معروف پاکستانی خاتون شیف صرف ایک سال کی مہمان

November 7, 2018

کینسر کی شکار نامور پاکستانی شیف فاطمہ علی صرف ایک سال کی مہمان ہیں، ان کی خواہش ہے کہ زندگی کے آخری سال میں دنیا گھُومیں اور دنیا کے بہترین ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں۔

معروف کامیڈین اور میزبان ایل ڈی جینرس کو انٹرویو دیتے ہوئے 29 سالہ فاطمہ نے بتایا کہ جس دن انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایونگ سارکومہ نامی بیماری میں مبتلا ہیں تو انہیں شدید جھٹکا لگا لیکن انہیں اس بات پر بھروسہ تھا کہ اگر ان کے اردگرد موجود لوگ ان کی مدد کریں تو وہ اس بیماری سے لڑ سکتی ہیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔

بیماری سے لڑنے کے بعد فاطمہ نے ایک بار پھر اپنے شیف بننے کے خواب کو پورا کرنے کے سفر کا آغاز کیا لیکن افسوس کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنا خواب پورا کرنے میں ناکام رہیں اور رواں سال جولائی میں انہیں پھر سے درد محسوس ہوا جس پر انہوں نے معائنہ کروایا تو انہیں ایک مرتبہ پھر دھچکا لگا کہ وہی بیماری لوٹ آئی ہے۔

ایلن ڈی جینرس نے فاطمہ علی کو نا صرف اپنے پروگرام میں دعوت دی بلکہ انہیں 50 ہزار ڈالر کا تحفہ بھی دیا تاکہ وہ زندگی کے آخری سال میں دنیا گھُومنے اور دنیا کے بہترین ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کی اپنی آخری خواہش کو پورا کرسکیں ۔

پاکستانی شیف فاطمہ علی امریکی شہر نیویارک کے اعلیٰ ریسٹورانٹ میں کام کرچکی ہیں، کھانا پکانے کا شوق انھیں پاکستان سے امریکا لے آیا جہاں انھیں اپنی مہارت آزمانے کا بھر پور موقع ملا، پچھلے سال فاطمہ نے کھانا پکانے کے ایک مقابلے میں انعام بھی حاصل کیا۔

فاطمہ علی کو گزشتہ سال امریکی ٹی وی سیریز ’’ٹاپ شیف‘‘ میں جلوہ گر ہونے کے بعد شہرت ملی تھی۔