Saturday, September 26, 2020  | 7 Safar, 1442
ہوم   > اینٹرٹینمنٹ

مہوش حیات نےفلم ایکٹران لاء کی کامیابی کارازبتادیا

SAMAA | - Posted: Sep 19, 2016 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 19, 2016 | Last Updated: 4 years ago

mehwish3

تحریر: عمیر علوی

ایکٹران لاء نہ صرف لالی ووڈ کے لیے ایک بہترین فلم ہے بلکہ اس نے خوبرو اداکارہ مہوش حیات کے کیریئر کو نیارخ دیاہے۔ فلم جوانی پھرنہیں آنی میں مہوش حیات نے جم کرکام کیا۔وہ فلم بھی ایکٹران لاء کی طرح کامیاب فلم تھی اور یوں مہوش حیات نے دو برسوں میں دو ہٹ فلمیں کرکے اپنے آپ کو منوالیاہے۔ اہم بات یہ کہ ایکٹران لاء میں مہوش پر کوئی گانے عکس بند نہیں ہوا۔ مہوش حیات نے اپنے انٹرویو میں ایکٹران لاء سے متعلق دلچسپ باتوں کو شئیرکیا۔

سوال:پاکستانی فلموں میں عام طورپریہ نہیں دیکھا گیاکہ کوئی اداکارہ ایسا کردارادا کرے جس میں وہ کسی کو تھپٹررسیدکرے،سینڈل مارے یا پراعتمادانداز میں خود کوپیش کرے۔ آپ نے یہ سب کیسے ایکٹران لاء میں کردکھایا؟

مہوش: افسوس کی بات ہےکہ پاکستان میں عورت کو گلیمر کے روپ میں پیش کیاجاتاہے۔پاکستان کی زیادہ تر فلمیں ہیروکےگرد گھومتی ہیں۔ کسی ہیروئین کا فلم کی مقبولیت میں زیادہ کردار نہیں ہوتا۔اس لیے دو فلمیں کرنےکےبعد میں کسی ایسی فلم کی تلاش میں تھی جہاں مجھے چیلنجنگ کرداراداکرناپڑے۔ایکٹران لاء میں مجھے اپنے فن کاکھل کراظہارکرنےکاموقع ملا۔اس فلم میں میرا ایک ایسی لڑکی کاکردار ہےجوپسماندہ طبقے سےتعلق رکھتی ہےاورمیڈیاہاؤس میں نوکری کرتی ہے۔اس لڑکی کو صحیح اور غلط میں تفریق ہے۔اس کردار میں گلیمرکاکوئی شائبہ نہیں جو مجھے پسند آیا کیوں کہ میں خود بھی مضبوط اعصاب والی لڑکی ہوں۔لوگ میرے کردارکوسراہارہےہیں کیوں کہ اس سے نوجوان لڑکیوں کوتقویت ملےگی اورمجھےبھی اس بات سےمجھےحوصلہ ملاہے۔

سوال: اس فلم میں اپنے آپ کو منفرد کردارمیں ڈھالنا اور مختلف انداز میں گفتگو کرنا کیسا لگا؟

مہوش: مجھے چیلنجز پسند ہیں اور اس لیے اپنے کام میں اضافی محنت کرنے سے سکون ملتاہے۔ جہاں تک کردار کے حوالے سے لہجہ بدلنے کا تعلق ہے،میں نے پہلے ہی اپنا ہوم ورک مکمل کرلیاتھا۔میں نے اچھی طرح ریہرسل کی ہوئی تھی اور یہ کام اسکرین پرنمایاں ہورہاہے۔ فلم میں نہ صرف ہیروئین نظر آئی بلکہ وہ کردار بھی دکھائی دیا جو مجھے ادا کرنےکوکہاگیاتھا۔

mehwish

سوال:کیاآپ کوفہدمصطفی یااوم پوری صاحب کےساتھ کام کرنےمیں کوئی دشواری ہوئی؟

مہوش: ایسا بالکل نہیں ہوا۔ بلکہ میراکردار جتنااہم تھا،اتناہی اہم کردارفہداوراوم پوری صاحب نےاداکیا۔فلم کےتمام کرداراتنےہم آہنگ ہیں کہ کسی موڑپرایسانہیں معلوم ہواکہ اتنے بڑےکرداروں کےساتھ کام کررہی ہوں۔

سوال: ایکٹران لاء میں آپ پرکوئی گانا عکس بند نہیں ہوا،آپ کو اس بات سے کوئی پریشانی تونہیں ہوئی؟

مہوش: نہیں،ایسی کوئی بات نہیں ہے۔مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں ۔مجھے کہیں نہیں محسوس ہوا کہ میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔اس فلم میں موجود تمام گانے موقع کی مناسبت سے ہیں۔ کیوں کہ کسی گانے کی نسوانی آواز میں گوائے جانےکی ضرورت نہیں تھی،اس لیے ایسا کوئی گانے فلم میں شامل نہیں کیا گیا۔ فلم کے پروڈیوسزاور ڈائریکٹرنے مجھے پہلے ہی اس صورتحال سے آگاہ کردیاتھاکہ مجھ پرکوئی گاناعکس بندنہیں ہوگا اور مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی ۔ان کاخیال تھاکہ گانے کے بغیر بھی  میں منجھا ہوا کردارادا کرسکتی ہوں اور شکر ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ ویسے ،دل ڈانسر ہوگیا گانا،میرے ہی متعلق ہے اس لیے میں وہ آخری شخص ہوسکتی ہوں جو گانا نہ ہونے کی شکایت کروں۔ ویسے میرے پسندیدہ گلوکار عاطف اسلم نے وہ گانےمیرے لیے ہی گایاہے۔

mehwish1

سوال:ایکٹران لاء فلم کے دوران کون سے ایسا دلچسپ واقعہ پیش آیا جو یادگار بن گیا؟

مہوش: جب ہم ایک سیکوئینس کے لیے ہائی کورٹ پہنچے تو دوسرے دیگر پاکستانیوں کی طرح میں پہلے کورٹ نہیں آئی تھی۔ تقریبا ایک ہزار جونیئراداکار وہاں چھوٹے کردار اداکررہے تھے۔ پولیس کی گاڑیوں نے وہاں محاصرہ کررکھا تھا۔ وہ سب دیکھ کر میں بہت زیادہ متاثر ہوئی کیوں کہ پاکستانی فلموں میں ایسی بہترین پروڈکشن پہلے کبھی تصور بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔وہ لمحہ ایسا تھا کہ میں نے خود کو بہت خوش قسمت تصورکیاکہ وہ وقت آپہنچاہے جب امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستانی سینما اس مقام سے مزید اوپر جاسکتاہے۔

mehwish2

سوال: پاکستانی سینماؤں میں ابھی 7فلمیں لگی ہوئی ہیں۔ ان فلموں میں چار پاکستانی ہیں۔ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ لوگ ایکٹران لاء کیوں دیکھیں گے اور دیگر فلموں میں شاید اتنی دلچسپی نہ لیں؟

مہوش:میں صرف یہ کہنا چاہوں گی کہ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان اور دنیابھر میں میرے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ مجھے چاہنے والے افراد ٹی وی اور فلم میں میرے کام کی وجہ سے مجھے پسند کرتے ہیں۔ فہد کا بھی بہت بڑا فین سرکل ہے۔ یہ بھی سب سے اہم وجہ ہےکہ لوگ ایکٹر ان لاء کو دیگر فلموں پر ترجیح دیں گے۔ جن لوگوں نے نا معلوم افراد فلم کو پسند کیا وہ ایکٹر ان لاء میں بھی دلچسپی لیں گے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ فضا علی مرزا اور نبیل قریشی  کتنے باصلاحیت ہیں۔ کسی کی بات سن کر یقین کرنا بھی کامیابی کی ضمانت ہے۔مجھے یقین ہےکہ کئی افراد متعدد بار یہ فلم دیکھنے ضرور آئیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube