Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

قصہ خوانی بازار کے قہوہ خانے پھر آباد

SAMAA | - Posted: Aug 21, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 21, 2018 | Last Updated: 3 years ago

پشاور کا قصہ خوانی بازار اپنے منفرد قہوہ خانوں کے باعث ہمیشہ سے مشہور رہا ہے، یہاں قہوہ بنانے والے نواب گل کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں قہوہ بنا کر دیکھ لیں پشاور کے قہوہ کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا، کیوں کہ پشاور میں بننے والے قہوہ کے اجزائے ترکیبی جادوئی حیثیت رکھتے ہیں۔

نواب گل کے مطابق پشاوری قہوے کے ذائقے کا ایک راز یہاں کا پانی ہے اور یہ خدا کی جانب سے پشاور والوں کیلئے کسی خاص تحفے سے کم نہیں ہے۔

کچھ لوگ نواب گل کے اس دعویٰ سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن ان کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں قہوہ فروخت کرتے ہوئے 16 برس ہوچکے ہیں، یہ سچ ہے کہ یہاں کے قہوہ کا ذائقہ واقعی لاجواب ہے۔

بعض فوڈ بلاگرز کا مؤقف ہے کہ پشاوری قہوے کے ذائقے کا راز محض یہاں کا پانی نہیں بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ اس کو کتنی دیر تک اُبالا اور دم پر رکھا جاتا ہے، اس ذائقے کے پیچھے یہ عنصر بھی کار فرما ہے کہ اس میں پسی ہوئی الائچی ڈالی جاتی ہے اور قہوہ کے پتے بھی ابالنے سے پہلے ہلکا سا دھوئے جاتے ہیں۔

تقریباً 10 سال سے جاری پُرتشدد واقعات، بم دھماکوں، خطروں اور دستی بم حملوں کے باعث شہریوں نے عوامی مقامات پر جانا چھوڑ دیا تھا، یہی وجہ تھی کہ قصہ خوانی کے چائے خانے بھی ویران ہوگئے تھے، ایک وقت تھا کہ پشاور کے تاریخی مقامات پر ہر وقت شہریوں کا رش ہوا کرتا تھا۔

لیکن پشاور میں کی واپسی کے بعد بعد دیگر عوامی مقامات کی طرح قصہ خوانی بازار کے قہوہ خانے پھر سے آباد ہورہے ہیں اور شہری بھی بڑی تعداد میں عوامی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔

قصہ خوانی بازار اور قہوہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے، کسی زمانے میں قصہ خوانی بازار برطانوی فوج اور تجارتی قافلوں کا عارضی مسکن ہوا کرتا تھا، سمر قند، بخارا، افغانستان اور بھارت کے تجارتی قافلے یہاں سے گزرتے اور مختصر قیام کرتے تھے، یہ بازار وسطی ایشیاء اور پشاور کا تجارتی حب ہوا کرتا تھا۔ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت کا یہ علاقہ چائے خانوں کے باعث قافلوں کیلئے عارضی آرام گاہ کی حیثیت اختیار کرگیا تھا جہاں قافلے کچھ دیر سستانے کیلئے رک جایا کرتے تھے اور تھکاوٹ اتارنے کے ساتھ قہوہ سے بھی لطف اندوز ہوتے۔

قصہ خوانی بازار میں قہوہ پیش کرنے کیلئے روس میں تیار ہونیوالے خاص قسم کے چینک استعمال کئے جاتے تھے، اٹھارویں صدی کے آغاز میں ممبئی کے پارسی اور فارسی تاجر ان برتنوں کا کاروبار کرتے تھے، یہ تاجر مخصوص برتنوں کو خرید کر دریائے یانگزے کے ذریعے کراچی، یہاں سے پشاور، پھر کابل اور ہرات کے راستے بخارا اور سمر قند تک پہنچاتے تھے۔

البتہ چائے 16 ویں صدی میں چائنا میں دریافت ہوئی اور جلد ہی اسلامی ممالک میں مشروبات کی جگہ لیتے ہوئے بہت زیادہ مقبول ہوگئی، چائے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے کلچر کا ایک اہم جزو بن گئی جہاں اب گفتگو کے دوران قہوہ لازمی تصور کیا جاتا ہے۔

پشاور کے قصہ خوانی بازار میں قہوہ کے بڑھتے ہوئے کاروبار نے فاٹا جیسے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مکینوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا۔ 36 سالہ رحیم بچپن سے اپنے والد کے قہوہ خانے پر کام کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 40 سال پہلے ان کے والد اپنا آبائی علاقہ مہمند ایجنسی چھوڑ کر پشاور آئے اور اپنا قہوہ خانہ کھول لیا۔

بدقسمتی سے آج سے 10 سال قبل جب خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی تو قہوہ خانون کا کاروبار بھی تباہ ہوگیا، قصہ خوانی بازار میں بھی اس دوران ایک بم دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد ان شہریوں نے خوف کے باعث قہوہ خانوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا جو اکثر شام کو ایک گول میز کے اطراف بیٹھ کر گفت و شنید کے ساتھ ساتھ قہوہ سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔

اس بم دھماکے کی تکلیف دہ یادیں شہریوں کے ذہن میں آج بھی تازہ ہیں لیکن امن کی واپسی اور تحفظ کے احساس کی بدولت خوف کے بادل چھٹ گئے ہیں، لوگ گھروں سے نکل کر عوامی مقامات کا رخ کررہے ہیں اور قہوہ خانوں کی رونقیں بڑھ گئی ہیں۔

ایک قہوہ خانہ کے مالک شاہ زیب مہمند نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سال قبل امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث کاروبار تباہ ہوگیا تھا تاہم اب پھر سے لوگوں کی بڑی تعداد قہوہ خانوں کا رخ کر رہی ہے۔

دوسری جانب قہوہ خانوں کی رونق بڑھنے کے ساتھ چائے خانوں کے مالکان کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں، کیوں کہ وہ بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ چائے اور قہوہ ایک دوسرے کے حریف ہی ہیں۔

ذائقے تبدیل ہورہے ہیں، اسی وجہ سے قصہ خوانی بازار میں کھانے پینے کی معروف چین ’گلوریا جینز‘ بھی ابھر کر سامنے آئی ہے۔

مقامی شہری صمد نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قصہ خوانی کے قہوہ خانے پشاور کی تاریخی نشانیاں تھیں تاہم اب وہ بھی آئس کریم اور جوس سینٹرز میں تبدیل ہورہے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک شیک کا ایک گلاس 50 روپے جبکہ قہوہ کی کیتلی 20 روپے میں فروخت ہورہی ہے جس کا مطلب ہے کہ جوس اور آئس کریم سینٹر کھولنے میں زیادہ منافع ہے۔

دوسری جانب قہوہ کے ایک کلو پتے افغانستان میں بڑی مشکل سے 800 روپے میں ملتے ہیں جبکہ پشاور میں اس سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔

چونکہ قہوہ ایک روایت ہے اس لئے گلوریا جینز کی جانب سے ابھی تک کھانے کے بعد قہوہ مفت میں پیش کیا جاتا ہے، کیوںکہ روایات توڑنے کی باتیں کرنا تو آسان ہے لیکن انہیں توڑنا اتنا بھی آسان نہیں

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube