Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

SAMAA | - Posted: Oct 18, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 18, 2021 | Last Updated: 2 months ago
PSX

فوٹو: اے ایف پی

اسٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 18اکتوبر کو کاروبار کے دن کے آغاز میں 300 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد انڈیکس 44 ہزار 452 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ بعد ازاں انڈیکس میں تھوڑی ریکوری دیکھی گئی جس کے بعد انڈیکس 44 ہزار 629 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

تجزیہ کار رضا جعفری کے مطابق مارکیٹ میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کے پاکستان اور آئی ایم کے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد کچھ سرمایہ کاروں کی تشویش سرمایہ کاری کو لے کر بڑھ گئی تھی لیکن اس کے بات وزیر خزانہ شوکت ترین کا بیان سامنے آیا کہ حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور اسٹاک مارکیٹ میں کچھ ریکوری دیکھی گئی۔

رضا جعفری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں ریکوری آئے گی کیونکہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کر رہا ہے جیسے بجلی کی قیمت میں 1.39 اضافہ کر دیا اور پیٹرول کی قیمت 10.49 سے بڑھا کر 137.79 روپے فی لیٹر کر دیا تو کوئی ایسا عنصر نہیں بچا جس سے اسٹاک مارکیٹ انڈیکس میں کمی ہو۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات

وزیر خزانہ شوکت ترین پیر 11 اکتوبر کی رات قرض پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکا روانہ ہوئے۔

مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملنے کا امکان ہے۔ پاکستان کو 6ارب ڈالر کے قرض پروگرام میں سے 2ارب ڈالر پہلے ہی مل چکے ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 13اکتوبر سے شروع ہوئے جو تین دن تک جاری رہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط

واضح رہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے مزید ٹیکس لگانے سمیت کئی شرائط پیش کر چکا ہے، جمعہ 8 اکتوبر کو عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے بجلی، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور اضافی ریگولیٹری عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت مزید ایک روپے 40 پیسے مہنگی کرے کیونکہ بجلی کی قیمت بڑھا کر ہی گردشی قرضے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہونگے تاکہ سالانہ محصولات کا ہدف 58 کھرب روپے سے بڑھ کر 63 کھرب روپے تک کیا جاسکے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مزید کہا کہ حکومت ہر طرح کی سبسڈی ختم کرئے یا اُس میں نمایاں کمی کرے اور ایف بی آر ریونیو اکٹھا کرنے کے حوالے سے مزید اقدامات کرے۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ نجکاری کے پروگرام کو تیز کیا جائے اور نقصان میں چلنے والی سرکاری کمپنیوں کی نیلامی کا ٹائم فریم فراہم کیا جائے۔

کچھ روز پہلے اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 7 فیصد سے بڑھا کر 7.25 فیصد کر دیا تھا جس پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم پروگرام میں جانے سے پالیسی ریٹ بڑھانا پڑا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube