چترال میں شدت پسندی کے خاتمے کے بعد سیاحت کی واپسی

Fawad Ali
August 16, 2018

چترال میں 2012ء کے دوران شدت پسندی پھیلی تو وہاں روزگار کی بنیاد سیاحت کو بڑا دھچکا لگا، لوگ یہاں عام طور پر کیلاشی ثقافت دیکھنے آتے تھے، ضلع بھر میں 500 وادیاں اور دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے 200 اس علاقے میں موجود ہیں۔

شدت پسندی کی وجہ سے یہاں کی معیشت تباہ ہوگئی اور لوگوں کو اپنے سرسبز علاقے کو چھوڑ کر پاکستان اور بیرون ملک جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اپنے خاندان کو جرمنی منتقل کرنے والے حریر شاہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سیاحتی رہبر دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے۔ تین سال بعد 2015ء میں مالاکنڈ ویلی میں امن بحال ہوا تو حقیقت میں سیاحت بھی لوٹ آئی، شاہ کی طرح پرانے سیاحتی رہبر پھر سے اپنی پرانی ڈگر پر آگئے۔

ایک اچھا سیاحتی رہنماء آپ کو کسی علاقے کی خوبصورتی سے روشناس کراتا ہے جب آپ وہاں ہوتے ہیں لیکن ایک بہترین رہبر آپ کو بغیر دورے کے اس پر اکساتا ہے۔  شاہ اسی طرح جرمنی میں بننے والے اپنے دوستوں کو چترال کے دورے کیلئے قائل کرتا ہے۔

آج اگر آپ وہاں کا دورہ کریں تو برف سے ڈھکے ٹرچ میر جانے کیلئے سیاحتی رہبر پاسکتے ہیں۔ آپ کو 10 کلو میٹر سے زائد طویل لواری ٹنل دیکھنے کا موقع ملے گا۔

بمبوراٹ ویلی کے رہنے والے یاسر کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوگیا، ضرورت پوری کرنے کیلئے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز تعمیر کئے جاچکے ہیں۔

اس نے وضاحت کی کہ مجھے غیر ملکی سیاحوں کے مزاج کے مطابق اپنے گیسٹ ہاؤس کی نئے سرے سے تزین و آرائش کرنی پڑی، ساتھ ہی نیا عملہ بھرتی کرنا پڑا جو زیادہ تر مقامی ہے۔

جاپانی جوڑا یوکا اور مامورو کہتا ہے کہ بمبوراٹ ویلی دنیا میں جنت کا نمونہ ہے۔ جنوبی کوریا کے 45 سالہ من وو کیلاش کی ثقافت، طرز زندگی اور تاریخ پر تحقیق کیلئے آئے ہیں۔

اسلام آباد سے اپنے خاندان کے ساتھ آنے والے وکیل محمد فاروق اعوان چترال کی خوبصورت دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ضلع قدرتی حسن کی حقیقی جھلک ہے، میں نے اسے انتہائی حیران کردینے والا، شاندار اور  مسحور کن پایا۔ پوری دنیا کیلئے میرا پیغام ہے کہ پہاڑوں میں پوشیدہ خطے اور قدیم ثقافت کو ضرور دیکھنے آئیں۔