٹی صاحبزادی ہیں جنہوں نے کوک اسٹوڈیو سیزن 7 میں جمی خان کے ساتھ ’’ندیا پار پار کرکے‘‘ گانے سے اپنی پہچان بنائی۔ اس کے علاوہ کئی ڈراموں کے ٹائٹل سونگز گا چکی ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں