مداحوں کی مسکراہٹوں میں زندہ معین اختر

April 22, 2019

پاکستان میں مزاحیہ اداکاری کا کینوس ایک نام کے بغیر بالکل ادھوارا ہے اور وہ نام ہے عہد ساز شخصیت معین اختر کا۔ لازوال اداکاری سے اپنا نام ہمیشہ کے لیے مداحوں کے دلوں پر نقش کر دینے والے اداکار کی آٹھویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

چوبیس دسمبر1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے فنی سفر کا آغاز 16 سال کی عمر میں اسٹیج ڈراموں سے کیا۔ ”بڈھا گھر پہ ہے“ اور ”بکرا قسطوں پر“ نے معین اختر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔

ٹی وی پر انہوں نے انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ مل کر کئی شاہکار پروگرام پیش کیے ،ان کے یادگار ڈراموں میں روزی، ہاف پلیٹ، شو ٹائم، اسٹوڈیو ڈھائی، ففٹی ففٹی، آنگن ٹیڑھا، انتظار فرمائیے اور عید ٹرین سمیت دیگر شامل ہیں جس میں معین اختر نے ایسے کردار ادا کیے کہ جنہیں دیکھ کر لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ آ جاتی ہے۔

وہ ایک خوش گفتار اور باکمال شخصیت کے حامل انسان تھے۔ مزاحیہ اداکاری ہو یا کمپیئرنگ ، ان کا ہر انداز منفرد ہے۔ مختلف شخصیات کی پیروڈی میں بھی معین اختر کا کوئی مقابلہ نہ تھا، یہ ان کے فن کا کمال ہی تھا کہ انور مقصود اپنی کہانیوں کو معین اختر کے بناء ادھورا سمجھتے تھے۔

معین اختر کو ان کی ہمہ جہت فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت کئی اہم قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔

پاکستان کے لیے فخر کا باعث بننے والے معین اختر 2011 کوکراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے لیکن ان کی یادیں آج بھی مداحوں کے چہروں پر موجود مسکراہٹوں میں زندہ ہیں۔