Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 4.2ارب ڈالر کا اعلان

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Pakistan, Saudi Arabia

فوٹو: وزیراعظم آفس پاکستان/ٹویٹر

سعودی عرب نے پاکستان کو کرونا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے چار ارب 20کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی ترقیاتی فنڈ نے پاکستان کو سالانہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل دینے اور اسٹیٹ بینک آف  پاکستان کے پاس تین ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے اپنی ٹویٹ پیغام میں کہا کہ اس تیل کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ادائیگی بھی نہیں کرنی ہوگی اور یہ سہولت موخر ادائیگی کی صورت میں دستیاب ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ سعودی ترقیاتی فنڈ کے ان اقدامات سے قیمتوں کی عالمی سطح پر اضافے سے پاکستان کی درآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر پر جو دباو پڑا ہے اس سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اس وقت ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 176.20 روپے ٹریڈ کر رہا ہے جس سے درآمدی بل میں بھی اضافہ ہوا ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

ڈالر کی قیمت 2 جولائی کو 157.95 روپے تھی جس میں پچھلے چار ماہ میں 18.25 روپے یا 12 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.6 ارب ڈالر کی کمی

اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 15 اکتوبر کو 17.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے تھے جو کہ 8 اکتوبر کو موجود 19.1 ارب ڈالر ذخائر کے مقابلے میں 1.6 ارب ڈالر کم ہیں۔ 

اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر 24.3 ارب ڈالر ہیں جن میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 6.8 ارب ڈالر ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ذخائر میں کمی بنیادی طور پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی ہے جس میں پاکستان انٹرنیشنل سکوک کے مد میں ایک ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی شامل ہیں۔

وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب

واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس معاشی پیکیج کا اعلان وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے بعد کیا گیا ہے۔

عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر رواں ہفتے سعودی عرب کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد موجود تھا جس میں مشیر خزانہ، وزیر خارجہ اور وزیر توانائی بھی شامل تھے۔

پس منظر

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سعودی عرب اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بڑی رقم جمع کرے گا یا تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت پیش کرے گا، موخر ادائیگی کی سہولت 1998 میں شروع ہوئی جب پاکستان کو جوہری تجربات کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سال 2014 میں سعودی عرب نے ادائیگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک میں 1.5 بلین ڈالر جمع کرائے تھے۔

بعد ازاں 2018 میں پی ٹی آئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے تھے اور تین سال کے لیے سالانہ 3.2 ارب ڈالر کی تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت بھی دی۔ تاہم مئی 2020 میں نو ماہ بعد یہ سہولت اچانک واپس لے لی گئی۔

سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کرائے گئے 3 ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر بھی واپس لے لیے جس کی ادائیگی کے لیے پاکستان کو چین سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ لینا پڑا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube