Sunday, September 20, 2020  | 1 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

ماحولیاتی تبدیلیوں پر لکھا گیا ’دوام‘پہلا اردو ناول

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2018 | Last Updated: 2 years ago

اردو ادب کے زیادہ ترناول عشق و محبت کی داستانوں کے گرد گھومتے ہیں ، لیکن کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی مصنف صادقہ خان کا اردو ناول ’دوام‘ کچھ منفرد ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی صادقہ خان ایک سائنس رائٹر ہیں اور ان کے پہلا ناول ’دوام‘شائع ہوچکا ہے، اس ناول کی مرکزی بنت ماحولیاتی تبدیلیوں کے اردگرد کی گئی ہے جو اسے ایک منفرد ’ناول‘ کادرجہ ادا کرتی ہے۔ اردو ادب میں عشق و محبت کی داستانوں سے ہٹ کر موضوعات کو کم ہی برتا جاتا ہے جس کی وجہ سائنسی موضوعات پر لکھے ناولوں میں قارئین کی دلچسپی کی کمی قرار دیا جاتا ہے۔

صادقہ خان کا ناول ’دوام‘ ایسے تمام رویوں کی نفی کرتا نظر آتا ہے ، اس ناول میں صادقہ خان آپ کی ملاقات ’منتہا‘ نام کی ایک ایسی لڑکی سے کرا رہی ہیں جس کے پاس روایتی عشق و محبت جیسے موضوع کے لیے بالکل بھی وقت نہیں ہے بلکہ وہ زندگی میں کچھ اہم مقاصد لے کر آگے بڑھ رہی ہے اور اس کا ہر قدم کامیابی کی جانب اٹھتا ہے، مصنف آپ کو یہ بھی دکھائیں گی کس طرح پاکستان کی ایک لڑکی خلاؤں تک اپنے لیے راستے بناتی ہے۔

ناول میں ایک موڑ ایسا آتا ہے جب آپ کو لگے گا سب کچھ ختم ہوگیا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے، وہ موڑ تو شروعات ہے نئی انتہاؤں کی جہاں منتہا جانا چاہتی ہے، جہاں صادقہ خان جانا چاہتی ہے اور یہ بھی چاہتی ہےکہ پاکستان کی ہر لڑکی ان رفعتوں تک پہنچے۔

یہ ناول ایک جانب آپ کو پاکستانی معاشرے میں پروان چڑھنے والی تعلیم یافتہ لڑکیوں کا ایک الگ رخ دکھا تا ہے ، وہیں ماحولیاتی تبدیلی جیسے حساس مسئلے کی سائنسی توجیہات کو انتہائی آسان اور رواں زبان میں قاری کے لیے عام فہم بنادیتا ہے، ناول کو پڑھنے والا نہ صرف اس سنگین مسئلے سے آگاہ ہوتا ہے ، بلکہ ناول پڑھنے کے بعد وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک عام آدمی کیا کردار ادا کرسکتا ہے اور حکومتوں کی کیا ذمہ داری ہے۔

تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کو صرف ایک مخصوص نوعیت کے ڈرامے اور ناول پسند ہیں اور وہ ان سے باہر نکلنا نہیں چاہتیں، تاہم اس ناول کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تنقید قطعی طور پر غلط ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہاں خواتین کو عشق ومحبت کی داستانوں سے ہٹ کر کسی تجرباتی ناول کا مرکزی کردار بنانے کی ہمت کبھی کسی مصنف نے کی ہی نہیں ہے۔

ناول کی اشاعت کے بعد کچھ ناقدین نے مستنصر حسین تارڑ’بہاؤ‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر لکھا پہلا ناول وہ ہے ، حالانکہ یہ بات درست نہیں کہ مستنصر حسین تارڑ کے ناول میں دریا کا رخ بدلنا درحقیقت کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک تاریخی واقعے یا استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے جبکہ دوام کی تمام کی تمام بنت ہی ماحولیاتی تبدیلیوں کے گرد گھومتی ہے۔

یہ ناول یقیناً اردو ادب کو ایک نئی سمت عطا کرے گا اور یقیناً اس کے بعد مزید مصنفین کو نئے تجربے کرنے کی ہمت ہوگی کہ ادب کی دنیا میں تجربہ ہی سب کچھ ہے۔ صرف وہی مصنف عوام میں مقبول ہوتا ہے جو روایت سے ہٹ کر تجربے کی راہ اپنائے۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube