Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

خٹک جس نے ثقافتی اتن اور کلاسیکل کتھک کو ملا کر نئی روایت قائم کی

SAMAA | - Posted: Jul 16, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 16, 2018 | Last Updated: 4 years ago


خیبر پختونخوا میں جب سے دہشتگردانہ کاروائیوں میں کمی آئی ہے، ثقافتی سرگرمیاں لوٹنا شروع ہوگئی ہیں، دس سال پہلے اگر اسفندیار خان خٹک سے رقص کے حوالے سوال کیا جاتا تو وہ غالباً مسکرا پڑتے۔

انیس سو اسی میں انکے والدین اسلام آباد میں رہائش پذیر ہوگئے، جہاں انہوں نے بیکن ہاؤس سے تعلیم حاصل کی، اے لیول کے بعد انہوں نے کامسیٹس سے بی بی اے اور ایم بی اے کیا۔

بعد ازاں، سال دوہزار سات میں انہوں نے بھارتی کلاسیکل رقص میں تربیت حاصل کرنا شروع کی جو کہ معاشرے میں عموماً پسند نہیں کیا جاتا، اسلام آباد کے مضمون شوق میں مسز اندو میتھا ان کی گرو تھیں، مسز میتھا پچاس سالوں سے بھارتناتیم سکھارہی ہیں۔

اسفند کا کہنا ہے مجھے خوف تھا کہ انتہاء پسند اقتدار میں آئیں گے اور ملک بھر میں رقص پر پابندی لگا دیں گے، آرٹ کیلیے اظہار رائے کی آزادی بہت ضروری ہے، جبکہ سوال کرنے کو گناہ سمجھا جاتا ہے اور اگر آپ ڈانس کرتے ہیں تو قتل کیے جاسکتے ہیں۔

خٹک کے نزدیک، رقص نہ صرف معاشرتی ٹیبو کو توڑتا ہے بلکہ بنیادپرستی کی بھی بیخ کنی کرتا ہے، اسفند کے مطابق، شدت پسندی کے طویل دورانیے کے بعد، پختون معاشرے میں لوگ اب سوچنا شروع ہوگئے تھے کہ صرف طاقت کے استعمال سے تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

اسفند کے مطابق وہ بچپن سے ہی رقص کررہا ہے، اب اس نے پشاور کے لڑکے اور لڑکیوں کو رقص کی تربیت دینا شروع کردی ہے۔

اسفند کا کہنا ہے کہ وہ کلاسیکل رقص کے ساتھ روایتی پختون ڈانس کو پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ خطے کے ان علاقوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے جو آرٹ کے پیار کے ساتھ ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔

روایتی پختون رقص کو اتن کہتے ہیں،خٹک اتن میں بھارتی کلاسیکل رقص کو ملا کر ناچتا ہے۔

ڈاکٹر ابسین یوسفزئی، چیئرمین پشتو ڈیپارٹمنٹ، اسلامیہ کالج پشاور، کہتے ہیں کہ اتن ڈانس نہ صرف جسمانی چستی پیدا کرتا ہے بلکہ روحانی سکون بھی بخشتا ہے کیونکہ یہ ذہنی تناؤ کو دور کرتا ہے۔

ڈاکٹر یوسفزئی کہتے ہیں کہ اب وقت ہے کہ فن و ثقافت کو فروغ دیا جائے کیونکہ پختون قوم بہت تکلیف دہ دور سے گذری ہے، ڈاکٹر یوسفزئی نشتر ہال کی مثال بھی پیش کرتے ہیں جہاں اسطرح کی سرگرمیاں کی جاتی ہیں، ان کے مطابق، ہماری نسل نے پختون اخلاقی ثقافتی اقدار میں گراوٹ دیکھ لی ہے۔ اب اس کو ٹھیک کرنے کا وقت ہے، بنیاد پرستی کے اس عفریت کی وجہ سے پشتو موسیقی، فن اور شوبز کے لیے صورتحال کافی خراب ہے۔ آرٹ لوگوں کے لیے محبت کا پیغام ہے اور معاشرے میں خالی پن کو دور کرسکتا ہے۔

اس حوالے سے کام کافی سست روی سے چل رہا ہے لیکن خٹک نے اسلام آباد کے لوک ورثہ اور پاکستان ںیشنل کاؤنسل آف آرٹس میں پرفارم کیا ہے،وہ اپنی کسی پرفارمنس سے وہ کچھ نہیں کماتا ہے وہ بچوں کو مفت میں ڈانس سکھاتا ہے، کوہاٹ میں موجود آبائی زمینوں سے وہ اپنی گزراوقات کرتا ہے۔

ڈانس کو قابل قبول بنانے کی یہ ایک مستقل جدوجہد ہے کچھ کامیابیاں بھی ضرور ہوئی ہیں، مثال کے طور پر، حال ہی میں اس نے سوات میں رقص کے فروغ کے لیے کام کیا یہ وہ کام ہے جو چند سال پہلے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube