Tuesday, November 30, 2021  | 24 Rabiulakhir, 1443

دودھ کی قیمت کیا ہونی چاہئے؟، کل اجلاس طلب

SAMAA | - Posted: Nov 25, 2021 | Last Updated: 5 days ago
SAMAA |
Posted: Nov 25, 2021 | Last Updated: 5 days ago

کمشنر کراچی نے 26نومبر کو دودھ کی قیمت کے تعین کیلئے اجلاس طلب کرلیا، جس میں ڈائریکٹر بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک، ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی، تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈیری فارمرز نمائندے شرکت کریں گے۔

ڈیری شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کمشنر کراچی نے اجلاس عدالت کے حکم پر طلب کیا ہے، عدالت عالیہ کی جانب سے دودوھ کی قیمت کے تعین اور دیگر امور سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایک لیٹر دودوھ کی لاگت کیا آتی ہے؟

 شہر بھر میں اس وقت فی لیٹر دودوھ 140روپے میں فروخت ہورہا ہے اور سرکاری ریٹ 94 روپے لیٹر مقرر ہیں، تاہم ڈیری فارمرز کی جانب سے 140روپے فی لیٹر قیمت کو بھی ناکافی قرار دیا جارہا ہے اور 26 نومبر کے اجلاس کیلئے ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کی جانب سے فی لیٹر دودھ کی جو لاگت نکالی گئی ہے، اس کے مطابق ایک لیٹر دودھ کی لاگت 155.13 روپے بنتی ہے، جس میں ڈیری فارمرز، ہولسیلرز اور ریٹیلرز کا منافع شامل نہیں ہے، اگر منافع بھی شامل کیا جائے تو شہریوں کیلئے دودوھ کی قیمت 180 روپے تک پہنچ جائے گی۔

دوسری جانب لائیو اسٹاک نے بھی فی لیٹر لاگت تیار کرلی ہے، جس کے مطابق ایک لیٹر دودھ کراچی میں 133 روپے، حیدرآباد میں 127 روپے، سکھر 87 روپے، شہید بے نظیر آباد 92 روپے اور میرپورخاص 102 روپے بنتی ہے، اس لاگت میں بھی منافع شامل نہیں ہے۔

صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن محمد شاکر عمر گجر کا کہنا ہے کہ منافع شامل ہونے کے بعد شہریوں کیلئے ایک لیٹر دودوھ کی قیمت 178 روپے بنتی ہے، جس کے مطابق نوٹی فکیشن جاری کرنا چاہئے۔

سرکاری سطح پر ریٹ کا 3 سال سے تعین نہیں ہوا

دودوھ کی قیمت کا تعین 27 مارچ 2018ء کو ہوا تھا اور فی لیٹر دودھ کے ایکس ڈیری ریٹ 85 روپے اور شہریوں کیلئے 94 روپے مقرر کئے گئے تھے۔

اس سرکاری ریٹ کا نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد ڈیری فارمرز نے اس قیمت کو مسترد کردیا تھا اور اپنے نرخ چلانے شروع کردیئے تھے، یہاں تک کہ مارکیٹ میں ایک لیٹر دودوھ 140 روپے تک پہنچ گیا۔

ملک ریٹیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالوحید گدی کا کہنا ہے کہ 2018ء سے اب تک بھینسوں کی قیمتوں، چارے اور دیگر اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے لیکن انتظامیہ چاہتی ہے کہ اب بھی 2018ء کے مطابق دودوھ فروخت کیا جائے جو ممکن نہیں ہے۔

ڈیری شعبے سے منسلک افراد کا خیال ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے جان بوجھ کر قیمتوں کا تعین نہیں کیا جاتا تاکہ سرکاری ریٹ سے زیادہ قیمتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ڈیری فارمرز کو بلیک میل اور ریٹیلرز سے جرمانے اور رشوت وصول کرسکیں۔

سرکاری سطح پر دودوھ کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہئے؟

ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ ان کی فی لیٹر لاگت موجودہ 140 روپے لیٹر سے بھی زیادہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ یا تو وہ لاگت زیادہ بتارہے ہیں یا منافع کمانے کے دیگر راستوں کو اختیار کیا جاتا ہے۔ ڈیری شعبے کو سمجھنے والے افراد کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیری شعبے کی لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جس کو دیکھتے ہوئے دودوھ کی سابقہ قیمت 94 روپے لیٹر کم ہے، جس کو بڑھانا ضروری ہے بلکہ موجودہ 140 روپے بھی کردیا جائے تو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ شہری اسی نرخ پر ویسے بھی دودھ خرید رہے ہیں۔

دودھ کی قیمت میں سرکاری سطح پر اگر اس حد تک اضافہ کیا جائے کہ شہریوں پر بھی بوجھ نہ پڑے اور ڈیری شعبے کو بھی اس سے ترقی ملے تو نئے لوگ بھی اس جانب بڑھیں گے۔ ڈیری سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ اہم مسئلہ دودھ میں ملاوٹ اور وزن میں ہیر پھیر کا ہے۔ انتظامیہ کو قیمت سے زیادہ معیار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اگر زیادہ قیمت دیکر بھی صارفین کو خالص دودھ نہیں ملتا تو یہ بہت زیادتی ہوگی۔

اجلاس میں قیمت کا تعین نہیں ہوا تو؟

ڈیری فارمر شاکر عمر کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نئی قیمتوں کا تعین اور نوٹی فکیشن جاری ہونا چاہئے لیکن اگر نہیں ہوا یا ہماری لاگت سے کم ہوا تو ہم مجبوراً اپنی قیمتوں پر دودھ فروخت کریں گے۔

کیا دودوھ کی قیمت مزید بڑھائی جائے گی؟

شاکر عمر کے مطابق موسم سرما میں دودھ کی کھپت کم ہوتی ہے اس لئے فوری طور پر قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا لیکن مارچ میں قیمت بڑھائی جائے گی۔

عبدالوحید گدی کے مطابق اجلاس میں قیمت پر اتفاق رائے ہونا مشکل نظر آرہا ہے، اجلاس عدالتی دباؤ میں بلایا گیا ہے جس کی رپورٹ جمع کرانی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube