علی ظفر کو 2 ارب روپے کا نوٹس، میشا شفیع نے ٹوئٹر سے رخصت لے لی

May 2, 2019

علی ظفر کیخلاف جنسی ہراسانی کے معاملے پرمیشا شفیع کی قانونی ٹیم نے علی ظفر کو 2 ارب روپے کا لیگل نوٹس بھجوا دیا ہے۔ دوسری جانب عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے والی گلوکارہ میشا شفیع نے ٹوئٹر سے بریک لے لی۔

میشا شفیع اورعلی ظفر کے درمیان جنسی ہراسانی سے متعلق معاملے میں نیا موڑ آگیا، گلوکارہ کی قانونی ٹیم نے علی ظفر کو ہتک عزت پر 2 ارب روپے  کا نوٹس بھجوادیا۔ قانونی ٹیم میں شامل نگہت داد ایڈووکیٹ نے نوٹس کی کاپی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔

نوٹس ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے سیکشن 8 کے تحت بھجوایا گیا ہے۔

نوٹس کے متن کے مطابق 27 اپریل کو ہم نیوز کے شو میں آپ نے کہا کہ میشا شفیع نے شہرت حاصل کرنے اور کینیڈا کی امیگریشن لینے کیلئے آپ پر جنسی ہراسانی سے متعلق جھوٹے الزامات عائد کیے ، جبکہ میشا شفیع سال 2016 سے کینیڈین شہری ہیں۔

نوٹس میں علی ظفر سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’آپ نے غلط بیانی کی کہ محتسب کی جانب سے جنسی ہراسانی کا کیس ختم کردیا گیا ہے اور آپ ان تمام الزامات سے بری الذمہ ہیں‘‘ ۔ اس سے قبل سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے نگہت داد کا کہنا تھا کہ میشا شفیع کا کیس تکنیکی بنیادوں پر مسترد کیا گیا کیونکہ علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان مالک اور ملازم کا تعلق نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے میشا کو قصوروار قرار دیا۔

متن کے مطابق میشا شفیع یا ہراسانی کا نشانہ بننے والی دیگر خواتین نے تاحال عدالت یا محتسب کے سامنے بات ہی نہیں کی،محتسب کی جانب سے کیس معطل کرنے کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔

میشا شفیع کی قانونی ٹیم نے 15 روز کے اندر علی ظفر سے ٹی وی پر آ کر معافی مانگنے اور 2 ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ گیا ہے بصورت دیگر انہیں اس حوالے سے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر میشا نے حالیہ پیغام میں ٹوئٹر سے رخصتی کا اعلان کردیا، تاہم یہ رخصتی عارضی ہوگی۔

گلوکارہ نے لکھا کہ ’’ ٹوئٹر سے رخصت لے رہی ہوں، اس لیے نہیں کہ مجھے بے حد بےرحمانہ طریقے سے تنقید کا نشانہ بناکر غلط الزامات عائد کیے گئے، میں نے گزشتہ سال بھی ٹوئٹر سے بریک لے تھی اور اس سال بھی لے سکتی ہوں‘‘۔

میشا نے جنسی ہراسانی کے معاملے پرحالیہ واقعات کے تناظر میں یہ بھی لکھا کہ ’’ جو چیز آپ کو قتل نہیں کرسکتی وہ آپ کو مضبوط بنا دیتی ہے‘‘۔

گلوکارہ نے چھٹی لینے کا مقصد واضح کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ’’گیم آف تھرونز‘‘ کا مزہ خراب کرنے والوں کی وجہ سے ٹوئٹر استعمال نہیں کریں گی۔

میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان گزشتہ سال سے جاری عدالتی جنگ میں ان دنوں خاصی پیشرفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہتک عزت کا نوٹس بھجوانے سے قبل بھی میں میشا شفیع کی قانونی ٹیم نے علی ظفر سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا تھا۔

قانونی ٹیم میں شامل نگہت داد ایڈووکیٹ نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں واضح کیا کہ علی ظفر نے میشا شفیع کو خاموش کرانے کے لیے ان کے خلاف ایک ارب روپے ہتک عزت کا کیس کیا۔ بہترین جواب سچ ہے، میشا نے کبھی ان کیخلاف ایسے الفاظ استعمال نہیں کیے اس لیے کسی بھی عدالت سے انہیں ہتک عزت کے لیے قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

میشا شفیع کی قانونی ٹیم نے مطالبہ کیا کہ علی ظفر سرعام معافی مانگیں کیونکہ انہیں اپنے کیے کی سزا ملنا شروع ہو گئی ہے۔

نگہت داد نے میشا شفیع کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں ملالہ کا نام لینے اور موازنہ کرنے کو بھی شرمناک قرار دیا ۔قانونی ٹیم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ علی ظفر میشا سے عام معافی مانگیں کیونکہ وہ اپنے کیے کی سزا بھگتنا شروع ہوگئے ہیں۔

علی ظفر ٹی وی پر رو پڑے

اس سے قبل جیو ٹی وی کے پروگرام میں علی ظفراس معاملے پر بات کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ میری ساکھ خراب کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے کہ مجھے کہیں کام نہ ملے ۔

جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد علی ظفر نے معافی کا پیغام بھیجا

جواب میں میشاشفیع نے بھی جیو ٹی وی کے پروگرام میں آکرکہا تھا کہ علی ظفر کی جانب سے پہلی بار ہراساں کرنے پر خاموش رہی لیکن دوبارہ ایسا ہونے پرمعاملہ سب کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔