پاک افغان تعلقات اور پشاورکی مٹن تکہ کڑاہی

September 12, 2018

بین الاقوامی سیکیورٹی اور علاقائی سیاسی صورتحال میں رونما ہونے تبدیلی نے پشاور کی نمک منڈی میں تکہ کڑاہی بنانے والوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے جن کی مٹن تکہ کڑاہی داؤ پر لگی ہے۔

پشاور کے مٹن کڑاہی بنانے والوں کی ترکیب اب دوسروں کے ہاتھ لگ گئی ہے اور وہ کبھی کبھی اس کو نقل بھی کرتے ہیں۔ نمک منڈی کے ذائقہ کے پیچھے دو راز چھپے ہیں۔  پہلا یہ ہے کہ آپ کو پہاڑوں میں جاکر اچھی نسل کی بیڑ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پشاور نمک منڈی کے مشہور چرسی تکہ کے مالک نثار چرسی کے مطابق بلخی اور مقامی بیڑوں میں گوشت زیادہ اور ذائقہ اچھا ہوتا ہے۔

دوسرا راز یہ ہے کہ یہاں مٹن کو اسی کی چکنائی میں پکایا جاتا ہے۔ باورچی شیر زمان کا کہنا ہے کہ اگر مٹن کو تیل یا بناسپتی میں پکائیں تو کبھی ایسا ذائقہ نہیں ملے گا۔ اگر آپ کبھی نمک منڈی جائیں تو آپ کو کھانے کے دوران کہیں ایئرکنڈیشن کمرہ نہیں ملے گا۔ عام کمروں میں کمرے کے معمول کے درجہ حرارت میں کڑاہی پیش کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ مٹن کی اپنی چربی میں بنائے جانے کے باعث چکنائی جم جاتی ہے۔

نمک منڈی کے کھانوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ آپ کو اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ آپ صحیح جانور کا گوشت کھا رہے ہیں۔ نثار چرسی کہتے ہیں کہ جب چینی گوشت مارکیٹ میں آیا تو کسٹمرز نے اس کو مسترد کردیا۔ ہمارا کام چلتا رہا کیوں کہ ہم صحیح گوشت فراہم کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بازار میں افغانی جانوروں کی طلب ہمیشہ رہتی ہے۔ جانوروں کے بیوپاری عبداللہ کے مطابق جانوروں کی بروقت ترسیل پاک افغان بہتر تعلقات پر منحصر ہیں۔ جب دونوں طرف دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں تو سپلائی پر اثر پڑتا ہے۔ مٹن کی طلب اس قدر زیادہ ہے کہ صرف نمک منڈی میں لوگ ماہانہ 45 من گوشت کھاجاتے ہیں اور تکہ کڑاہی پر تقریبا 5 کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں۔ نمک منڈی کی کڑاہی کا تعلق ملک کی اندرونی صورتحال سے بھی ہے۔ بم دھماکوں اور حملوں نے خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کی طرح پشاور میں بھی سیاحت کو نقصان پہنچایا۔ چرسی تکہ کے مالک نثار چرسی کہتے ہیں کہ ان کے زیادہ تر کسٹمرز کا تعلق پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے ہے لیکن نائن الیون کے بعد ہمارا کاروبار سکڑ گیا۔

چرسی تکہ کے سنیئر باورچی اعظم لالا نائن الیون سے پہلے کا وقت یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس وقت روزانہ 40 دنبے کاٹے جاتے تھے۔ غیر ملکیوں کی بڑی تعداد بھی نمک منڈی آتی تھی لیکن جیسے ہی صوبے میں عسکریت پسندی کی لہر اٹھی تو لوگ خوفزدہ ہوکر باہر نکلنے سے گریز کرنے لگے جس کے باعث کاروبار کم ہوگیا۔  پاک افغان بارڈر پر واقع اضلاع جب فاٹا کا حصہ تھے تو مویشیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔ رواں سال جون میں فاٹا،خیبر پختونخوا میں ضم ہوا تو قواعد وضوابط میں نرمی لائی گئی۔ ان علاقوں میں رہائش پذیر لوگ زیادہ مال مویشی پال کر افغانستان اسمگل کرتے تھے۔ رواں سال نگراں حکومت نے مویشی کی ایک سے دوسرے ضلع میں ترسیل پر پابندی عائد کی تھی جبکہ نو منتخب حکومت نے پابندی اٹھالی ہے جس سے قیمتوں میں اور ترسیل میں کنفیوژن پیدا ہوگئی ہے۔

تاریخ

مٹن تکہ کڑائی ایک ایسا شنواری کھانا ہے جو خصوصی تہواروں کے موقع پر مہمانوں کو پیش کی جاتی ہے، اس ڈش کی لنڈی کوتل اور افغانستان کے قبائلی علاقوں سے شروع ہوئی ہے، برطانوی راج میں یہ ڈش پشاور پہنچی ۔

برطانوی راج کے دوران نمک منڈی میں نمک کا کاروبارہوا کرتا تھا۔ان دنوں نمک چاندی کے بھاؤملا کرتا تھاجوہرکوئی خرید نہیں سکتا تھااورنمک کاشمار قیمتی اشیاء میں ہوتاتھا۔تاہم اب نمک منڈی ریستوران کے مرکز کے طور پر سامنے آئی ہے۔ افغان جنگ کے دوران یہی نمک منڈی  قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کی سب سے بڑی مارکیٹ تھی ۔

   یہاں 60 سال قبل  چرسی تکے کی دکان تھی لیکن واضح کردیں کہ اس تکے میں چرس نہیں تھی،اگرآپ کا تکہ کھانے کا دل نہیں تو آپ یہ  مٹن تکےکا بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔مٹن تین طریقے سے بنائی جاتی ہے،ایک تو باربی کیو، دم پخت اور کڑاہی لیکن نمک اس لیے بہترین مقام ہے کہ یہاں عید الضحیٰ میں بھی شہری قربانی کا گوشت اپنے گھر کیلئے صرف پکوانےآتے ہیں ۔

نوےکی دہائی میں مٹن کڑائی کی قیمت 120 روپےفی کلو تھی لیکن آج کل 1150 روپے فی کلو ہے۔ایک 70سالہ بزرگ کاکہناتھاکہ جب میں جوان تھاتواس نمک میں کھانےکیلئےصرف پانچ روپے کی ضرورت ہوتی تھی۔ پشاور کی نمک منڈی اگست کے مہینے سےانتہائی صاف فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل ہوچکی ہے۔پچاس سالہ دکان دارعبدالرحیم ان لوگوں میں سےایک ہیں جوحکومت کی جانب سے اس بازار پر نظر ثانی کرنے پر خوش ہیں۔بازار کے افتتاح کے موقع پرلوگوں نے رباب کے دھن پر رقص کیا تھا۔اس فوڈ اسٹریٹ میں کھانے کےلئےآنے والے طالبعلم سجاد خان کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ گھومنے اور کھانے کے مقامات میں اضافہ ہوا ہے۔

نمک منڈی صرف کڑھائی کیلئےمشہور نہیں ہے بلکہ یہاں اب مزید دیگر طرز کے کھانے بھی دستیاب ہوتے ہیں جیسےاگرآپ گوشت کی بنی ڈش نہیں کھاسکتےہیں توآپ پکوڑے بھی منگواسکتے ہیں۔اس کےعلاوہ مچھلی،چپس، برگر پوائنٹ بھی یہاں موجود ہیں۔یہاں منگل اور بدھ کو آپ مٹن کڑاہی نہیں خرید سکتے ہیں۔ان دونوں دن آپ مٹن کےبجائےچکن کڑاہی کےمزےلےسکتےہیں۔