Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.6ارب ڈالر کی کمی

SAMAA | - Posted: Oct 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago

Dollar-WEB-

اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 15 اکتوبر کو 17.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے جو کہ 8 اکتوبر کو موجود 19.1 ارب ڈالر ذخائر کے مقابلے میں 1.6 ارب ڈالر کم ہیں۔

اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر 24.3 ارب ڈالر ہیں جن میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 6.8 ارب ڈالر ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ذخائر میں کمی بنیادی طور پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی ہے جس میں پاکستان انٹرنیشنل سکوک کے مد میں ایک ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی شامل ہیں۔

ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضوں کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، اس نے مبینہ طور پر بین الاقوامی مارکیٹ میں بانڈز کی فروخت کے ذریعے 3.5 ارب ڈالر اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اگست میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) 2.75 ارب ڈالر مختص کیے جانے کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 20.15 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

 ایس ڈی آر سود کی بنیاد پر قائم ایک بین الاقوامی محفوظ ذخیرہ ہے جو آئی ایم ایف نے بنایا ہے، کرنسیوں کی ایک ٹوکری اس کی قیمت کا تعین کرتی ہے جبکہ امریکی ڈالر کے لحاظ سے ایس ڈی آر کی قیمت کا تعین روزانہ کیا جاتا ہے اسے رکن ممالک رکھ سکتے اور استعمال کرسکتے ہیں۔

آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کے بعد اسٹیٹ بینک اور ملکی تجارتی بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 27.23 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے ایس ڈی آر کی مد میں ملنے والی رقم اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر پہلی بار 20.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر کبھی بھی 20 ارب ڈالر سے تجاوز نہیں کر سکے۔ اسٹیٹ بینک 1998 سے ذخائر کے اعداد و شمار جاری کر رہا ہے۔ ذرائع مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر کبھی بھی اس سطح تک نہیں پہنچے تھے۔

پس منظر

جب پی ٹی آئی کی حکومت برسر اقتدار آئی، اس کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ملک میں ڈالر کے ذخائر کا کم ہونا تھا۔ پہلے چھ ماہ کے دوران حکومت کے پاس موجود ڈالر کے ذخائر اس سطح پر گر رہے تھے جو دو ماہ کی درآمدی بل ادا کرنے کے لیے بھی کم تھے۔ جبکہ ملک میں کم از کم تین ماہ کی درآمدی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے وافر مقدار میں ڈالر کے ذخائر ہونا ضروری ہے۔

تاہم 2019 میں پاکستان کے ذخائر 6 ارب ڈالر سے نیچے گرگئے اور پاکستان کو درآمدی ادائیگیوں کے لیے ڈالر کم پڑ گئے جس کے بعد ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا۔

 اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ 6ارب ڈالر کے بیل آؤٹ معاہدے پر دستخط کیے جوکہ قومی بحث کا موضوع بن گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے مالیاتی اداروں جیسے کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈنگ حاصل کی جس ڈالر کے ذخائر بڑھنے میں مدد ملی۔

زرمبادلہ کے زیادہ ذخائر ڈالر کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں معاون سمجھے جاتے ہیں۔ ڈالر کے ذخائر میں اضافہ روپے کی سطح کو مستحکم کرتا ہے۔

 پاکستان بیرون ممالک کے ساتھ بھی ڈالر میں تجارت کرتا ہے، اسکے علاوہ ڈالر کا بڑھنا اور کم ہونا صارفین کے سامان کی قیمتوں یا ملک میں افراط زر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube