Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بڑی مندی

SAMAA | - Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

bitcoin1

کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب (پاکستانی وقت کے مطابق) غیر معمولی مندی دیکھنے میں آئی اور 12بجے کے بعد شروع ہونے والی مندی رات بھر برقرار رہی۔

اسکے بعد دن میں مزید گراوٹ کا سلسلہ رک گیا لیکن رات بھر مندی کے باعث سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن جس کی قیمت جمعہ کو 57ہزار482 ڈالر تھی گرتے ہوئے 45ہزار632 ڈالر ہوگئی یعنی ایک ہی رات میں (جو کئی ممالک میں دن تھا) بٹ کوائن کی قیمت 11580 ڈالر کم ہوگئی۔

اسی طرح بٹ کوائن کی کل سرمایہ کاری مالیت بھی 1012ارب ڈالر سے کم ہوکر 896ارب ڈالر ہوگئی یعنی بٹ کوائن کی مالیت میں 126ارب ڈالر کی کمی آگئی۔

ہفتہ کو بعد میں بٹ کوائن 46ہزار اور 47ہزار ڈالر کے درمیان ٹریڈ کرتا رہا لیکن اس سے آگے بڑھنے میں مزاحمت دیکھی جا رہی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ قیمت میں کمی کا سلسلہ پھر شروع ہوسکتا ہے۔

بٹ کوائن کے ساتھ ساتھ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں میں بھی غیر معمولی مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران دوسری بڑی ڈیجیٹل کرنسی ایتھریم کی قیمت 15فیصد سے زائد گر گئی اور ایک ایتھریم 3800ڈالر کی سطح پر آگیا۔ اسی طرح شیبا انو کی قیمت میں 16فیصد، سول میں 18فیصد، کاردانو میں 18فیصد، مانا 24فیصد، پولکا ڈاٹ 22فیصد اور ڈوجی کوائن 21فیصد تک گر گیا۔

مجموعی طور پر تقریباً تمام ہی ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمت گرنے سے کرپٹو کی کرنسی مارکیٹ کی مالیت 300ارب ڈالر سے زائد کم ہوگئی ہے اور کرپٹو کرنسیوں کی قیمتیں دو ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں ہیں۔ ٹریڈنگ کے دوران فروخت کا زبردست دباوٗ دیکھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کرپٹو مارکیٹ کے آئندہ 24گھنٹوں کے دوران بھی مندی برقرار رہنے کا قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

ڈیجیٹل کرنسیوں میں مندی کی وجہ ایک بڑے مالیاتی ادارے کی جانب سے سرمایہ کاری کے حوالے سے معتبر تجزیہ کار کے حوالے سے جاری پیشگوئی ہے جس کے مطابق اسٹاک اور کرپٹو کرنسی مارکٹیں مندی کا شکار ہوں گی اور بٹ کوائن 10ہزار ڈالر کی سطح پر آسکتا ہے۔

کرپٹو کرنسی مارکیٹ پہلے ہی سست روی کا شکار تھی اور آگے بڑھنے کے لیے ٹریگر نہ ملنے کے باعث بٹ کوائن 57 اور 58ہزار ڈالر کے درمیان ٹریڈ کر رہا تھا اور 60ہزار ڈالر کی سطح پر بھی مزاحمت کا سامنا تھا تاہم 55 ہزار ڈالر کے لیول پر سپورٹ مل رہا تھا لیکن مزکورہ پیشگوئی سے سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں قیمتیں کم ہونی شروع ہوئی اور کئی گھنٹوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

اس کے علاوہ ایک مائننگ ادارے کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ماہ نومبر کے دوران 196بٹ کوائن پروڈیوس ہوئے جب کہ اس کے مقابلے میں اکتوبر میں 417.7بٹ کوائن بنائے گئے تھے یعنی اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں بٹ کوائن نصف سے بھی کم تیار ہوئے جس کی وجہ مائننگ سسٹم کی اپ گریڈیشن بتائی جارہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس رپورٹ پر بھی سرمایہ کاروں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر میں بٹ کوائن 66ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور بٹ کوائن میں مجموعی سرمائے کی مالیت 1243ارب ڈالر تک پہنچ گیا جس کے بعد نومبر میں بٹ کوائن 90ہزار ڈالر اور دسمبر کے آخر تک ایک لاکھ ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی کی جارہی تھی لیکن بعد میں اوپر کی جانب گامزن سفر نیچے کی طرف شروع ہوگیا اور نومبر میں 60ہزار کے آس پاس بٹ کوائن ٹریڈ کرتا رہا لیکن دسمبر میں 50ہزار کی سطح سے بھی نیچے آگیا اور اب نیچے کی جانب بٹ کوائن 30ہزار ڈالر تک جانے اور اوپر کی جانب 50ہزار ڈالر کے اندازے لگائے جارہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube