ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

معاشرے کی تلخیوں کو الفاظ میں پرونے والے”منٹو” کی سالگرہ

2 years ago

برصغیر کے نامور اور منفرد افسانہ نگار اور مصنف سعادت حسن منٹو کی ایک سو چھ ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔ سعادت حسن منٹو نے 11 مئی 1912 میں تعلیم یافتہ کشمیری گھرانے میں آنکھ کھولی۔

اپنی تحریروں سے معاشرے کا بدبور دار چہرہ دکھانے والے منٹو نے اپنی تحریروں میں عورت کی بے بسی اور مرد کی بے حسی کو آئینہ دکھایا، جسے سامنے لانے پر منٹو پر فحش نگاری جیسے الزامات بھی لگائے گئے اور اس وقت کی اکثریت نے انہیں فحش نگار کا لقب دیا، تاہم تمام تنقیدوں اور مقدموں کے باوجود منٹو نے آخری وقت تک اپنے قلم اور لکھائی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ ابتدائی عمر میں کہانیاں پڑھنے کے شوق نے انہیں میٹرک میں دو بار فیل کرادیا، مگر اس کہانی کاری نے اپنی تحریوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔

 

منٹو نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں حاصل کی پھر کچھ عرصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزارا، مگر تعلیم مکمل نہ کرسکے اور واپس امرتسر آگئے۔ عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور کئی روسی ناولز کے ترجمے بھی کیے۔ ان کی پہلی کہانی تماشہ تھی جو جلیانوالہ باغ کے واقعے سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔

 

قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور اپنی عمر کا آخری حصہ اسی شہر میں بسر کیا۔ منٹو کے بارے میں ناقدین کہتے ہیں ان کی تحریرتحلیل نفسی اور فطرت انسانی کی عکاس تھی۔ منٹو نے اپنے افسانوں، مضامین اور خاکوں میں ہر چیز کو گھڑی ساز کی طرح اپنی جگہ پر جمایا۔

منٹو نے اردو افسانہ نگاری میں منفرد موضوعات کی بدولت نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی، بلکہ ہمیشہ کے لیے ایک انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی 42 سالہ زندگی میں تین سو سے زائد افسانے، مضامین اور خاکے تحریر کیے، منٹو کی مشہور تخلیقات میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، ٹھنڈا گوشت، نیا قانون، نمرود کی خدائی، سڑک کے کنارے اور دھواں نمایاں ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں