Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

شانگلہ ڈسٹرکٹ میں مذہبی اور جدید تعلیم ساتھ ساتھ

SAMAA | - Posted: Nov 14, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 14, 2018 | Last Updated: 3 years ago

ظہر کی نماز کا وقت ہوتے ہی چھوٹی چھوٹی کونپلیں آسمانی نیلے رنگ کے یونیفارم میں ملبوس مسجد سے نکلتی ہیں اور اونچے نیچے پتھروں کو پھلانگتے اور کودتے آگے بڑھتی ہیں، جس کے بعد ان کے اپنے انہیں اپنی آغوش میں اٹھا لیتے ہیں، یوں اسکول کا وقت تمام اور اذان کی پکار کا وقت شروع ہوتا ہے ۔

یہ کسی عام اسکول کے بچے نہیں، بلکہ مدرسے کے آنگن میں قائم اسکول میں پروان چڑھنے والی وہ نئی پوت ہے جو رحیم آباد اور باسی میں موجود ہے، یہ دور افتادہ علاقہ ہے، جہاں کے قریب ترین قصبے الپوری تک بھی جانے کیلئے آپ کو پورا ایک دن لگتا ہے۔

فضل دین کے مطابق فجر کی نماز کے بعد کوئی اس مسجد میں نہیں جاتا ہے اور یہ ہی وہ وقت ہوتا ہے، جو ہم نے بچوں کی تعلیم کیلئے مختص کیا ہے۔ علاقہ میں نہ کوئی ایسی جگہ تھی کہ جہاں اسکول تعمیر کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی باقاعدہ اسکول موجود تھا کہ جہاں بچے تعلیم حاصل کرتے، یہ ہی وجہ ہے کہ بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے مسجد سے مدد طلب کی گئی، جس کا بہت مثبت جواب ملا۔

یہ ایک اچھوتا حل تھا، کیوں کہ عام طور پر یہ ہی تاثر سامنے آتا ہے کہ مدرسے اور پرائمری اسکول کی تعلیم روایتی طور پر ایک دوسرے کے متضاد ہیں، تاہم اس انوکھے اسکول نے ملک میں جاری اس بچث کو ختم کردیا۔ مسجد کے احطے میں پرائمری اسکول اور تعلیم کے آغاز نے اس ملک کے تعلیمی نظام کو نئی جدید بخشی ہے۔

ابتدا میں کچھ افراد مسجد کو بحیثیت پرائمری اسکول استعمال کرنے کے مخالف تھے۔

ان مخصوص لوگوں کا واضح نظریہ یہ تھا کہ وہ کسی طور اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ لڑکے اور لڑکیاں مسجد جیسی جگہ پر مغربی تعلیم حاصل کریں۔

ہندو کش کے پہاڑوں کے دامن میں گھرے ایک ایسے علاقے میں جہاں لوگوں کو ایک وقت کے کھانے کے بعد دوسرے وقت کے کھانے کیلئے پیسے کمانے کی فکر شروع ہو جاتی ہے، وہاں تعلیم جیسے مسئلہ کا بھلا کون سوچتا ہے؟۔

یہ ہی وجہ ہے کہ پہلے اس علاقے میں پرائمری سطح کا کوئی اسکول موجود نہ تھا، اور اسی بنیادی وجہ اور مسئلے کے حل کیلئے علاقے کے لوگوں نے متعدد بار حکومت سے اساتذہ کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا۔

دور دراز علاقہ ہونے کے باعث کوئی یہاں آکر بچوں کو پڑھانے پر آمد نہ تھا اور جو تعلیم دی جاتی تھی وہ صرف مکتب یا مدرسے کی سطح پر ہی ملتی تھی اور اس کو بھی خیبر پختونخوا حکومت کے حکم کے باعث پابندی کا سامنا تھا۔

علاقے میں حالیہ تعینات ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شانگہ محمد امین کے مطابق رحیم آباد اور باسی کے لوگوں کی جانب سے چلنے والا اسکول مکتب اور مدرسے سے بالکل مختلف ہے اور اس کا شمار اس طرز کی درسگاہوں میں نہیں ہوتا ہے، کیوں کہ یہ کسی مسجد کے اصول کے تحت نہیں بلکہ خود علاقے کے افراد چلا رہے ہیں۔

مقامی بزرگ شہری فضل دین کا کہنا ہے کہ اب وقت تبدیل ہو گیا ہے، آپریشن کے بعد یہاں سے دیگر علاقوں کو جانے والے ٹی ڈی پیز نے دیگر علاقوں میں جا کر الگ ہی دنیا کا مشاہدہ کیا ہے۔ بزرگ فضل دین کے مطابق اس نے اور اس کے ہمراہ علاقے کے دیگر لوگوں نے ٹی ڈی پیز کے طور پر جو وقت مانسہرہ گزارا، وہاں وہ اسکول کا نظام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔

اور یہ ہی وجہ تھی کہ قیام امن کے بعد سال 2011 میں اپنے علاقے میں واپسی کے بعد ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمیں بھی اپنے بچوں کیلئے کسی ایسے ہی اسکول یا سسٹم کی بنیاد رکھنی ہوگی۔

اور اس کو آپ خوش قسمتی کہیں یا کچھ اور کہ ایک ایسی جگہ جہاں لوگ آنے پر آمد نہ تھے، محمد ذیشان نے کھلے دل سے یہاں آکر پڑھانے کیلئے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube