کشمیرسے پی آئی اے کی پہلی خاتون پائلٹ

November 8, 2018

آزاد کشمیر سے پہلی خاتون پائلٹ مریم مجتبیٰ پی آئی اے کے فلیٹ میں شامل ہوگئیں۔ باہمت پائلٹ کا کہنا ہے کہ موقع ملے تو میں جہاز کے اندر ہی رہنا شروع کردوں۔ پی آئی نے اڑنے کیلئے مجھے پرفراہم کیے، یہ میرا خواب تھا جو اس جاب کی صورت میں پورا ہوا۔

قومی اِئرلائن نے اپنے آفیشل ٹوئٹر پیج پر مریم کا تعارف ایک ویڈیو کےذریعے کروایا۔ قومی ائرلائن کے مطابق مریم قوم کا فخر ہیں جن سے بات چیت یقیننا آپ کو محظوظ کرے گی۔

پائلٹ بننے کی خواہش کا اظہاروالدین سے کیا تو ان کا کیا ردعمل تھا؟ اس سوال کے جواب میں مریم نے بتایا کہ میرے والدین شروع سے جانتے تھے کہ میں پائلٹ بننا چاہتی ہوں لیکن نہ کبھی میں نے انہیں اس حوالے سے کچھ بتایا نہ ہی انہوں نے کہا کہ ہاں ٹھیک ہے۔ لیکن جب میں نے اس خواہش کااظہار کیا تو میرے والد مجھے فلائنگ اسکول لے گئے۔

پی آئی اے جوائن کرنے کے حوالے سے مریم نے بتایا کہ میں بہت خوش قسمت رہی کہ جس دن کورس مکمل ہوا، پی آئی اے کی جانب سے ملازمت کااشتہار نظر سے گزرا، میں نے اپلائی کیا، ٹیسٹ پاس کیا اور کامیاب امیدواروں کی فہرست میں میرا نام بھی شامل تھا۔

مریم سے پوچھا گیا کہ سفر میں کیا چیز ہمیشہ ساتھ رکھتی ہیں، ان کا جواب تھا " میراقرآن پاک"۔

کاک پٹ میں کیا تبدیلی لاناچاہیں گی کے سوال پرمریم بولیں کہ کاک پٹ کے اپنے اصول وضوابط ہوتے ہیں جنہیں فالوکرنا ہوتا ہے اس لیے ہم اس میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے۔

کاک پٹ میں پائلٹ کے آرام کرنے سے متعلق مریم نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہمیں تربیت دی گئی ہے ، ایک پائلٹ جہازلینڈ کرسکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرا سوجائے،خصوصا پی آئی اے کے پائلٹس ہمیشہ الرٹ ہوتے ہیں۔

خاتون پائلٹ ہونے کے حوالے سے مریم نے دلچسپ واقعہ سنایا کہ ایک بار میں اے ٹی آر طیارہ لیکر بہاولپور جا رہی تھی، اناوسمنٹ سن کرایک آنٹی ڈرگئیں کہ یہ تو لڑکی جہاز اڑا رہی ہے۔ لینڈنگ کے بعد انہوں نے کہا کہ مجحھے پائلٹ سے ملنا ہے۔ مل کر مجھے خوب دعائیں دیں اور میرے ساتھ تصویریں بھی بنوائیں۔