Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

اسٹیٹ بینک کی کارفنانسنگ پر نئی پابندیوں کا کیامطلب ہے؟

SAMAA | - Posted: Sep 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان میں بینک کار فنانسنگ کے ذریعے گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کو آئندہ سے زرِ بیعانہ کے طور پر دوگنی رقم ادا کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ نے 20 لاکھ روپے کی کار خریدنے کا فیصلہ کیا ہے تو آپ کو 6 لاکھ روپے ایڈوانس میں ادا کرنے ہوں گے۔ اس سے قبل زر بیعانہ کی مد میں صارف کو 3 لاکھ روپے ادا کرنے ہوتے تھے۔

اس کی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے زر بیعانہ کی مد میں ادائیگی کو 30 فیصد کرنا ہے جو اس سے قبل 15 فیصد تھی، کار لون کی ادائیگی کی مدت بھی 7 سال سے کم کرکے 5 سال کردی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کو باقی رقم کی ادائیگی کیلئے بھی کم وقت ملے گا اور ماہانہ قسط کی رقم بھی بڑھ جائے گی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے کار فنانسنگ کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی سے قبل کسی بھی صارف کو 20 لاکھ روپے کی گاڑی پر ایڈوانس کی مد میں 3 لاکھ روپے اور ماہانہ 20 ہزار 239 روپے (7 سال یا 84 ماہ میں) ادا کرنے ہوتے تھے تاہم اب ایڈوانس کی رقم 6 لاکھ روپے اور ماہانہ قسط 23 ہزار 334 روپے (5 سال یا 60 ماہ میں) ادا کرنے ہوں گے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیٹ برڈن کی شرح بھی 50 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کردی ہے۔ اگر کوئی شخص کی آمدن ایک لاکھ روپے تک ہے تو وہ اس شرح میں کمی کے باعث ماہانہ 40 ہزار روپے کی اقساط کی ادائیگی کے قابل تصور ہوگا جبکہ اس سے قبل وہ شخص 50 فیصد ڈیٹ برڈن ریشو کے باعث 50 ہزار روپے ماہانہ اقساط کیلئے کوالیفائی کرتا تھا۔

مرکزی بینک نے کار فنانسنگ کی حد بھی 30 لاکھ روپے تک محدود کردی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اب 30 لاکھ روپے سے زائد کی گاڑی کی خریداری کیلئے لون نہیں لے سکتا۔

کون سی گاڑیاں زیادہ متاثر ہوں گی؟

ماہرین کے مطابق نئی پابندیاں ایسی بڑی گاڑیاں جن کی قیمت 40 لاکھ روپے تک ہو، کی طلب پر اثر انداز ہوں گی۔ اس سے متاثرہ گاڑیوں میں سیڈان کیٹیگری کی ہونڈا سوک، ٹویوٹا کرولا، ہنڈائی ایلانترا، سوناٹا اور کراس اوورز میں کیا اسپورٹیج، ہونڈائی ٹکسن، ایم جی موٹرز کی ایم جی ایچ ایس اور ٹویوٹا فورچونر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں پر درآمد شدہ گاڑیوں پر کیلئے آٹو فنانسنگ کی سہولت پر بھی پابندی عائد کردی ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ سے میرا، ڈیز، وٹز اور ایکوا اب بینک آٹو فنانسنگ کے ذریعے  خریدی نہیں جاسکیں گی۔

ریسرچ انالسٹ طٰہٰ مدنی کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فیصلہ صارف کیلئے بنیادی طور پر پسند کے مواقع کم کردے گا، ایسے لوگ جو آٹو فنانسنگ کے ذریعے کار خریدنا چاہتے ہیں اب مقامی سطح پر تیار گاڑیاں خریدنے تک محدود ہوجائیں گے۔

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد ان پابندیوں کے نتیجے میں درآمدی کار کے شعبے کی فروخت میں 20 فیصد تک کمی آئے گی، کیونکہ درآمدی گاڑیوں کے تقریباً 20 فیصد خریدار آٹو فنانسنگ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

تجزیہ کار طٰہٰ مدنی کا کہنا ہے کہ درآمدی گاڑیوں کیلئے فنانس رکھنے والے افراد کو اب بالخصوص ایک ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی مقامی سطح پر تیار گاڑیوں کی طرف جانا ہوگا۔

اسٹیٹ بینک نے آٹو فنانسنگ پر پابندیاں کیوں عائد کیں؟

مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک وجہ درآمدات میں اضافہ ہے جبکہ برآمدات اس تیزی سے نہیں بڑھ رہیں جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ اگست میں تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جس سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر بھی دباؤ میں ہے۔

پاکستان کا آٹو سیکٹر بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، گاڑیاں بنانے کیلئے اسٹیل اور کئی ضروری پارٹس جو انجن میں استعمال ہوتے ہیں درآمد کئے جاتے ہیں۔

سینئر ریسرچ انالسٹ احمد لاکھانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ  پاکستان کا آٹو سیکٹر بنیادی طور پر ایسے پرزے درآمد کرتا ہے جو کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ اس کا مطلب ہے ایسے پرزے جن کی پیداوار کیلئے مشینری میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مہنگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اوسطاً دیکھیں تو مقامی سطح پر تیار ہونیوالی کاروں میں 50 سے 70 فیصد تک درآمد شدہ پرزے ہوتے ہیں لیکن اگر ہم درآمدی پرزوں کی قیمت کا اندازہ لگائیں تو میرا خیال ہے کہ یہ کار کی کل قیمت کے 80 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

ایچ ایم شہزاد کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال گاڑیوں کی فروخت کا تقریباً نصف آٹو فنانسنگ کے ذریعے ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اسٹیٹ بینک نے کرونا وباء کے دوران شرح سود 13.25 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کردیا تھا، آٹو فنانسنگ کیلئے بینک کی شرح 17 فیصد کی بلند سطح سے کم ہوکر 10 فیصد اور 11 فیصد رہ گئی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ گاڑیوں کی طلب میں کمی کے ذریعے درآمدات میں کمی کیلئے کیا ہے، تاکہ تجارتی خسارہ بھی کم ہوسکے۔

مرکزی بینک کے مطابق یہ اہدافی قدم معیشت میں طلب کی شرح کو اعتدال میں لانے میں مدد دے گا، جس کے باعث درآمد کی رفتار میں کمی ہوگی اور ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے توازن میں بھی مدد ملے گی۔

نئے اقدامات سے کونسی کاریں متاثر نہیں ہوں گی؟

آٹو فنانسنگ پر عائد نئی پابندیوں سے ایک ہزار سی سی اور اس سے کم انجن صلاحیت کی حامل گاڑیاں مثلاً سوزوکی آلٹو، کلٹس، ویگن آر، کیا پکانٹو اور یونائیٹڈ براوو شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ وہ درمیانے اور کم آمدنی والے گروپ کا تحفظ چاہتا ہے، نئے قواعد و ضوابط نسبتاً کم قیمت ایک ہزار سی سی اور اس سے نچلے سیگمنٹ پر لاگو نہیں ہوں گے۔

کار فنانس سے متعلق نئے قواعد و ضوابط مقامی سطح پر تیار کی جانیوالی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی لاگو نہیں ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس کا مقصد صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

ان دونوں کیٹیگریز کی گاڑیوں کیلئے فنانسنگ پچھلے قواعد و ضوابط کے مطابق جاری رہے گی۔

اسٹیٹ بینک کا مزید کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی حوصلہ افزائی اور ان اکاؤنٹس کے حامل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کیلئے روشن اپنی کار پراڈکٹس کیلئے بھی ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube