ہوم   > Latest

اکیلے بیٹھ کر ہرگز یہ فلمیں دیکھنے کی غلطی کبھی مت کرنا

5 months ago

کیا ہنسی مذاق اور ایکشن سے بھرپور فلموں کے علاوہ آپ کو خوف ناک اور ڈراونی فلمیں دیکھنے کا بھی شوق ہے ؟ اگر ہے تو پلیز جن فلموں کا ذکر ہم کر رہے ہیں انہیں ہرگز اکیلے وہ بھی رات کے اندھیرے میں بیٹھ کر مت دیکھنا، ورنہ نتائج کے ذمہ دار آپ ہونگے۔

محل

بالی ووڈ کی پہلی خوف ناک یا یوں کہیں ہارر فلم محل تھی، جو 1949 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ اس فلم نے سالوں تک لوگوں کو اپنے خوف میں مبتلا کیے رکھا۔

دی کونجورنگ

فلم دی کونجورنگ سال 2013 کی کامیاب ہارر فلم قرار پائی تھی، اس فلم میں ایک خاتون پر بھوت چڑھ جاتا ہے جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ نئے مکان میں رہنا شروع کرتی ہیں، جس کے بعد دو پادری ایڈ اور لورین ان کی مدد کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فلم سچی کہانی پر مبنی ہے۔ اس فلم نے 31 کروڑ 80لاکھ ایک سو 41 ڈالر یعنی 33ارب 33کروڑ 53لاکھ 55 ہزار پاکستانی روپے کمائے۔

رات

رام گوپال ورما کی فلم رات کی کہانی ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جس میں ایک مری ہوئی بلی کی روح سما جاتی ہے۔ یہ فلم سال 1992 میں ریلیز ہوئی۔

‘اے کوائٹ پلیس’

یہ فلم تیکنیکی طور پر بہترین ہے جس میں خوفزدہ کردینے والے لمحات موجود ہیں، اس فلم کو دیکھتے ہوئے ہر لمحے احساس ہوتا ہے کہ ہلکی سی آواز بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، فلم کو دیکھنا شروع کریں تو ہر لمحہ تجسس گرفت میں لینے لگتا ہے اور کئی بار تو اچانک کوئی سین اچھلنے پر مجبور کردیتا ہے، یہ اپنی نوعیت کی منفرد اور بہترین ہارر فلم ہے۔

اس فلم نے سینما گھروں میں دیکھنے والوں کو ڈر کے مارے چیخنے پر مجبور کردیا تھا۔ انتہائی مہارت سے دہشت پر مبنی اس فلم کے مناظر آپ کو اسکرین کے سامنے سے ہلنے نہیں دیتے۔ اس فلم کو دیکھتے ہوئے ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ہاتھ کتنی سختی سے بھینچے ہوئے ہیں اور تکلیف دہ ہوگئے ہیں جبکہ اینڈ کریڈٹس دیکھتے ہوئے تھمی ہوئی سانس باہر نکلتی ہے۔

 

راز

انگریزی فلم سے ماخوذ یہ فلم بھی انہیں فلموں میں شامل ہے، جسے اکثر لوف اکیلئے بیٹھ کر دیکھنے کی ہمت نہیں کرتے ہیں۔ یہ فلم سال 2002 میں ریلیز ہوئی، اس کی کاسٹ میں معروف اداکارہ بیپاشا باسو بھی شامل ہیں۔

ہینیبل

سال 2001 کی یہ فلم جرائم اور ایک راز پر مبنی کہانی ہے جو ایک قتل کا بدلہ لینے کے گرد گھومتی ہے، اس فلم کو ہولی ووڈ کے کئی ایوارڈز میں نامزد کیا گیا، جس نے متعدد شوز میں 8 ایوارڈز حاصل کیے۔

اس فلم نے 35کروڑ 16لاکھ 92ہزار 2 سو 68 ڈالر حاصل کیے جو کہ 36ارب 86کروڑ 79لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔

ڈرنا منع ہے

یہ فلم سال 2003 میں ریلیز ہوئی۔ یہ فلم بھی معروف ہدایت کار رام گوپال ورما نے بنائی۔ اس فلم میں خوف سے بھرپور چھ مختلف کہانیوں کو اس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا، کہ دیکھنے والوں کی چیخیں نکل گئیں۔

دی پروڈوجی

یہ فلم ایک ماں اور بیٹے پر مشتمل ہے، جس میں ماں اپنے بچے کے اندر ماورائی اور شیطانی رویوں کو دیکھتے ہوئے اسے ایک تھراپسٹ کے پاس لے جاتی ہے تاکہ جان سکے کہ اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔

اس فلم کی ایک دلچسپ بات یہ کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ہارر فلم کو کم ہارر کرنے کیلئے کچھ حصوں کو ایڈٹ کیا گیا ہو۔ پہلی بار فلم کو جب کچھ افراد کو دکھایا گیا تو ایک مخصوص حصہ ایسا تھا کہ اسے دیکھتے ہوئے ناظرین انتہائی خوفزدہ ہوکر بری طرح چیخنے لگے، جس کے بعد اس حصے کو دوبارہ ایڈٹ کیا، کیونکہ لوگ اس منظر کو دیکھتے ہوئے اتنے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ انہوں نے ڈائیلاگ کو سنا تک نہیں۔

سال 1920

اس فلم کی منظر کشی انگلینڈ میں کی گئی تھی۔ فلم کا ایک منظر جس میں اداکارہ منہ چھت کی طرف کئے ٹانگوں اور بازوں کے ذریعے چلتی دکھائی دے رہی ہیں، اس منظر نے دیکھنے والوں ایسا اپنے سحر میں جکڑا کہ رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

شٹر آئی لینڈ

اس فلم میں 1954 کا دور پیش کیا گیا جہاں ایک قاتل مریض اسپتال سے فرار ہوجاتا ہے، جس کے بعد امریکی مارشل اس کی تلاش کرتے ہیں۔ فلم میں ہولی وڈ اداکارہ لیونارڈو ڈی کیپریو نے مرکزی کردار ادا کیا۔


 اس فلم نے 29کروڑ 48لاکھ 4ہزار 1سو 95 ڈالر یعنی 30ارب 90کروڑ 46لاکھ 24ہزار پاکستانی روپے کمائے۔

اٹ

فلم اٹ کے ٹریلیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس ہارر فلم کی فوٹیج نے لوگوں کو مفلوج کردیا تھا۔ اس فلم کو سال 2017 کی سب سے دہشت ناک فلم قرار دیا گیا۔ معروف مصنف اسٹیفن کنگ کے ناول ‘اٹ’ کو 1990 میں بھی فلمایا جاچکا ہے، تاہم یہ نئی فلم اس کا ری میک ہے۔ یہ فلم سال 2017 میں ریلیز ہوئی۔ فوٹیج میں اس سین نے لوگوں کو مفلوج کردیا جس میں جوکر کے مرکزی کردار نے ایک بچے کا ہاتھ کھا لیا۔

اس فلم کا خوف ناک جوکر پینی وائز کا مرکزی کردار بل اسکارسگرڈ نے ادا کیا ہے، جب کہ یہ ہی کردار سال 1990 میں بھی لوگوں کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

فلم کی کہانی ایک چھوٹے قصبے کے گرد گھومتی ہے جہاں سات بچے جنھیں دی لوزر کلب کے نام سے جانا جاتا ہے، کو زندگی کے مسائل، بدزبانیوں اور ایک عفریت کا سامنا ہوتا ہے جو کہ ایک جوکر کا روپ اختیار کرکے انہیں دہشت زدہ کرتا ہے۔ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران بھی جوکر کا کردار ادا کرنے والے بل سکارسگرڈ کی اداکاری نے ان بچوں کو دہشت زدہ کردیا تھا جو فلم میں کام کررہے تھے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں