Saturday, September 26, 2020  | 7 Safar, 1442
ہوم   > Latest

فحاشی تب تھی یا اب، نادیہ حسین کی پوسٹ نے آگ کیوں لگا دی؟

SAMAA | - Posted: Jan 26, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 26, 2019 | Last Updated: 2 years ago

 

فی زمانہ سب سے آسان کام دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہےجس کیلئے سب سے موثر پلیٹ فارم سوشل میڈیا ہے، جیسے ہی کسی نے ذاتی رائے پر مبنی کوئی پوسٹ شیئر کی اور ’’غیرت بریگیڈ ‘‘ حرکت میں آ گئی۔

تازہ مثال معروف ماڈل، ڈینٹسٹ اور ٹی وی ہوسٹ نادیہ حسین کی انسٹا پر ایک پوسٹ ہے ، جس سے پہلے ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ فن سے مراد لوگوں کو محظوظ کرنا ہوتا ہے لیکن ایسا فن جسے دیکھ کر بجائے لطف اندوز ہونے کے پاس بیٹھے افراد سے منہ چھپانا پڑجائے ، فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔

نادیہ حسین نے انسٹا پر پاکستان فلم انڈسٹری کے ’’گنڈاسہ دور‘‘ کی ایک ویڈیو شیئر کی، لالی ووڈ فلم کے کسی گانے کی اس ویڈیو میں ایک محترمہ انتہائی نازیبا اور مختصرلباس میں جو حرکات وسکنات کررہی ہیں وہ تو بیان کے قابل نہیں اور ان کے مدمقابل معروف اداکار منور سعید مغرور ماہی بنے اپنی موچھوں کو تاؤ دے رہے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل نے اس حوالے سے نادیہ حسین سے رابطہ کرکے پوچھا کہ اس ویڈیو کوشیئر کرنے کے پیچھے ان کا مقصد کیا تھا؟ نادیہ نے بتایا کہ لالی ووڈ کی حالیہ فلموں میں عائشہ عمر ہوں یا مہوش حیات یا کوئی اور ڈانسنمبر کر رہا ہو، سبھی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس میں عریانی ہے تو مجھے موازنہ کرتے ہوئے بتانا تھا کہ دیکھیں یہ ہماری پرانی لالی ووڈ فلم ہے جس کا آج کل کی فلموں سے کوئی موازنہ نہیں جبکہ کہا یہ جاتا ہے کہ آج کل کی فلمیں عریاں ہیں اور کام کرنے والی لڑکیوں کو گالیاں دی جاتی ہیں۔

نادیہ کے مطابق تنقید اگر تعمیری ہو تو ٹھیک ہے لیکن لوگ اگر کہہ رہے ہیں کہ شرم کرنی چاہیے تو مجھے کیوں شرم دلائی جا رہی ہے، میں اس زمانے میں نہ پیدا ہوئی تھی ، نہ میں نے کبھی یہ ویڈیو دیکھی اور نہ ہی اس میں کام کیا۔ شرم تو اسے بنانے والوں کو کرنی چاہیئے۔

ویڈیو کے ذرائع کے حوالے سے نادیہ نے بتایا کہ یہ انہیں کسی نے واٹس ایپ پرفارورڈ کی تھی، جسے دیکھ کر وہ شاکڈ رہ گئیں کہ پہلے ایسی فلمیں بھی بنائی جاتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں عموما تنقید کو نظراندازکرتی ہوں یا بےجا تنقید کرنے والوں کو ہی بلاک کردیتی ہوں۔

نادیہ حسین کی رائے تو آپ نے جان لی کہ اس ویڈیو کو شیئر کرکے وہ کیا بتانا چاہتی تھیں لیکن یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی پرانی فلمیں فحاشی کے زمرے میں آتی ہیں ؟ بلاشبہ آئینہ ، دیوربھابھی، دل لگی، بندش، پاکیزہ، ارمان، انا ڑی، پہچان اور امنگ جیسی صاف ستھری تفریحی فلمیں بھی بنائی گئیں جنہیں بغیر کسی جھجھک کے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جا سکتا تھا۔

لیکن ہر عروج کو زوال ہے کہ مصداق ایک دور ایسا بھی آیا کہ پرانی رومانوی فلموں کی جگہ گنڈاسہ کلچر اور بڑھکوں نے لے لی اور ان فلموں میں فحاشی کو بھی عروج ملا۔ یہاں پشتو فلموں کا ذکر بھی ضروری ہے جس میں فلم بینوں کی دل پشوری کے لیے 12 مصالحے کی چاٹ تیار کی جاتی ہے ۔ ہوشربا رقص کے ذریعے پہنچائے جانے والا پیغام بھی بلاشبہ بیہودگی اور فحاشی کے زمرے میں ہی آتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ فلم کی کامیابی کے لیے ایسے مناظر ڈیمانڈ بن گئے ہیں جسے پورا کرنا فلمساز اپنی مجبوری قرار دیتے ہیں۔

اب ذکرکریں جدید سینما کا تو نامعلوم افراد، جوانی پھرنہیں آنی ، طیفا ان ٹربل، ایکٹر ان لاء، پنجاب نہیں جاؤں گی، بول ، خدا کے لیے سمیت بیشتر نام ایسے ہیں جنہوں نے پاکستانی سینما کے تن مردہ میں جان ڈالی۔ ان فلموں میں دکھائے جانے والے آئٹم سانگز پر بھی شدید تنقید کی جاتی رہی ۔

فلم نامعلوم افراد کے گانے ’’بلی‘‘ میں مہوش حیات، نامعلوم افراد 2 کے گانے’’انتا حبیبی‘‘ پر ماڈل صدف کنول کا بیلے ڈانس ہو یا کراچی سے لاہور تک میں ’’ٹوٹی فروٹی‘‘ پرعائشہ عمرکی پرفارمنس ، ان سبھی کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا رہا کہ فحاشی پھیلائی جا رہی ہے۔

تب اور اب کا موازنہ کرنے بیٹھو تو نادیہ حسین کا اٹھایا گیا سوال سو فیصد درست لگتا ہے کہ ’’ کیا واقعی آپ کو لگتا ہے آج کل کی فلمیں فحاشی پھیلا رہی ہیں؟‘‘۔ اور اگر انہوں نے اپنے موقف کی تائید کیلئے یہ ویڈیو شیئر کی توکیا مضائقہ ہے۔

اگرآپ کا جواب ہاں میں ہے تو ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو شخصی آزادی اور لبرل ازم کی بات کرتے ہیں، ذہنی کشادگی اور تعمیری معنوں میں لبرل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ہم ہی ہیں جو ’’می ٹو‘‘ مہم کو بھی فروغ دے رہے ہیں جس کے ذریعے معروف خواتین خود پر بیتے انتہائی ذاتی واقعات بھی دنیا کے سامنے لا رہی ہیں اور ہم ان کی ہمت بڑھاتے ہیں۔

یہاں مقصد اس بحث میں پڑنا نہیں کہ ایسی فلموں کو فحش کہنے والے غلط ہیں بلکہ یہ احساس دلانا ہے کہ ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، اس دور میں جب گھروں میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتے تھے اور جدیدیت کا تصور بھی ناپید تھا، اگر ’’فلم سنسربورڈ‘‘ ایسے ہیجان خیز مناظر والی فلموں کو سرٹیفیکٹ جاری کرسکتا ہے تو آج کے ’’گلوبل ولیج‘‘ میں تو دنیا واقعی سمٹ کر ہاتھوں میں آگئی ہے۔ 10 اور 12 سال کے بچے ذاتی موبائل فونز پر کہاں تک پہنچ رکھتے ہیں؟ کسی نے سوچا؟ انٹرنیٹ کی رنگین دنیا اس فحاشی کو کہیں بہت  پیچھے چھوڑ آئی ہے اور اگر کوئی کہے کہ وہ انٹرنیٹ کو اچھے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے تو پھر تو یہ فلمیں بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہی رہنی چاہیئیں۔

 

WhatsApp FaceBook

One Comment

Leave a Reply to ارشد Cancel reply

Your email address will not be published.

  1. ارشد  May 1, 2020 8:38 am/ Reply

    نادیہ حسین نے ماضی قریب کی فلم کا ریفرنس دے کر اپنا نقطہ نظر مظبوط بنانے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی آج عریانی اس نہج پر چکی ہے جسکے مقابلے میں آج کی عریانی عشر عشیر بھی نہیں۔ ماضی میں ہیرو ہیروین کا ملنا ایک درخت کے پیچھے پردے میں ہوتا تھا اور مزید وضاہت کے لیے دو پھولوں کو اٹھکیلیاں کرتے ہوے دکھا دیا جاتا تھا۔ آج جنسی جذبات ابھارنے کے لیے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال نہیں کیے جا رہے جنہیں روشن خیالی کا تڑکہ لگا دیا جاتا ہے اور تنقید کرنے والوں کو بیک ورڈ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube