Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

سونا: دھات سے زیور تک

SAMAA | - Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

زیورات پہننے کا تصور انسانی زندگی کے ہر دور میں رہا ہے، سونا دنیا کی قیمتی دھاتوں میں اپنے خوبصورت سنہرے رنگ کے ساتھ اہم خصوصیات بھی رکھتا ہے۔ یہ دوسری دھاتوں کی بہ نسبت کم درجہ حرارت پر پگھل جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کو زیورات میں باآسانی ڈھالا جاسکتا ہے۔

 خالص سونا جو کہ 24 قیراط کا ہوتا ہے، اس کا زیور بناتے وقت تانبا، چاندی کی رتی کے حساب سے ملاوٹ کی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے سونے کو 12 سے 22 قیراط  بنایا جاتا ہے، جس سے سونے کی رنگت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، اس کے علاوہ پرانے سونے کو دوبارہ ریفائن کرکے بھی قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔

پرانے دور میں زیورات بنانے کا کام ہاتھوں سے کیا جاتا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشینیں آنے سے اس کام میں جدت آئی، جس کے باعث کام زیادہ معیاری اور ڈیزائن کے اعتبار سے مزید اچھا ہوتا جارہا ہے۔

زیورات کی تیاری کے کئی مرحلے ہوتے ہیں۔ مختلف کاریگر مہارت کے ساتھ اس کام کو پایہٴ تکمیل تک پہنچاتے ہیں، کوئی چھلائی کرتا ہے اور کوئی نگینے جڑ کر پالش کرتا ہے، تاہم مہنگائی بڑھنے سے لوگوں کی زیورات خریدنے میں عدم دلچسپی میں اضافہ ہوا اور اس پیشے سے وابستہ بے شمار کاریگر اب یہ کام چھوڑ کر دوسرے کام کرنے پر مجبور ہوگئے۔

پاکستان میں شادی بیاہ کے موقع پر سونا دینے کا رواج عام ہے لیکن موجودہ دور میں عام آدمی کی قوت خرید متاثر ہونے کے باعث اس میں کافی حد تک کمی آئی ہے، جس سے سُنار برادری کے کاروبار پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔

رپورٹ : دانش علی عابدی

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube