ہوم   > Latest

جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد علی ظفر نے معافی کا پیغام بھیجا، میشا شفیع

5 months ago

علی ظفر میڈیا پر آئے تو میشا شفیع نے بھی جنسی ہراسانی کے الزام کے تقریبا ایک سال بعد پہلی بار میڈیا پر آ کر واقعے پر اپنا موقف دیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے گواہ موجود ہيں، جب عدالت بلائے گي تو گواہوں کے ساتھ پيش ہوں گی۔ میشا نے علی ظفر کے...



علی ظفر میڈیا پر آئے تو میشا شفیع نے بھی جنسی ہراسانی کے الزام کے تقریبا ایک سال بعد پہلی بار میڈیا پر آ کر واقعے پر اپنا موقف دیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے گواہ موجود ہيں، جب عدالت بلائے گي تو گواہوں کے ساتھ پيش ہوں گی۔ میشا نے علی ظفر کے رونے پر طنز بھی کیا۔


نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ ‘‘ میں شریک میشا شفیع نے الزام عائد کیا کہ ہراسانی کے پہلے واقعے کے بعد علی ظفر کو معاف کر دیا تھاجس کے بعد دوسرا واقعہ دسمبر میں ہوا جس کے 4 ماہ بعد اپریل میں ٹویٹ کیا۔


میشا شفیع نے بتایا کہ اس حوالے سے علی ظفر کے نمائندوں سے بات کی تھی مگر کوئی مثبت جواب نہیں ملا، انہیں کہا کہ میں علی ظفر کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتی، شکایت کرنے پر علی ظفر نے پیغام بھجوایا کہ گھر آ کر بات کریں۔ مجھے کہا گیا کہ اگر علی ظفر معافی مانگیں تو کیا آپ قبول کریں گی؟ پھر وہی جواب دیا گیا کہ گھر آکر ملیں۔ معافی ملنے کے پیغامات پر سوچا جاسکتا ہے۔



جھوٹ کر میشا شفیع ملالہ نہیں بن سکتیں


گلوکارہ کے مطابق واقعہ کے بعد میں علی ظفر کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن آرگنائزرز کی درخواست پر ان کے کنسرٹ میں پرفارم کیا۔ پیغام بھجوانے سے متعلق سوال پر میشا نے جواب دیا کہ کنسرٹ کے بعد رضاکارانہ پیغام بھیجا یا نہیں، دیکھنا پڑے گا۔


ہراسانی کے واقعے کے عینی شاہد سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں میشا شفیع نے کہا کہ شاید کسی نے دیکھا اور وہ سامنے آ جائے۔


انہوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں کے بولنے پر یقین کرنا چاہیے، فرق صرف یہ ہے کہ میں اپنے تجربے کے حوالے سے بات کر رہی ہوں، جس تجربے سے میں گزری ہوں ، شاید وہ دونوں خواتین نہ گزری ہوں جن کے بارے میں علی ظفر کہہ رہے ہیں۔ میں یہ معاملہ ڈھکے چھپے انداز میں حل کرنا چاہتی تھی، نمائندے کے ذریعے بتانے کی کوشش کی لیکن کوئی حل نہ نکلا تو معاملہ عوام کے سامنے لے آئی۔


میشا شفیع کے مطابق میرے ٹویٹ کے بعد رابطہ کر کے کہا گیا کہ معاملہ حل کرتے ہیں مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کس طرح حل کرنا ہے، میں اس وقت بولی جب مجھے لگا کہ مجھے اپنے آپ کو بھی دیکھنا ہے۔



علی ظفر ٹی وی پروگرام کے دوران رو پڑے


علی ظفر کے خلاف شواہد سے متعلق سوال پر گلوکارہ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کئی گواہ ہیں جو عدالت میں پیش کریں گے۔ مجھے عدالت نے بلایا ہی نہیں ہے جب بلایا تو ضرور جاؤں گی۔


میشا شفیع کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ یہ تمام وقت میں نے بہت آرام سے گزارا، اس دوران سوشل میڈیا پر میری کھلم کھلا مخالفت اور کردار کشی کی گئی لیکن میں نے اور میری فیملی نے یہ سب برداشت کیا کیونکہ تبدیلی اتنی آسانی سے نہیں آتی۔


اس سے قبل جیو نیوز کے پروگرام میں علی ظفر اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے رو پڑے تھے ، ان کا کہنا تھا کہ میشا شفیع نے مجھ پر کیس کیا، محتسب نے فیصلہ میرے حق میں دیا لیکن میرے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم شروع کی گئی۔ اقوام متحدہ سے لے کرمجھے کام دینے والی دیگر بڑی کمپنیوں کو ٹیگ کیا جاتا ہے تاکہ میرا کیرئیر ختم ہو جائے۔


میشا شفیع نے اپریل 2018 میں سماجی رابطون کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا تھا کہ علی ظفر نے ایسے وقت میں ہراساں کیا جب میں 2 بچوں کی ماں اور معروف گلوکارہ بھی تھی۔


گلوکارہ نے علی ظفر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی ، جواب میں علی نے ان پر ایک ارب روپے کے ہرجانہ کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ محتسب کی جانب سے میشا شفیع کی درخواست غلط پلیٹ فارم کے باعث خارج کی جا چکی ہے ۔ تاحال کیس سیشن کورٹ لاہور میں زیر سماعت ہے جہاں ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کو 3 ماہ میں گواہان پر جرح کے بعد فیصلہ سنانے کی ہدایت دے رکھی ہے۔


 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں