Saturday, November 27, 2021  | 21 Rabiulakhir, 1443

اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے بعد مثبت رجحان

SAMAA | - Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago
PSX Down Khi Pkg 08-05

فائل فوٹو

اسٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 20اکتوبر کو کاروباری دن کے اختتام پر 870 پوائنٹس یعنی 1.95 فیصد اضافے کے بعد 45ہزار499 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوگیا۔

تجزیہ کار رضا جعفری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی تھیں جس سے عارضی طور پر اسٹاک مارکیٹ انڈیکس میں کمی دیکھی گئی تھی لیکن اب صورتحال واضح ہوگئی اور آئی ایم ایف کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جو مثبت انداز میں چل رہے ہیں جس کے بعد ریکوری دیکھنے میں آئی ہے اور انڈیکس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔

رضا جعفری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں ریکوری آئے گی کیونکہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کر رہا ہے جیسے بجلی کی قیمت میں 1.39 اضافہ کر دیا اور پیٹرول کی قیمت 10.49 سے بڑھا کر 137.79 روپے فی لیٹر کر دیا تو کوئی ایسا عنصر نہیں بچا جس سے اسٹاک مارکیٹ انڈیکس میں کمی ہو۔

تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے سینیر سفارت کار ڈونلڈ بلوم کو پاکستان کے لیے نیا سفیر نامزد کیا ہے اور ڈونلڈ بلوم کی پاکستان میں بطور سفیر تعیناتی کے لیے سینیٹ کی منظوری کی ضرورت ہوگی جس سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ پاک امریکا تعلقات میں بہتری آئے گی اس عنصر کا بھی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت اثر پڑا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اگست 2018 سے امریکا کا کوئی سفیر نہیں آیا تھا، آخری سفیر ڈیویڈ ہیل تھے۔

آئی ایم ایف کی شرائط کیا ہیں؟

واضح رہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے مزید ٹیکس لگانے سمیت کئی شرائط پیش کر چکا ہے، جمعہ 8 اکتوبر کو عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے بجلی، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور اضافی ریگولیٹری عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت مزید ایک روپے 40 پیسے مہنگی کرے کیونکہ بجلی کی قیمت بڑھا کر ہی گردشی قرضے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہونگے تاکہ سالانہ محصولات کا ہدف 58 کھرب روپے سے بڑھ کر 63 کھرب روپے تک کیا جاسکے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مزید کہا کہ حکومت ہر طرح کی سبسڈی ختم کرے یا اُس میں نمایاں کمی کرے اور ایف بی آر ریونیو اکٹھا کرنے کے حوالے سے مزید اقدامات کرے۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ نجکاری کے پروگرام کو تیز کیا جائے اور نقصان میں چلنے والی سرکاری کمپنیوں کی نیلامی کا ٹائم فریم فراہم کیا جائے۔

کچھ روز پہلے اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 7فیصد سے بڑھا کر 7.25 فیصد کر دیا تھا جس پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم پروگرام میں جانے سے پالیسی ریٹ بڑھانا پڑا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube