ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

مقبولِ گیت نگار خواجہ پرویز کو بول کے ذریعے دل میں اترنے کا فن آتا تھا

4 months ago

دس ہزار سے زیادہ مقبول زمانہ گیت تحریر کرنے والے خواجہ پرویز کے لکھے بول دل میں اترنے کا فن جانتے تھے۔  انھوں نے نورجہاں، نصرت فتح علي خان اور مہدي حسن سميت ديگر گلوکاروں کے لئے گيت لکھ کر ان کی آوازوں کو امر کرديا۔ خواجہ پرويز کی  آٹھويں برسی پر ان کے مداح...




دس ہزار سے زیادہ مقبول زمانہ گیت تحریر کرنے والے خواجہ پرویز کے لکھے بول دل میں اترنے کا فن جانتے تھے۔  انھوں نے نورجہاں، نصرت فتح علي خان اور مہدي حسن سميت ديگر گلوکاروں کے لئے گيت لکھ کر ان کی آوازوں کو امر کرديا۔


خواجہ پرويز کی  آٹھويں برسی پر ان کے مداح انھیں یاد کررہے ہیں۔ خواجہ پرويز کا اصل نام غلام محي الدين تھا۔ اپنے چاليس سالہ کيريئر ميں  دس ہزار سے زائد گانے لکھے  جو مختلف فلموں اور آڈيو البمز کي زينت بنے۔ خواجہ پرويز کا ہر فلمی گیت شائقین موسیقی پر سحر طاري کرديتا تھا ۔


ملکہ ترنم نور جہاں، نصرت فتح علی خان، مہدی حسن اور دوسرے گلوکاروں نے خواجہ پرويز کے لکھے گيتوں کو اپنی آواز دے کر امر کرديا۔


خواجہ پرویز نے بے شمار قوالیاں اور صوفیانہ گیت بھی لکھے۔ ان کی مقبول زمانہ قوالیوں ميں "اکھیاں اڈیکدیاں" "جھولے جھولے لال" اور "ساری ساری رات" شامل ہیں ۔


خواجہ پرویز 20 جون 2011 کو جگر کے عارضے کے باعث انتقال کرگئے لیکن ان کے لکھے گيت پرستاروں کو ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں