سو سالہ جرمن ہارمونیئم پرامن کے تال

December 6, 2018

ہارمونیئم کا شمار موسیقاروں کو تربیت دینے والے اہم سازوں میں ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ سر اور تال سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہارمونیئم بجانا آنا چاہئے۔

صاف ،مسحور کن اور سننے میں اچھی لگنے والی دھنیں ترتیب دینے والے قدیم جرمن جوبلیٹ ہارمونیئم ریڈزنئے موسیقاروں کے لیے بہتر ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مقامی طور پرہاتھ سے تیار کردہ جرمن ریڈز ہارمونیئم مقبول ہیں۔

البتہ ریڈز کو بنانے کا کام تقریبا 50 برس قبل بند کردیا گیا تھا۔ انھیں 1911 سے 1960 کے درمیان بنایا جاتا تھا۔ طویل عرصے بعد بھی جرمن  ہارمونیئم کی مانگ زیادہ ہے۔سندھ میں ہارمونیئم بنانے کے لیے کراچی،حیدرآباد،نواب شاہ، سانگھڑ اور کماں شہید کا نام آتا ہے۔ ہارمونیئم بنانے کا کام لاہور اور گوجرانوالہ میں بھی ہوتا ہے۔

سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ میر حسن ہارمونیئم سازی کا کام 7 برس کی عمر سے کررہے ہیں۔ وہ 20 دن میں ایک ہارمونیئم بنا دیتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اگر3 سے 4 افراد مل کر یہ کام کریں تو ہارمونیئم کو 6 دن میں بھی بنایا جاسکتا ہے۔میر حسن نے بتایا کہ ہارمونیئم کا شمار موسیقی کے سب سے بنیادی ساز میں ہوتا ہے۔ نئے جرمن ریڈز اب دستیاب نہیں ہیں،پرانے جرمن ریڈز کو استعمال کرکے یہ ہارمونیئم بنایا جاتا ہے۔

جرمنی کے علاوہ ،ریڈز کو بھارت اور فرانس سے بھی درآمد کیا جاتا ہے۔ ریڈز کو تانبے اور کانسی کی دھات سے تیار کیا جاتا ہے۔ بھارت میں تیار ہونے والے ہارمونیئم کی ریڈز کی قیمت 25 ہزار سے 30 ہزارروپے کے درمیان ہے،جرمن ریڈز کی قیمت 40 ہزار سے 50 ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے۔اگرچہ ان کی قیمت زیادہ ہوتی تھی،پھر بھی لوگ جرمن ریڈز کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہارمونیئم کو بنانے کےلیے دیار،کیل اوربرما ٹیک کی لکڑی استعمال ہوتی ہے، کارڈ بورڈ اور پلاسٹک بھی لگایا جاتا ہے۔ہارمونیئم بنانے کے بعد اصل کام اس کی دھنوں کو ترتیب دینا ہوتا ہے۔ اس مقصد کےلیے  ریڈ کی فریکوئنسی کو درست کیا جاتا ہے، سر اور تال میں توازن کیا جاتا ہے۔