الزامات پر محسن عباس کا اہلیہ کو ثبوت پیش کرنے کا چیلنج

July 22, 2019

اداکار، گلوکار اورمیزبان محسن عباس حیدر نے اہلیہ کی جانب سے خود پرعائد کیے جانے والے تشدد اوردھوکہ دہی کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

محسن نے اپنی اہلیہ فاطمہ سہیل کے الزامات کا جواب لاہور میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ آغاز سے قبل انہوں نے قرآن پاک پر رکھتے ہوئے کہا کہ الزام بہت بڑا ہے اس لیے میں صرف حلف نہیں لوں گا بلکہ ہر بات کا جوان قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کردوں گا اور اگر فاطمہ سچی ہیں تو وہ بھی اسی طرح سے مجھ پرعائد کردہ الزامات کا جواب دیں۔

محسن عباس کے مطابق میں اخلاقی طور پر ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ میرا فیملی بیک گراؤنڈ اور تربیت ایسی نہیں لیکن مجھے ایسا کرنا پڑا کیونکہ پہل وہاں سے ہوئی۔ جھوٹ سے کوئی رشتہ پنپ نہیں سکتا۔

فاطمہ سہیل سے شادی کو ایک لمحاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے محسن نے کہا کہ میری والدہ کے انتقال پر فاطمہ لاہور سے فیصل آباد آئی تھیں جس پرمجھے لگا کہ یہ مشکل وقت میں میرا ساتھ دے سکتی ہیں۔ ان کے لیے میں نے 6 سال پرانا تعلق ختم کیا کیوں کہ اس کی فیملی کی جانب سے کچھ مسائل تھے۔

شادی کے چند روز بعد ہی کبھی تصاویر تو کبھی میسجز کی صورت میں ان کے جھوٹ سامنے آنے لگے ۔ مجھے کہیں اورکا بتا کرکہیں اور جانا اور ایسے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا جنہیں خود فاطمہ کے والد بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ جھگڑا ہوتا تو فاطمہ اپنے گھروالوں کے پاس جا کر آدھی کہانی سنایا کرتی تھیں، محسن نے الزام عائد کیا کہ فاطمہ کو جھوٹ بولنے اور غلط بیانی کرنے کی عادت تھی۔

محسن عباس حیدر نے الزام عائد کیا کہ جب میری بیوی پہلی بارحاملہ تھی تو اس کی سگی بہن، بھائی اور کزن نے میسجز اور تصاویر شیئر کیں کہ یہ بچی تمہاری نہیں ہیں، فاطمہ کی تو ان ان لڑکوں کے ساتھ دوستیاں تھیں تو جو فیملی اپنی بہن کے ساتھ ایسا کرے وہ میرے اوپر کتنی تہمیتیں لگا سکتے ہیں، اس حوالے سے مجھے صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔

اداکارکے مطابق 4 سال کے دوران مشکل سے ہم گاہے بگاہے ایک سال تک ساتھ رہے ہوں گے جبکہ 6 ماہ سے ہم علیحدہ رہ رہے ہیں۔ 16 اور 17 جولائی کی رات 2 بج کر 32 منٹ پر فاطمہ میرے گھر کے باہر چیخ رہی تھیں ، میں نے دروازہ نہیں کھولا تو فاطمہ ٹیکسی ڈرائیور سے دروازہ کھلوا کر اندر داخل ہوئیں جو اندر کودا تھا۔ان کی چیخ وپکار دیکھ کر میں گھر سے نکل گیا۔

فاطمہ کا مدعا تھا کہ یہ گھر میرے نام کردو کیونکہ میرا منگیتر تو مجھے ترکی میں گھر لیکر دینے والا تھا ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں تمہیں بدنام کردوں گی۔ ان کی والدہ نے مجھےغلیظ گالیاں دیں جبکہ بھائی نے قتل کی دھمکیاں دیں۔ فاطمہ مجھ سے زیادہ اس بات کا اظہارکرتی تھیں کہ ہمارے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہیں۔

محسن عباس کے مطابق اگر فاطمہ نے تشدد کا الزام عائد کیا ہے تو اس حوالے سے کوئی میڈیکل رپورٹ تو ہو گی، وہ سامنے لے کر آئیں۔ ان کی جانب سے شیئر کی جانے ولای تصاویر 2018 کی ہیں جب وہ سیڑھیوں سے گر گئی تھیں اور یہ تصاویر مجھے اپنی چوٹیں دکھانے کیلئے بھیجی گئی تھیں۔میں تھانے میں بیان ریکارڈ کراچکا ہوں ۔ اگر فاطمہ سچی ہیں تو وہ میڈیکل رپورٹ پیش کریں پولیس مجھے گرفتارکرلے گی لیکن وہ تو تھانے میں پیش نہیں ہو رہیں نہ ان کا فون اٹھا رہی ہیں۔

فاطمہ کی جانب سےایک کروڑ مانگنے کے الزام پر محسن نے کہا کہ میں سیلف میڈ آدمی ہوں جو چینلز کی نوکری کرتا رہا ہے کبھی کاروبار کرنے کا نہیں سوچا۔ اگر فاطمہ نے اپنے والد سے مجھے 50 لاکھ روہے لا کر دیے تو ان کا کوئی ثبوت تو ہو گا نا، بینک ٹرانزیکشز ہوں گی وہ لا کر دکھائیں۔

حالیہ جھگڑے کی وجہ بتاتے ہوئے محسن عباس کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد سارے مسائل کا سامنا خود کیا۔گھر کے سکون کیلئے میں نے دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کیا جس پر وہ بھڑک اٹھیں کہ میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔ جانے اس کے پیچھے حسد تھی یا کیا وجہ مگر فاطمہ کسی بھی طرح سے ایسا ہونے نہیں دینا چاہتی تھی۔

محسن کے مطابق بیٹے کی پیدائش کے بعد اس کی وجہ سے فاطمہ کو طلاق نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ فاطمہ نے بہت بڑا الزام عائد کیا کہ میں نے بیٹے کی ذمےداریوں سے فرار اختیار کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بچے کی پیدائش پر اسپتال کے تمام اخراجات میں نےادا کیے جس کی رسیدیں موجود ہیں۔ فاطمہ کو اپنے بیٹے کے اخراجات کیلئے ماہانہ لاکھوں روپے خرچ بھیجتا ہوں۔

محسن عباس حیدر نے دعویٰ کیا کہ نازش جہانگیر ان کی اور فاطمہ کی مشترکہ دوست تھی۔ بیٹے کی پیدائش کے وقت کراچی میں شوٹنگ کررہا تھا۔ میرے ڈرامے کے پروڈیوسر نے فاطمہ کی پوسٹ پرکمنٹ کیا کہ اس وقت محسن بھائی ہمارے ساتھ تھے اورسب سے پہلے یہ خبر ہمیں سنائی تھی۔ فاطمہ ہمارے تعلق کو جو رخ دے رہی ہیں جب وقت آیا تو یہ بھی کلیئر کر لیں گے۔ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پر کذف کا کیس کرسکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب جھوٹ بولا جائے تو غصہ بھی آتا ہے اور بدزبانی بھی ہوجاتی ہے، اب ساتھ رہنے کا کوئی جوازنہیں بچا ، طلاق ہی آخری حل نظر آتا ہے۔ مجھے یہی سکھایا گیا کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہنی چاہیے۔ میں فاطمہ کو کہتا تھا کہ آپ تب تک سچی جب تک میں چپ ۔ عزتیں اچھالنے کا رواج نہیں سیکھا۔ پرانے خیالات کا مالک ہوں۔

محسن کے مطابق میری بیوی کی جانب سے عائد کردہ الزامات ان سازشوں کو بھی حصہ ہیں جو شوبز کی دنیا کے مخالفین میرے خلاف کر رہے ہیں۔ فاطمہ وومن کارڈ کھیل رہی ہے لیکن ہمیشہ ہر روتی ہوئی عورت سچی نہیں ہوتی ۔ اس کےآنسو ہمیشہ سچ نہیں بولتے۔

ایک سوال کے جواب میں محسن کا کہنا تھا کہ فاطمہ بری خاتون نہیں نہ ان پر کیچڑ اچھالنے آیا ہوں ۔ ہم دونوں نے کوشش کی لیکن اب ساتھ رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا اورطلاق ہی آخری حل نظرآتا ہے۔

اداکار نے فاطمہ کی جانب سے تشدد والی تصاویرشیئر کرنے کو اپنے ایک حالیہ انٹرویو کا شاخسانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ میں نے سچ بولا ۔ جھوٹ پکڑا جائے تو غصہ آتا ہے اور بدزبانی بھی ہوتی ہے لیکن اب بڑی حد تک اپنے غصے پر قابو پاچکا ہوں۔

انٹرویو میں دوسری شادی سے متعلق سوال پرمحسن عباس کا کہنا تھا کہ جب ہوئی توجو سچ ہو گا سب کے سامنے آجائے گا۔