Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سال کی بدترین مندی، آخر کیوں؟

SAMAA | - Posted: Dec 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو شدید مندی دیکھنے میں آئی اور سیمنٹ سیکٹر میں حصص فروخت کا سلسلہ فرٹیلائزر، ٹیکنالوجی کے شیئرز تک بھی جا پہنچا اور بعد ازاں کوئی ایسا شعبہ نہ بچا جس کے شیئرز کی قیمتوں میں گراوٹ نہ آئی ہو۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کے دوران شیئرز فروخت کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 282 پوائنٹس کی کمی سے 43 ہزار 89 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

مندی کا رجحان ٹریڈنگ کے اختتام تک برقرار رہا اور انڈیکس 2 ہزار 134 پوائنٹس کی کمی سے 43 ہزار 234 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اسٹاک مارکیٹ میں غیرمعمولی منفی اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر 365 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں 338 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرگئیں اور صرف 16 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11 کمپنیاں ایسی رہیں جن کے شیئرز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کے نرخ گرنے سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں ایک ہی دن میں 3 کھرب 32 ارب 26 کروڑ 74 لاکھ روپے کی کمی آئی۔

واضح رہے کہ جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ میں مندی رواں سال کے کسی بھی ایک دن میں سب سے بڑی مندی ہے، اس سے قبل گزشتہ سال 29 مارچ 2020ء کو بھی کرونا وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً اتنے ہی پوائنٹس ایک دن میں گرے تھے لیکن اس وقت انڈیکس 28 ہزار کی سطح پر تھا، اس لئے مارکیٹ گرنے کی شرح جمعرات کے مقابلے میں کم تھی۔

اسٹاک مارکیٹ کیوں گری؟

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو سال کی ایک دن میں بدترین مندی کا ریکارڈ قائم ہوگیا اور کئی کمپنیوں کے شیئرز لوئر لاک لگنے کے باعث بچ گئے نہیں تو خدشہ تھا کہ ان شیئرز کی قیمتیں مزید گر جاتیں جبکہ اس سے ایک روز قبل یعنی بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں 300 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔

آخر مارکیٹ کی اس قدر بڑی گراوٹ کی وجہ کیا ہے؟، اس بارے میں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بڑی وجہ نومبر میں پاکستان کی درآمدات 8 ارب ڈالر تک پہنچنا ہے جو کسی بھی ایک ماہ کی درآمدات کا ریکارڈ ہے، جس کی وجہ سے نومبر میں تجارتی خسارہ 5 ارب ڈالر اور رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں 20.75 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

مزید جانیے: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر بلند ترین سطح پر

اس کے علاوہ دوسری بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے متوقع شرح سود میں مزید اضافہ ہے، جس کے امکانات جمعرات کو کئی گنا بڑھ گئے ہیں کیونکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یکم دسمبر کو جو ٹریژری بلز جاری ہوئے اس پر کامیاب آکشنز کے نتائج کے مطابق 3 ماہ کے ٹی بلز پر منافع کی شرح 10.39 فیصد اور 6 ماہ کے ٹی بلز پر 11.05 فیصد ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اسٹیٹ بینک 14 دسمبر کو آنیوالی مانیٹری پالیسی میں شرح سود ایک سے ڈیڑھ فیصد تک مزید بڑھا سکتا ہے، گزشتہ ماہ بھی شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کیا گیا تھا اور شرح سود 8.5 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔

شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات مہنگائی کی رفتار سے بھی بڑھ رہے ہیں، مہنگائی کی شرح نومبر میں 11.5 فیصد ہوگئی ہے جو گزشتہ 21 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

صورتحال میں بہتری کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

 اس وقت سب سے بڑا مسئلہ درآمدات کا ہے جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر گررہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے پڑیں گے، برآمدات میں اضافہ اتنا آسان نہیں لیکن حکومت اگر درآمدات کو کم کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کرے تو صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔

اس کے علاوہ ڈالر کی طلب میں اضافے، سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر موصول ہونے اور آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے تحت قسط ملنے سے بھی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube