احمد فراز رومان کی علامت

August 25, 2018

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے، رومانوی شاعر احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے دس برس بیت گئے، تاہم ان کی شاعری آج بھی احساسات کی ترجمانی میں اپنا ثانی رکھتی ہے۔

احمد فراز نے جو لکھا امر ہوگیا۔ اُن کا کلام گانے والے ملکہ ترنم بن گئے اور شہنشاہ غزل بن گئے۔

 

فراز مشاعرے میں کلام پڑھتے تو شرکا داد دیتے نہیں تھکتے تھے۔ دور آمریت میں جیل کی صعوبتیں بھی کاٹیں، 6 سالہ خود ساختہ جلا وطنی بھی برداشت کی۔ وہ مختلف یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی اداروںمیں ماہر تعلیم کے طور پر بھی اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

 

احمد فراز کے فن کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز، ہلال پاکستان اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔ احمد فراز نے ہزاروں نظمیں اور درجنوں مجموعہ کلام بھی تحریر کئے۔ احمد فراز اردو، فارسی، پنجابی سمیت دیگر زبانوں پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔ احمد فراز مختلف سرکاری و اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔

احمد فراز کے تین بیٹے سعدی فراز، شبلی فراز اور سرمد فراز ان کا نام زندہ و جاوید رکھے ہوئے ہیں۔ دلوں پر راج کرنے والے احمد فراز کڈنی فیلیور کے باعث 25اگست 2008ء کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ انہیں ایچ ایٹ قبرستان اسلام آباد میں سپرد خاک کیاگیا۔ مرحوم کی برسی کے موقع پر ان کے پرستار مختلف شہروں میں خصوصی تعزیتی تقریبات کا انعقاد کریں گے جس میں احمد فراز کی خدما ت کو خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔

احمد فراز کے چند بہترین اشعار

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی

چلے آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی

اور  فراز  ؔچاہئیں  کتنی  محبتیں   تجھے

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی

فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی

یہی سنا ہے بس اتنا قصو ر تھا تیرا

کہ تونے قصر کے کچھ تلخ بھید جانے تھے

تری نظر نے وہ خلوت کدوں کے داغ گنے

جو خواجگی نے ز ر و سیم میں چھپانے تھے

تجھے علم نہیں تھا کہ اس خطا کی سزا

ہزاروں طوق و سلاسل تھے تازیا نے تھے

کبھی چنی گئی دیوار میں انار کلی

کبھی شکنتلا پتھراؤ کا شکار ہوئی

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے د یکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فراز ؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں