Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

ممتاز ادیب، دانشور،افسانہ نگار اشفاق احمد کی برسی

SAMAA | - Posted: Sep 7, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Sep 7, 2019 | Last Updated: 1 year ago

اردو ادب، صدا کاری اور ڈرامہ نگاری میں اشفاق احمد مرحوم کو منفرد مقام حاصل ہے۔ زندگی کو انتہائی قریب سے دیکھنے کے بعد لوگوں کو جینے کے ڈھنگ سکھانا ان کی ایک ایسی خوبی تھی جو کسی اور ادیب کے حصے میں نہیں آئی۔ اشفاق احمد کی 15 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

اپنی ہمہ جہت شخصیت کی بدولت وہ جہاں فانی سے رخصت ہونے کے باوجود کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ نثر نگاری ہو يا ڈرامے کی کہانی، ريڈيو کی صدا کاری ہو يا ٹيلی ويژن کا پروگرام اشفاق احمد نے جس ميدان ميں بھی طبع آزمائی کی کاميابی نے ان کے قدم چومے۔

اشفاق احمد کا شمار ان اديبوں ميں ہوتا ہے جو قيام پاکستان کے فورا بعد ادب کے افق پر چھا گئے۔ سال 1998 ميں تلقين شاہ کے نام سے ان کی آواز پہلی بار ريڈيو پاکستان سے ہوا کے دوش پر گئی اور اس پروگرام کو ايسی پذيرائی حاصل ہوئی کہ يہ سلسلہ 46 برس تک چلتا رہا۔ اپنے طويل کيرئير ميں اشفاق احمد نے ٹيلی ويژن کے لئے کئی ڈرامے لکھے، جن کو بے حد سراہا گيا۔

گڈريا، توتا کہانی، اور ايک محبت سو افسانہ لکھنے والے اس ہمہ جہت شخصيت نے اپنے طويل کيرئير ميں دھوپ اور سائے کے نام سے ايک فيچر فلم بھی بنائی۔ عمر کے آخری حصے ميں اشفاق احمد صوفی ازم کی جانب مائل ہوگئے ليکن ان کے اندر کے داستان گو نے اس ميدان ميں بھی جدت تلاش کرلی۔

 ستمبر7 سال 2004 کو داستان سرائے کا يہ مسافر اپنی ابدی منزل کو روانہ ہوگيا ليکن ان کی ياديں اور باتيں آج بھی لوگوں کو دوسروں کے لئے آسانياں پيدا کرنے کی تلقين کر رہی ہيں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube