گورنر ہاؤس کراچی میں کیا ہے؟ بس گارڈن، فوارہ اور کچھ نہیں

September 11, 2018

پی ٹی آئی کے رہنماء عمران اسماعیل نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھالیا، عہدہ سنبھالتے ہی تحریک انصاف کے مقرر کردہ گورنر نے قوم سے کیا وعدہ پورا کردیا۔

انتخابات 2018ء سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے کہا تھا کہ ہم حکومت میں آتے ہی بڑے بڑے عالیشان گورنر ہاؤسز کو عوام کیلئے کھول دیں گے جس میں ملک کے گورنر ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہیں، تاہم سندھ کے نئے گورنر کی ہدایت پر کراچی میں قائم گورنر ہاؤس سندھ کو عوام کے دورہ کیلئے کھولنے کا اعلان کیا اور ہفتہ 7 ستمبر کو صبح 6 بجے باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس کراچی کو عوام کے دورے کیلئے کھول دیا گیا۔

میڈیا پر چلنے والی خبر سے ہر عام شہری کی طرح ہمیں بھی تجسس ہوا کہ گورنر ہاؤس کا دورہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ آخر صوبے کے گورنر کو کیا کیا آسائشیں میسر ہیں، دل میں یہی امنگ لیے ہم صبح 8 بجے گورنر ہاؤس کراچی پہنچے کیونکہ عوام کے داخلے کیلئے اوقات صبح 6 بجے سے 10 بجے تک مقرر کئے گئے ہیں۔

گورنر ہاؤس کے مرکزی دروازے کو دیکھ کر ہماری امنگ یقین میں تبدیل ہوتی نظر آئی کہ آج اس عالیشان عمارت کے اندورنی مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔

مرکزی دروازے سے متصل سیکیورٹی کے پیش نظر ایک اسکیننگ روم بنایا گیا ہے جس میں جاتے ہی سب سے پہلے آپ کو قومی شناختی کارڈ سیکیورٹی اہلکار کے پاس جمع کراکے اپنی رجسٹریشن کروانی ہوگی، ہم نے رجسٹریشن کروائی میٹل ڈیٹیکٹرز سے ہوتے ہوئے گورنر ہاؤس میں داخل ہوئے، نظر دوڑائی تو دور دور دائیں اور بائیں جانب خوبصورت گارڈن دکھائی دیا، تھوری دور چلے تو ایک وکٹورین طرز کا فوارہ جس سے بہتا پانی ایک دلکش منظر پیش کررہا تھا، فوارے کی بناوٹ اور خوبصورتی قابل دید تھی۔

سیر کیلئے آئے شہری فوارے کے ساتھ کھڑے سلیفی بناتے نظر آئے، فوارے کے عقب میں برطانوی طرز کی بنی گورنر ہاؤس کی پرشکوہ عمارت نظر آئی، یقین سا ہونے لگا کہ موجودہ حکومت نے عوام سے کیا وعدہ واقعی پورا کردیا اور اس عمارت کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے ہیں۔

جیسے ہی عمارت کی جانب قدم بڑھے تو وہاں موجود سیکیورٹی اہکار نے بتایا کہ عوام کی سیر کیلئے صرف یہ گارڈن مختص کیا گیا ہے، آپ عمارت کے اندر نہیں جاسکتے، یہ سن کر تو دل میں بسا ارمانوں کا محل جیسے ڈھے ہی گیا، لیکن بے چینی برقرار رہی اور تھوڑی دور کھڑے ایک اور سیکیورٹی اہکار کے پاس گیا، ان سے عمارت کے اندر جانے کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے بھی بتایا کہ سیکیورٹی خدشات ہیں جس کے باعث شہریوں کو گارڈن تک محدود رکھا گیا ہے۔

مایوسی کے ساتھ گارڈن کی اہمیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تو عمارت کے سنگ بنیاد پر نظر پڑی، اس سنگ مرمر کے کتبے کو سن 1939ء میں نصب کیا گیا تھا، اس کے علاوہ گارڈن میں کچھ ضعیف العمر درخت نظر آئے جن پر ان کی عمر کی تختی لگائی گئی۔

ان مناظر سے محظوظ ہو کر گورنر ہاؤس کی آدھی ادھوری سیر کے بعد واپسی ہوئی لیکن ذہن میں وہی سوال اور تجسس برقرار رہا کہ کیا حکومت وقت نے وعدہ پورا کردیا ؟ یا صرف اپنے وعدے کی تکمیل کو یقینی بناتے ہوئے عوام کو لالی پاپ دے دیا گیا۔