یہاں تصویر لگانا سخت منع ہے

August 8, 2018
 

کاروباری و صنعتی اداروں کے اپنے ٹریڈ مارک ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے مصنوعات یا کاروبار کی تشہیر کرتے ہیں۔ اس ٹریڈ مارک کی مشہوری پر اس قدر پیسہ اور توانائی خرچ کی جاتی ہے کہ پھر کوئی بھی فرد کہیں بھی وہ ٹریڈ مارک دیکھے تو اس کے ذہن میں فوری وہ ادارہ یا اس کے مصنوعات کلک کر جاتے ہیں۔

یہ مارکیٹنگ کی دنیا کی اصطلاح ہے جسے دیگر شعبوں میں بھی تشبیہ دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم اس کو سیاسی میدان میں لے آئیں تو بعض کام یا اشیا ایسے ہیں جن کا نام سنتے ہی ہمارے دماغ میں کسی سیاسی جماعت کا نام ابھر آتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہڑتالوں اور ٹیلی فونک خطاب کا ذکر آجائے تو فوری طور پر سب کی توجہ خود بخود متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کی طرف چلی جائے گی۔ اسی طرح تبدیلی اور دھرنوں کی بات جب بھی چلے گی لامحالہ تحریک انصاف اور عمران خان دماغ کے دروازے پر دستک دیں گے۔

تبدیلی اور دھرنوں کے علاوہ بھی ایک اور چیز ہے جو چند سال قبل تک پاکستان میں تقریبا غیر معروف تھی لیکن خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت آنے کے ساتھ ہی اس قدر معروف ہوگئی کہ ملک کا بچہ بچہ اس ’چیز‘ کے نام سے واقف ہوچکا ۔ یہ ’چیز‘ اگر کسی نے آج تک استعمال یا دیکھی تک نہیں پھر بھی وہ اس کا نام سنتے ہی قہقہہ ضرور لگائے گا۔ یہ ’چیز‘ آخر ہے کیا۔

چلیں اگر آپ کو زیادہ تجسس ہورہا ہے تو ہم آپ کو بتا ہی دیتے ہیں کہ وہ ’چیز‘ فوٹو ایڈیٹنگ اور گرافک ڈیزائننگ سافٹ ویئر ’ایڈوب فوٹوشاپ‘ ہے۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ نے ایڈوب فوٹو شاپ کا جس قدر ’مثبت‘ اور بے دریغ استعمال کیا ہے اتنا تو سافٹ ویئر بنانے والوں نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں فوٹو شاپ اس وقت سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن گیا ہے۔

 

تازہ ترین دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سپورٹرز نے عمران خان کو ’عظیم اور بین الاقوامی لیڈر‘ ثابت کرنے کے لیے فوٹو شاپ کی مدد سے کپتان کی تصویر  سعودی شہر ریاض میں واقع ’کنگڈم ٹاور‘ پر چسپاں کردی اوراس کو کیپشن یہ دیا کہ سعودی حکومت نے عمران خان کے اعزاز میں کنگڈم ٹاور پر ان کی تصویر لگوادی ہے۔

اس کے بعد وہی ہوا جو سوشل میڈیا کے ’اندھے سپورٹرز‘ کا معمول ہے۔ لوگوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اپنے لیڈر کو عظیم ثابت کرنے کے لیے دھڑا دھڑ اس جعلی تصویر کو شیئر کرنا شروع کردیا۔

تحریک انصاف کے ایک کارکن نے تو اس تصویر کو بہت زیادہ ہی سنجیدہ لیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے’رشوت‘ کے طور پر عمران خان کی تصویر کنگڈم ٹاور پر لگادی ہے تاکہ وہ وزیراعظم بننے کے بعد شام کی جنگ میں سعودی عرب کی مدد کرے۔

شام کی جنگ میں پاکستان کی مدد تو کچھ سمجھ نہیں آرہی شاید خان کا سپورٹر یمن کی بات کر رہا ہو۔ کیوں کہ یمن جنگ میں مدد کے لیے سعودی عرب نے پاکستان سے درخواست کی تھی۔

 

انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کراچی کے نائب صدر فہد حسین ملک نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ فوٹو شاپ نہیں ہے۔ سعودی حکومت نے سچ مچ عمران خان کا پوسٹر کنگڈم ٹاور پر آویزاں کردیا ہے‘‘۔

مریم نامی تحریک انصاف کی سپورٹر نے ‘خارجہ پالیسی‘ کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’’سعودی حکومت نے عمران خان کی تصویر کنگڈم ٹاور پر چسپاں کرکے ان کو عزت بخشی ہے۔ ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، یہاں تک کے نواز شریف کے لیے بھی نہیں جس کے سعودی شاہی خاندان سے انتہائی قریبی مراسم تھے۔‘‘

 

سب سے مزے کی بات یہ ہے ایک نئے بننے والے چینل نے سوشل میڈیا کی اس ’ شرارت‘ کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلا دیا اور پھر تو تحریک انصاف کے کارکنان کو گویا ایک ثبوت بھی ہاتھ آگیا کہ ایسا سچ میں ہوا ہے۔

 

جب سوشل میڈیا اس تصویر سے بھر گیا تو ٹرولرز کو بھی نادر موقع ہاتھ لگ گیا۔ ویسے بھی ٹرولرز کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن اس بارتو حد ہی کردی۔

جماعت اسلامی کے کارکنان نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سراج الحق کی تصاویر کنگڈم ٹاور پر چسپاں کردی اور تحریک انصاف کے کارکنان کو چڑانے لگے۔

کنگڈم ٹاور پر ’مفت مشہوری‘ کا موقع کیا ملا، سب نے بہتی گنگا میں اشنان  شروع کردیا۔ بعض صارفین نے اپنی تصویریں لگانا شروع کردیں اور کچھ ٹرولز نے سوشل میڈیا کی سدا بہار سیلیبریٹی ’آنٹی گورمنٹ‘ کو بھی کنگڈم ٹاور کی سیر کرادی۔

 

پاکستانیوں کا رش دیکھ کر آخر کار کنگڈم ٹاور نے بھی ہاتھ کھڑے کردیے کہ خدارا ’مینوں بخش دو‘ لیکن اس ’مظلوم کی چیخیں‘ تاحال نقار خانے میں طوطے کی آواز ہی ثابت ہورہی ہیں۔

 

کنگڈم ٹاور کی اس قدر ’بے حرمتی‘ دیکھ کر شاہ سلمان سے بھی رہا نہ گیا اور سخت حکم جاری کردیا کہ ’’مزید کسی نے بھی یہاں تصویر چپکانے کی کوشش کی تو شرطے کے حوالے کیا جائے گا۔‘‘