Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

SAMAA | - Posted: Oct 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago

PSX low

ملکی معاشی مشکلات اور آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کی غیر واضح صورتحال کے حصص مارکیٹ پر بھی منفی اثرات دیکھنے میں آئے، جمعہ کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 243 پوائنٹس گر گیا۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا اور ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 640 پوائنٹس کی کمی سے 45 ہزار 180 پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا تاہم دوسرے ٹریڈنگ سیشن میں ریکوری آنے سے مندی کے اثرات محدود ہوگئے اور انڈیکس 243.04 پوائنٹس کی کمی سے 45 ہزار 578.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔

پی ایس ایکس میں آج 347 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں 211 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 127 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ 9 کمپنیوں کے شیئرز کے نرخ مستحکم رہے۔

رپورٹ کے مطابق بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی آنے کے سبب مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں 34 ارب 9 کروڑ 91 لاکھ  روپے کی کمی ہوئی۔

سب سے زیادہ اضافہ سیپ ہائر کے شیئرز میں ریکارڈ کیا گیا، جس کے ایک شیئر کی قیمت 74.50 روپے کے اضافے سے 1195 روپے ہوگئی اور رفحان میز کے شیئرز کی قیمت بھی 60.01 روپے کے اضافے سے 10 ہزار 350 روپے ہوگئی جبکہ نیسلے پاکستان کے شیئرز کی قیمت 80 روپے کی کمی سے 5 ہزار 720 روپے اور وائتھ پاک کے شیئرز کی قیمت 55.32 روپے کی کمی سے 1503.33 روپے ہوگئی۔

اسٹاک ماہرین کے مطابق جمعہ کو معاشی لحاظ سے کئی منفی خبریں گردش کرتی رہیں، خاص طور پر آئی ایم ایف سے مذاکرات میں تاحال پیشرفت سامنے نہ آنے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کی وجہ سے سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے دوچار نظر آئے۔

اس کے علاوہ پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور زرمبادلہ کے ذخائرمیں ایک ہفتے کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد کی کمی کے بھی مارکیٹ پر منفی اثرات دیکھنے میں آئے، جبکہ کاالعدم ٹی ایل پی کے لانگ مارچ کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے کے اندیشے بھی ظاہر کئے جارہے تھے جس کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری کے بجائے سرمایہ مارکیٹ سے نکالنے کو ترجیح دیتے نظر آئے۔ تاہم اس دوران منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں کم ہونے پر خریداری بھی کی گئی جس کے نتیجے میں مندی کے اثرات کم ہوگئے۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکس چینج انتظامیہ نے پیر سے نئے ٹریڈنگ سسٹم کا اعلان کردیا ہے جس کو سرمایہ کاروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کے مطابق تقریبا 2 عشروں کے بعد پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں نیا ٹریڈنگ سسٹم لایا جارہا ہے، جس سے ٹریڈنگ کی رفتار میں تیزی آئے گی، کارکردگی بہتر ہوگی اور شفافیت بڑھے گی۔

واضح رہے کہ پی ایس ایکس میں نیا ٹریڈنگ سسٹم چینی کمپنی کے اشتراک سے متعارف کرایا جارہا ہے، جس کو رواں سال مارچ میں آپریشنل ہونا تھا لیکن کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی بار اس کی تاریخ بڑھائی گئی اور اب بالآخر پیر 25 اکتوبر سے اس نئے ٹریڈنگ سسٹم کے تحت کاروبار ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube