مشتاق احمد یوسفی کی طنز و مزاح سے بھرپور چند تحریریں

Samaa Web Desk
June 20, 2018

معروف ادیب اور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی 94 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے، ان کی تحریریں ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول تھیں، ضیاء محی الدین نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ہم دور یوسفی میں زندہ ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی کی چند خوبصورت تحریریں ملاحظہ کریں۔

۔(1) میرا خیال ہے کہ حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے وقت جو شخص اپنے بلڈ پریشر اور گالی پر قابو رکھ سکے وہ یا تو ولی اللہ ہے یا پھر وہ خود ہی حالات حاضرہ کا ذمہ دار ہے۔

۔(2) اندرون لاہور کی چند گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ اگر ایک طرف سے مرد اور دوسری طرف سے عورت گزر رہی ہو تو درمیان میں صرف نکاح کی گنجائش رہ جاتی ہے۔

۔(3) جو اپنے ماضی کو یاد نہیں رکھنا چاہتا وہ یقیناً لوفر رہا ہوگا۔

۔(4) سمجھدار آدمی نظر ہمیشہ نیچی اور نیت خراب رکھتا ہے۔

۔(5) مجھے اس پر قطعی تعجب نہیں ہوتا کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے لوگ خونی پیچش کا علاج تعویز، گنڈوں سے کرتے ہیں۔ غصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ واقعی اچھے ہوجاتے ہیں۔

۔(6) بناؤ سنگھار ہر عورت کا حق ہے، بشرطیکہ وہ اسے فرض نہ سمجھ لے۔

۔(7) بڑھیا سگریٹ پیتے ہی ہر شخص کو معاف کر دینے کا جی چاہتا ہے، خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔

۔(8) ایک فرنچ ادیبہ کیا خوب کہہ گئی ہیں کہ میں آدمیوں کو جتنے قریب سے دیکھتی ہوں اتنے ہی کتے اچھے لگتے ہیں۔

۔(9) موسم، معشوق اور حکومت کا گلہ ہمیشہ سے ہمارا قومی، تفریحی مشغلہ رہا ہے۔

۔(10) مرد پہلے بحث کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں، عورتیں پہلے لڑتی ہیں، پھر بحث کرتی ہیں مجھے ثانی الذکر طریقہ زیادہ مقبول نظر آتا ہے، اس لئے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔