معروف اداکار، گلوکار محسن عباس کا اہلیہ پر بدترین تشدد

July 21, 2019

معروف اداکار اور گلوکار محسن عباس کی اہلیہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر محسن عباس نے انہیں شادی کے بعد سے اب تک شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ نے پولیس کو دی گئی شکایت اور تشدد کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کردیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے بہت سہہ لیا، اب برداشت نہیں ہوتا، ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے!۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے اپنا تعارف کرتے ہوئے لکھا کہ میرا نام فاطمہ ہے، میں محسن عباس حیدر کی اہلیہ ہوں اور یہ میری کہانی ہے۔

اپنی پوسٹ کی ابتدا میں فاطمہ کا لکھنا تھا کہ 26 نومبر 2018 کو پہلی مرتبہ میں نے محسن عباس کو مجھے دھوکا دیتے پکڑا، جب میں اُن کے سامنے گئی تو بجائے شرمندہ ہونے کے محسن نے مجھے مارنا شروع کردیا اور میں اس وقت میں حاملہ تھی۔

محسن عباس نے مجھ پر کافی تشدد کیا جس کے بعد مجھے اسپتال لے جانا پڑا ، جہاں مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہونے والا بچہ خیریت سے ہے۔ میں تب بھی اس سارے واقعے کے بعد خاموش رہی ،میں نے اپنے بچے کی خاطر محسن کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ فاطمہ سہیل نے مزید لکھا کہ 20 مئی 2019 کو میرے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس وقت میں لاہور میں آپریشن تھیٹر میں تھی محسن عباس اپنی محبوبہ (نئی اُبھرتی ہوئی ماڈل و اداکارہ ) نازش جہانگیر کے ساتھ کراچی میں تھے۔

فاطمہ کا اپنی پوسٹ میں مزید کہنا تھا کہ بیٹے کی پیدائش کے دو دن بعد محسن لاہور آئے اور انہوں نے صرف شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ کچھ تصاویر لیں اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال جولائی 2019 کو میں محسن عباس کے گھر گئی اور اُن سے اپنے بیٹے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کو کہا جس پر محسن نے دوبارہ مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے، اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں محسن عباس کا اصل چہرہ سب کے سامنے لاؤں گی اور اس کے لیے میں نے فیس بک کا سہارا لیا اور اپنی کہانی تمام لوگوں تک پہنچائی ۔

 

اُن کا مزید کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم میں اپنے بیٹے کی پرورش کیسے کروں گی لیکن مجھے بھروسہ ہے کہ اللہ میری مدد کرے گا۔

 

فاطمہ کے مطابق میں نے محسن عباس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروا دی ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر اپنے اوپر کیے جانے والے تشدد کی تصویر بھی شیئر کی ہیں۔ فاطمہ کا اپنی فیس بک پوسٹ کے آخر میں کہنا تھا کہ اب تم سے ملاقات کورٹ میں ہی ہوگی۔