ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

آسیبی لمحات سے بھرپور سنسنی خیز پاکستانی ہارر فلم کتاکشا

5 months ago

سنسنی خیز پاکستانی ہارر فلم ’کتاکشا‘ شائقین کے لیے پیش کردی گئی ہے، ابو علیحہ کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم کا شائقین کو طویل عرصہ سے شدید انتظار تھا۔  

فلم کتاکشا کی مرکزی کاسٹ میں سلیم معراج (اشرف)، کرن تعبیر (نازش)، نمرہ شاہد (ایمن)، قاسم خان (سلو) اور مبین گبول شامل ہیں، یہ فلم سجاد علی شاہ (ابو علیحہ) کی ہدایت کاری میں فلم بنائی گئی ہے۔

فلم کا نام پوٹھوہار ریجن میں ہندوؤں کے لیے متبرک مقام کٹاس راج سے لیا گیا ہے اور فلم کی زیادہ تر شوٹنگ بھی وہیں کی گئی ہے، یہ ایک غیر روایتی فلم ہے کیونکہ اس میں نہ تو کوئی آئٹم سانگ ہے اور نہ ہی محبت بھرے مناظر ہیں۔

فلم کی کہانی چار افراد کے گرد گھومتی ہے جو کہ ایک نیوز چینل سے منسلک ہیں اور آسیب زدہ مقامات پر شوز ریکارڈ کرتے ہیں، اسی طرح کا ایک شو ریکارڈ کرنے کی غرض سے وہ ایک ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں ماضی میں قتل  کی ایک واردات ہوچکی ہے اور اس کے بعد وہاں ہونے والے پراسرار واقعات کی وجہ سے لوگ اسے آسیب زدہ قرار دے چکے ہیں۔

فلم کا آغاز  کیمرہ مین سلو ، پروگرام کی پروڈیوسر ایمن، رپورٹر نازش اور ان کا ڈرائیور اشرف سے ہوتا ہے جو شوٹنگ کی غرض سے کٹاس راج  جارہے ہوتے ہیں۔ ایمن ایک آزاد خیال لڑکی ہے جو اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتی ہے، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جبکہ سلو کو رنگین مزاج کا مالک دکھایا ہے، اس کے برعکس نازش اور اشرف کے کردار بالکل مختلف ہیں، نازش ایک سنجیدہ مزاج رپورٹر ہے جس کی اپنے شوہر کے  ساتھ علیحدگی ہوچکی ہے جبکہ محبت میں ناکامی نے اشرف کو بھی سنجیدگی کی طرف مائل  کردیا ہے۔

سفر جاری ہوتا ہے، اس دوران اچانک ان کی گاڑی کے شیشے پر خون گرتا ہے یہ وہ منظر ہے جہاں سے ایک ہارر فلم کی کیفیت محسوس ہوتی ہے، تاہم کہانی پھر معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے، سفر میں تھکن کے باعث ایک مقام  رات رکنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، اس وقت تک ایسا لگا کہ شاید فلم میں جذباتی اور رومانوی منظر بھی سامنے آئیں لیکن ہوتا بالکل مختلف ہے، فلم کا ایک ایک منطر سنسنی خیز ہے جسے دیکھ کر اگلے سین کا اندازہ لگانا بہت مختلف تھا۔

بلآخر چاروں افراد اپنی منزل کٹاس راج مندر پہنچتے ہیں ’کٹاس راج اسلام آباد سے دو گھنٹے کی مسافت پر چکوال میں واقع ایک تاریخی مقام ہے جہاں کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے‘ بس یہاں سے فلم میں ایک خوف کا عنصر شامل ہوتا ہے، کچھ مناظر ایسے ہیں جو وقفے وقفے سے دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے کردیتے ہیں تاہم فلم آغاز سے اختتام تک سسپنس سے بھرپور ہے۔

فلم سنسنی خیز تو ہے مگر ہارر کہنا غلط ہوگا لیکن فلم کی سنیماٹوگرافی بھی کمال کی ہے، ایک ہارر فلم کی طرح اس میں موسیقی کا استعمال نہیں کیا گیا،  وقتاً فوقتاً شاندار اردو اور دلچسپ تبصرے دیکھنے والے کو اداس نہیں کریں گے، جبکہ سلیم معراج کی اداکاری بھی توجہ اپنی طرف منبدول کراتی ہے، سلیم معراج اس سے قبل پاکستانی ہارر فلم ’’پری‘‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں ۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں