ہوم   > Latest

میشا شفیع اورعلی ظفر کو غیرضروری درخواستیں دائر کرنے سے روک دیا گیا

3 months ago

سپریم کورٹ نے میشا شفیع اورعلی ظفر کے جنسی ہراسانی سے متعلق کیس میں نو گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کا لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قراردے دیا۔ عدالت نے دونوں کوغیرضروری درخواستیں دائر کرنے سے بھی روک دیا۔

سپریم کورٹ میں میشا شفیع کی گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔

گلوکارہ کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ میشا شفیع علی ظفر کے تمام گواہان کو نہیں جانتیں، گواہان علی ظفر کے ملازمین ہیں ۔ جواب میں علی ظفرکے وکیل کا کہنا تھا کہ کوئی گواہ اُن کے مؤکل کا ملازم نہیں ۔

جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے استفسارکیا کہ علی ظفر کا میشا شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض ہے کیا ؟ وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے۔ میشا شفیع کے وکیل کا کہنا تھا کہ گواہوں کی فہرست مل جائے تو جرح ایک دن میں کر لیں گے۔

علی ظفر کو 2 ارب کا نوٹس ، میشا شفیع نے ٹوئٹر سے رخصت لے لی

جسٹس فائزعیسٰی نے واضح کیا کہ ایک ہی دن بیان لینے اور اس پرجرح کرانے کا اختیارعدالت کا ہے۔

عدالت نے علی ظفر کو 7 دن میں گواہان کے بیان حلفی جمع کرانے اور میشا شفیع کے وکیل کو جرح کی تیاری مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام گواہان پر جرح ایک ہی روز مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ میشا شفیع کے وکیل نے ایک دن میں جرح مکمل نہ ہونے کی صورت ایک ہفتے کا وقت دینے کی استدعا کی جو عدالت نے منظورکرلی۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ غیر ضروری التواء نہ دیتے ہوئے کیس ٹرائل جلد مکمل کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے بھی روکنے کا حکم دیا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
بابراعظم کی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی
سیالکوٹ: اسکول کی خستہ عمارت، طلبہ کی زندگیاں خطرے میں