مشتاق احمد یوسفی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے بیاد یوسفی کا انعقاد

Samaa Web Desk
September 9, 2018

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے تحت مشتاق احمد یوسفی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کراچی میں بیاد یوسفی منائی گئی ۔

مصنف، مزاح نگار اور ادبی شخصیت مشتاق احمد یوسفی کی یاد میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں بیاد مشتاق احمد یوسفی کی تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں ممتاز ادبی شخصیت ضیاء محی الدین نے مشتاق احمد یوسفی کے منتخب اقتباسات اپنے مخصوص انداز میں پڑھ کر سامعین سے خوب داد حاصل کی ۔

اس موقع پر آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمداحمد شاہ نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی نے اردو ادب کی جس طرح خدمت کی ہے وہ سب کے سامنے ہے وہ اردو کے نامور ادیب تھے ان کی تحریروں میں جو طنزو مزاح اور شگفتگی نظر آتی ہے وہ پڑھنے والے کو بے اختیار مسکرانے پر مجبور کردیتی ہے ۔

مشتاق احمد یوسفی کی طنز و مزاح سے بھرپور تحریر اور ضیاء محی الدین کے بے ساختہ انداز سے ہال قہقوں سے گونجتا رہا اور سننے والے خوب محظوظ ہوئے۔

تقریب کے اختتام پر آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے ضیاء محی الدین کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور ان سے اظہار تشکر کیا۔

مشتاق احمد یوسفی کی چند خوبصورت تحریریں

۔(1) میرا خیال ہے کہ حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے وقت جو شخص اپنے بلڈ پریشر اور گالی پر قابو رکھ سکے وہ یا تو ولی اللہ ہے یا پھر وہ خود ہی حالات حاضرہ کا ذمہ دار ہے۔

۔(2) اندرون لاہور کی چند گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ اگر ایک طرف سے مرد اور دوسری طرف سے عورت گزر رہی ہو تو درمیان میں صرف نکاح کی گنجائش رہ جاتی ہے۔

۔(3) مجھے اس پر قطعی تعجب نہیں ہوتا کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے لوگ خونی پیچش کا علاج تعویز، گنڈوں سے کرتے ہیں۔ غصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ واقعی اچھے ہوجاتے ہیں۔

۔(4) بناؤ سنگھار ہر عورت کا حق ہے، بشرطیکہ وہ اسے فرض نہ سمجھ لے۔

۔(5) بڑھیا سگریٹ پیتے ہی ہر شخص کو معاف کر دینے کا جی چاہتا ہے، خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔