دلوں میں زندہ نازیہ حسن کی17ویں برسی

August 13, 2017

nazia

کراچی:پاکستان کی مایہ نازسنگرنازیہ حسن کو بچھڑے سترہ برس بیت گئے لیکن لازوال گیتوں کی بدولت نازیہ کی یادیں آج بھی تازہ ہیں،نازیہ کے مداح انہیں بھولتے نہیں۔

تین اپریل انیس سو پینسٹھ کو کراچی میں آنکھ کھولنے والی نازیہ حسن  خوبصورتی،ٹیلنٹ اورشہرت میں اپنی مثال آپ تھیں ۔ بےمثال ٹینلٹ کی مالک نازیہ حسن کم عمری میں ہی چھا گئیں۔

nazia4

نازیہ حسن نے فنی کیریئرکا آغاز15 برس کی عمرمیں پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام ’’سنگ سنگ چلیں ‘‘میں گلوکاری سے کیا۔ لندن سے موسیقی کی تربیت حاصل کرنے والی نازیہ حسن نے کم عمری میں ہی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کردیا تھا لیکن عالمی شہرت بھارتی فلم ’’قربانی ‘‘ کے گانے ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ‘‘ سے ملی۔ اس گانے نےنازیہ حسن کو راتوں رات سپراسٹاربنایا اور اس پر انہیں فلم فیئرایوارڈ بھی ملا۔ نازیہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شخصیت تھیں۔

nazia3

نازیہ اوران کے بھائی زوہیب حسن نے پاکستان میں پاپ گلوکاری کی بنیاد رکھی اور اپنے پہلے ہی البم ’’ڈسکودیوانے ‘‘ سے کامیابی کے جھنڈے گاڑدیے۔ پہلے البم کے بعد نازیہ كے 4 مزید البم آئے جن میں’’بوم بوم ‘‘، ’’ینگ ترنگ‘‘، ’’ہاٹ لائن‘‘ اور ’’کیمرہ کیمرہ ‘‘شامل ہیں۔  تمام المبزنازیہ کو بام عروج پر پہنچاتے گئے۔ نازیہ کے گانے   امریکا، برطانیہ اور روس کے میوزک چارٹس میں بھی سرفہرست رہے۔

nazia1

قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی یہ دلکش گلوکارہ اقوام متحدہ کی ثقافتی سفیر بھی رہی مگردوسروں میں خوشیاں بانٹنے والی نازیہ حسن کی اپنی زندگی تلخیوں کا شکاررہی۔1997 میں نازیہ کی شادی صنعتکارمرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی جو ناکام رہی اوراگست سال دوہزارمیں دونوں نے اپنے راستے الگ کرلیے۔  ناکام شادی اور پھیپھڑوں کے کینسر نےنازیہ کو روگ لگا دیا اور وہ محض چھتیس سال کی عمرمیں طلاق کے چند دن بعد تیرہ اگست دو ہزار کو لندن کے اسپتال میں زندگی کی بازی ہارگئیں لیکن آج بھی پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

نازیہ کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے انہیں بعد ازمرگ اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘سے نوازا۔ سماء

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.